اسپیکر اسمبلی نے گلگت بلتستان پر پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس منسوخ کردیا

اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2020

ای میل

اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف آئندہ ماہ تحریک چلانے کے منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے مشاورت عمل تیز کردیا ہے — فائل فوٹو: ڈان
اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف آئندہ ماہ تحریک چلانے کے منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے مشاورت عمل تیز کردیا ہے — فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: اپوزیشن کی جانب سے بائیکاٹ کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے گلگت بلتستان کے انتخابات پر آج مشاورت کے لیے بلائے گئے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کو منسوخ کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں اسپیکر کے فعل پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی نے اعلان کیا تھا کہ وہ ان کی زیر قیادت پارلیمانی کمیٹی کا حصہ نہیں بنے گی۔

خیال رہے کہ ملک کی بڑی اپوزیشن جماعتوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ کثیر الجماعتی کانفرنس (ایم پی سی) کے اعلامیے کے مطابق، پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے کیوں کہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اپوزیشن حکومت کے ساتھ پارلیمان کے اندر یا باہر تعاون نہیں کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کا گلگت بلتستان کے انتخابات پر بات چیت میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

مزید برآں اپوزیشن جماعتوں نے اسپیکر کی جانب سے اجلاس بلائے جانے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسپیکر اور وفاقی حکومت کا گلگت بلتستان انتخابات میں کوئی کردار نہیں ہے۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے ایک ترجمان نے بغیر کوئی وجہ بتائے اعلان کیا کہ 'پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس جو اسپیکر کی سربراہی میں 3 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونا تھا اسے ملتوی کردیا گیا ہے'۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا کہ جب اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف آئندہ ماہ تحریک چلانے کے منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے مشاورت کا عمل تیز کردیا ہے۔

چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں عوامی جلسے کرنے کے ساتھ اپوزیشن نے اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو گرانے کے لیے حال ہی میں تشکیل دیے گئے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کرنے سے قبل دسمبر میں ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیوں کا انعقاد کرے گی۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان کی صوبائی حیثیت پر اتفاق رائے

اپوزیشن رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ وہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے پارلیمنٹ سے اجتماعی استعفے دینے کا آپشن بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اپوزیشن کو اپنی نشستوں سے استعفیٰ دینے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ استعفیٰ دیں گے تو حکومت خالی نشستوں پر ضمنی انتخاب کروائے گی۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے پی ڈی ایم کو باضابطہ شکل دینے اور عوامی جلسوں کی تاریخ طے کرنے کے لیے مشاورت عمل تیز کردیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اپوزیشن رہنما پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی جانب سے اکتوبر کے پہلے ہفتے میں کوئٹہ میں ایک عوامی جلسہ کر کے حکومت مخالف تحریک کا آغاز کرنے کی تجویز پر غور کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی تحلیل، میر افضل نگراں وزیراعلیٰ مقرر

اسپیکر اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کا باضابطہ اعلان پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر اس رپورٹ کے بعد کیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے فون پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ سے اپوزیشن کے حالیہ تشکیل شدہ اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو حتمی شکل دینے پر بات چیت کی۔

بلاول بھٹو نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ 'قومی اسمبلی کے اسپیکر اور وفاقی وزرا کا گلگت بلتستان میں انتخابات سے کوئی لینا دینا نہیں، ہم انتخابات میں وفاقی حکومت کی مداخلت کی مذمت کرتے ہیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا تھا کہ وفاقی وزرا اور اسپیکر کو گلگت بلتستان کے انتخابات کے معاملے پر مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داری ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ضابطہ اخلاق کا اعلان کریں۔