نیشنل آرٹ گیلری سے 10 پینٹنگز آرٹسٹ کے ورثا کو واپس کرنا 'چوری' قرار

اپ ڈیٹ 24 ستمبر 2020

ای میل

فنکاروں  نے وزیراعظم عمران خان  سے نیشنل آرٹ گیلری سے اے جے شمزا کی 10 پینٹنگز ہٹانے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا—فائل فوٹو:  فیس بک
فنکاروں نے وزیراعظم عمران خان سے نیشنل آرٹ گیلری سے اے جے شمزا کی 10 پینٹنگز ہٹانے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا—فائل فوٹو: فیس بک

اسلام آباد: فنکاروں نے وزیراعظم عمران خان اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے سربراہ سے نیشنل آرٹ گیلری سے اے جے شمزا کی 10 پینٹنگز ہٹانے پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے جو مرحوم آرٹسٹ کی بھتیجی ہونے کا دعویٰ کرنے والی خاتون کو دے دی گئیں۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ڈیولپمنٹ کمیونیکیشنز نیٹ (ڈیوکام-پاکستان) کی جانب سے منعقد کردہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے فنکاروں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ نینشل گیلری کو عطیہ کیے گئے آرٹ ورک کا دعویٰ ایک فنکار کے ورثا کی جانب سے کیا گیا اور وہ انہیں دے دیا گیا۔

پی این سی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل نعیم طاہر نے کہا کہ اصولی طور پر ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک مرتبہ آرٹسٹ اپنا کام نیشنل گیلری کو عطیہ کردے تو وہ قومی خزانہ بن جاتا ہے اور کسی کے پاس اسے اپنی ملکیت کا دعویٰ کرنے یا اسے واپس کرنے کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں: آرٹ گیلری میں قرآن پاک کے نایاب نسخوں کی نمائش

نعیم طاہر نے کہا کہ فنکار کبھی زبانی طور پر یا کبھی تحریری خط کے ساتھ اپنا کام عطیہ کرتے ہیں، چاہے جو بھی معاملات ہوں ایک مرتبہ آرٹ ورک نیشنل گیلری میں آجائے تو وہ قومی اثاثہ بن جاتا ہے اور کسی کے پاس اسے گیلری سے ہٹانے کا اختیار نہیں ہے۔

نیشنل آرٹسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان (این اے اے پی) کے چیئرمین میاں اعجاز الحسن نے کہا کہ میں لاہور میں 1985 میں ہونے والی اے جے شمزا کی پینٹنگز کی نمائش کا گواہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ نمائش میں 100 پینٹنگز شامل تھیں اور ہر ایک کی قیمت 4 سے 5 ہزار روپے تھے، اب ایک پینٹنگ کی قیمت لاکھوں میں ہے اس طرح قوم کو ہونے والا مجموعی خسارہ اربوں روپے بنتا ہے۔

اعجاز الحسن نے کہا کہ مستقل نمائش کے لیے اے جے شمزا نے اپنی 10 پینٹنگز نیشنل آرٹ گیلری کو عطیہ کردیں تھیں جس طرح مجھ سمیت دیگر کئی فنکاروں نے عطیہ کی ہیں۔

پی این سی اے کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر جمال شاہ نے کہا کہ 2017 میں پی این سی اے کو فنکار کے ورثا کی جانب سے ایک خط اور مرحومہ عاصمہ جہانگیر کی جانب سے ایک نوٹس موصول ہوا تھا جس میں پینٹنگز کی واپسی سے متعلق کہا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب اے جے شمزا کے ورثا سے ثبوت مانگا گیا کہ وہ پینٹنگز، گیلری کو ادھار دی گئی تھیں تو کوئی ثبوت نہیں دیا گیا تھا۔

جمال شاہ نے کہا کہ اس معاملے پر پی این سی اے بورڈ کا اجلاس ہوا تھا اور تمام اراکین نے متفقہ فیصلہ کیا تھا کہ اے جے شمزا کی پینٹنگز، نیشنل آرٹ گیلری کو عطیہ کیے جانے کے بعد قومی اثاثہ ہیں اور انہیں کسی ورثا کو واپس نہیں کیا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اس معاملے پر میری وفاقی وزیر شفقت محمود سے ناخوشگوار گفتگو ہوئی تھی لیکن میں نے اس پر سمجھوتہ نہیں کیا تھا۔

جمال شاہ نے کہا کہ حال ہی میں اے جے شمزا کی پینٹنگ کو امریکا میں کرسٹیز کی جانب سے بہت بڑی قیمت پر نیلام کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل آرٹ گیلری سے 137 پینٹنگنز چوری کی جاچکی ہیں اور اس حوالے سے کچھ عہدیداروں کو انکوائریز میں نامزد کیا گیاتھا۔

یہ بھی پڑھیں: حیدرآباد میں واقع خوشی کا آرٹ اسٹوڈیو اور شاپ

پی این سی اے کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) میں شکایت درج کرانے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو نامور فنکاروں پر مبنی اعلیٰ سطح کمیشن تشکیل دینا چاہیے تاکہ پینٹنگ کی چوری اور اے جے شمزا کا آرٹ ورک ہٹائے جانے کی تحقیقات کی جائیں۔

پی این سی اے میں 5 برس تک خدمات سرانجام دینے والے اداکار توقیر نصیر نے کہا کہ ان کے دور میں اے جے شمزا کی پینٹنگز سے متعلق کوئی مسائل نہیں تھے۔

علاوہ ازیں پی این سی اے کی سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے وژیول آرٹس آمنہ اسمٰعیل پٹودی نے کہا کہ انہیں فنکاروں کے ورثا کو پینٹنگز دینے پر مجبور کیا گیا تھا لیکن انہوں نے غیرقانونی اور ایک جرم ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ رواں برس 9 جولائی کو میری ریٹائرمنٹ کے بعد 17 جولائی 2020 کو یہ پیٹنگز واپس کی گئی تھیں۔


یہ خبر 24 ستمبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی