رات گئے اور خاوند کی اجازت کے بغیر سفر موٹروے واقعے کی وجہ بنا، سی سی پی او لاہور

اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2020

ای میل

ہمیں گمراہ کرنے کی کوشش نہ کریں، پولیس کے بیان میں تضاد شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے، اراکین کمیٹی — فائل فوٹو / ڈان نیوز
ہمیں گمراہ کرنے کی کوشش نہ کریں، پولیس کے بیان میں تضاد شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے، اراکین کمیٹی — فائل فوٹو / ڈان نیوز

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے لاہور ۔ سیالکوٹ موٹروے پر گینگ ریپ کے واقعے سے بریفنگ کے دوران سی سی پی او لاہور کی جانب سے متاثرہ خاتون کے خلاف ایک بار پھر متنازع بات کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کی زیر صدارت ہوا۔

کمیٹی کی جانب سے طلبی کے سمن جاری ہونے پر کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) لاہور عمر شیخ کمیٹی اجلاس میں پیش ہوئے اور موٹروے زیادتی کیس میں تحقیقات میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔

عمر شیخ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہماری بچیوں اور بیٹیوں کی اس طرح بے حرمتی نہیں ہونی چاہیے، یہ واقعہ ہماری حدود میں ہوا اس لیے ہم ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رات گئے سفر اور خاوند کی اجازت کے بغیر لاہور جانا واقعے کی وجہ بنا، جس پر ارکان کمیٹی نے کہا کہ کیا متاثرہ خاتون نے آپ کو یہ بیان دیا جس پر سی سی پی او نے کہا کہ نہیں یہ میرا ذاتی اندازہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گینگ ریپ کا شکار خاتون کے حوالے سے بیان پر سی سی پی او لاہور کو تنقید کا سامنا

عمر شیخ کے بیان پر ارکان کمیٹی برہم ہوگئے اور چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ خواتین کے معاملہ انتہائی حساس معاملہ ہے، معاشرے کے ہر فرد کی طرح آپ کو بھی اس معاملے پر حساس ہونے کی ضرورت ہے، ذاتی آرا دینے کی بجائے کمیٹی کو حقائق سے آگاہ کریں۔

سی سی پی او نے کمیٹی کو بتایا کہ خاتون سے زیادتی کے معاملے پر جیوفنسنگ، ڈی این اے، فنگر پرنٹس اور فوٹریکر کی ٹیکنالوجی استعمال کر کے 72 گھنٹوں میں ملزمان تک پہنچے، کیس میں گرفتار ملزم شفقت کا ڈی این اے میچ ہوگیا اور اس نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے، جبکہ مرکزی ملزم بابر ملک مفرور ہے۔

عمر شیخ کی جانب سے بار بار بابر ملک کہنے پر رکن کمیٹی سینیٹر عینی مری نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی ملزم عابد ہے یا بابر، آپ اس کیس کی تحقیقات کر رہے ہیں مگر مرکزی ملزم کا نام معلوم نہیں۔

ارکان کمیٹی کی سرزنش پر سی سی پی او لاہور نے کمیٹی ارکان کے سامنے ہاتھ جوڑ لیے اور کہا کہ ایک ساتھ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس بلا لیں تاکہ ایک ہی دفعہ سب اراکین پارلیمنٹ سے معافی مانگ لوں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون کی کال 15 پر آجاتی تو پولیس بروقت پہنچ سکتی تھی، 2 بجکر 47 منٹ پر ون فائیو پر کال کی گئی جس کے بعد پولیس ٹیم 28 منٹ میں وہاں پہنچی۔

مزید پڑھیں: زیادتی کا شکار خاتون سے متعلق بیان پر سی سی پی او لاہور کو نوٹس جاری

اس موقع پر کمیٹی ارکان نے کہا کہ پولیس کے بیان میں تضاد ہے، گزشتہ اجلاس میں پولیس نے بتایا کہ پولیس 6 منٹ میں پہنچی، آپ کہتے ہیں کہ پولیس 28 منٹ میں پہنچی، ہمیں گمراہ کرنے کی کوشش نہ کریں، پولیس کے بیان میں تضاد شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔

عمر شیخ نے کہا کہ 6 منٹ میں امریکا کی پولیس بھی جائے وقوع پر نہیں پہنچ سکتی ہم کیسے پہنچ گئے، میں یہاں کچھ بولوں تو دھماکا نہ ہوجائے، چیف جسٹس کو بتا چکا ہوں ذمہ دار کون ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے بس میں ہو تو کسی ایک کو نہ چھوڑوں، پنجاب پولیس میں کورٹ مارشل کا قانون لاؤں گا تاکہ کارروائی ہوسکے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی گینگ ریپ کے واقعے کے بعد متاثرہ خاتون کو ہی تنقید کا نشانہ بنانے پر سی سی پی او لاہور عمر شیخ سیاسی و عوامی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں آچکے ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں لاہور موٹروے کے قریب 2 مسلح افراد نے ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ گاڑی بند ہونے پر وہاں مدد کی منتظر تھیں۔

لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کی رہائشی 30 سال سے زائد عمر کی خاتون اپنے 2 بچوں کے ہمراہ رات کو تقریباً ایک بجے اس وقت موٹروے پر پھنس گئیں جب ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا، اس دوران جب وہ مدد کے لیے انتظام کرنے کی کوشش کر رہی تھیں تب 2 مرد وہاں آئے اور انہیں اور ان کے بچوں (جن کی عمر 8 سال سے کم تھی) بندوق کے زور پر قریبی کھیت میں لے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: موٹروے ریپ کیس: مسلم لیگ (ن) کا سی سی پی او لاہور کی برطرفی کا مطالبہ

اس واقعے کے بعد سی سی پی او عمر شیخ کی جانب سے ایک بیان دیا گیا جس میں کہا گیا کہ 'خاتون رات ساڑھے 12 بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلیں، میں حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہیں، اکیلی ڈرائیور ہیں، آپ ڈیفنس سے نکلی ہیں تو آپ جی ٹی روڈ اکا سیدھا راستہ لیں اور گھر چلی جائیں اور اگر آپ موٹروے کی طرف سے نکلی ہیں تو اپنا پیٹرول چیک کر لیں'۔

سی سی پی او کے اس ریمارکس پر عوام اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے سخت مذمت کی گئی اور ان کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔