ای سی سی کی تجارت کیلئے افغانستان سے منسلک سرحد پر ایک اور 'کراسنگ' کھولنے کی منظوری

اپ ڈیٹ 24 ستمبر 2020

ای میل

یہ بارڈرکھولنے سے کورونا وبا کی وجہ سے عائد پابندیوں کے باعث سامان لے جانیوالے ٹرکوں کو جانے میں بہت مددملی تھی۔
یہ بارڈرکھولنے سے کورونا وبا کی وجہ سے عائد پابندیوں کے باعث سامان لے جانیوالے ٹرکوں کو جانے میں بہت مددملی تھی۔

اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے افغانستان کے ساتھ تجارت کے لیے ایک اور بارڈر کراسنگ خرلاچی کو کھولنے کے لیے نوٹیفکیشن کی منظوری دے دی، منتخب ٹیکسٹائل اشیا پر ڈیوٹی ختم کردی اور جوہری پاور پلانٹس کے لیے چینی قرضوں پر 13 ارب روپے کی ضمانتی فیس معاف کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت ای سی سی نے صوبوں کی جانب سے تقریبا 10 ارب روپے کی ویکسین کی خریداری اور پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کی بھی منظوری دی۔

ای سی سی نے افغانستان کو برآمدات کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان خرلاچی بارڈر کراسنگ کو 'ری بیٹ ایبل بارڈر پوائنٹ' قرار دینے کے لیے نوٹیفیکشن کے اجراء کی اجازت دے دی۔

قبل ازیں یہ بارڈر کھولنے سے کورونا وبا کی وجہ سے عائد پابندیوں کے باعث سامان لے جانیوالے ٹرکوں کو جانے میں بہت مدد ملے گی۔

مزید پڑھیں: ای سی سی نے کراچی کیلئے بجلی کے نرخوں میں اضافے کی منظوری دے دی

اجلاس میں بین الاقوامی منڈیوں میں بہتر قیمتوں، مصنوعات کی تنوع اور قیمتوں میں اضافے کے لیے ٹیکسٹائل آئٹمز میں انسانی ہاتھوں سے بنے فائبرز کا حصہ بڑھانے کے لیے ٹیکسٹائل اشیا کے منتخب شدہ ہم آہنگی کوڈز پر اضافی کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو ختم کرنے کی بھی اجازت دے دی۔

اس استثنیٰ کا مجموعی ریونیو اثر 53 کروڑ 30 لاکھ روپے ہوگا۔

ای سی سی نے ترقیاتی بجٹ سے 9 ارب 90 کروڑ روپے وفاقی توسیعی پروگرام برائے امیونائزیشن کے لیے تکنیکی گرانٹ کے ذریعے منتقل کرنے کی منظوری بھی دے دی۔

اس سے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں رکاوٹ سے بچنے کے لیے رواں مالی سال میں ویکسین کی خریداری میں آسانی ہوگی۔

اجلاس میں کراچی میں قائم نیوکلیئر پاور پلانٹس (کے-2 اور کے-3) کے ہر ایک ہزار ایک سو میگاواٹ کے غیر ملکی قرضوں پر ضمانتی فیس بھی معاف کردی گئی۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) اور اکنامک افیئرس ڈویژن (ای اے ڈی) کی تیار کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اس چھوٹ کے ذریعے عام عوام کو فی کلو واٹ 0.07 روپے فی کس فائدہ ہوگا۔

ای سی سی نے ہنگامی آپریشنز کے ذریعے ملک کے 12 ماہ تک ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کووڈ 19 کے تناظر میں پاکستان نیشنل ایمرجنسی پریپئرڈنس اینڈ رسپانس پلان کے لیے فنڈز کی ری لینڈنگ سے استثنیٰ کی اجازت دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: ای سی سی نے زراعت، ہاؤسنگ کے لیے 49 ارب روپے کی سبسڈی کی منظوری دے دی

پروگرام کو چلانے کے لیے ایشیائی ترقیاتی پروگرام 10 کروڑ ڈالر کا قرضہ فراہم کرے گا، ناروے کی حکومت ایشیائی ترقیاتی بینک کے ذریعے مزید 50 لاکھ ڈالر کی گرانٹ فراہم کرے گی۔

اس پراجیکٹ کے لیے مالی معاونت کے ضمن میں وزارت اقتصادی امور اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان پہلے سے قرضہ کے معاہدے پر دستخط ہوچکے ہیں۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی اور عدالتوں سے رجوع نہ کرنے والے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی کلئیرنس کے ضمن میں وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے دو سمریاں پیش کی گئی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مالی سال 21-2020 کے لیے پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 3 ارب 85 کروڑ روپے کی منظوری دی۔

دوسری سمری پر ای سی سی نے اس بات سے اصولی طور پر اتفاق کیا کہ عدالتی چارہ جوئی میں نہ جانیوالے ریٹائرڈ ملازمین کے بقایا جات ادا کرنے چاہئیں تاہم ای سی سی نے ریٹائرڈ ملازمین کے بقایاجات کی نوعیت اور دیگر تفصیلات کے بارے میں وزارت صنعت وپیداوار سے تفصیلی رپورٹ طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔

قبل ازیں اجلاس کو بتایا گیا کہ اس ماہ کے اوائل میں پاکستان اسٹیل ملز کے ریٹائرڈ ملازمین کو بقایاجات کی مد میں 12 ارب 74 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کیے گئے ہیں تاہم سندھ ہائی کورٹ نے قانونی چارہ جوئی نہ کرنے والے ریٹائرڈ ملازمین کو ادائیگی کرنے کے لیے کہا ہے جس سے وفاقی حکومت پر 11 ارب 68 کروڑ روپے کے مزید اخراجات عائد ہوں گے۔