موٹروے ریپ کیس: مسلم لیگ (ن) کا سی سی پی او لاہور کی برطرفی کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2020

ای میل

ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب—فوٹو: ڈان نیوز
ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب—فوٹو: ڈان نیوز

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے لاہور کے قریب گینگ ریپ کا شکار ہونے والی خاتون سے متعلق اس ریمارکس پر لاہور کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) عمر شیخ کو ہٹانے کا مطالبہ کردیا، جس نے معاشرے کے مختلف طبقات میں غم و غصہ کی لہر پیدا کر دی۔

واضح رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور موٹروے کے قریب 2 مسلح افراد نے ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ گاڑی بند ہونے پر وہاں مدد کی منتظر تھیں۔

اب تک موجود معلومات کے مطابق لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کی رہائشی 30 سال سے زائد عمر کی خاتون اپنے 2 بچوں کے ہمراہ رات کو تقریباً ایک بجے اس وقت موٹروے پر پھنس گئیں جب ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا، اس دوران جب وہ مدد کے لیے انتظام کرنے کی کوشش کر رہی تھیں تب 2 مرد وہاں آئے اور انہیں اور ان کے بچوں (جن کی عمر 8 سال سے کم تھی) بندوق کے زور پر قریبی کھیت میں لے گئے۔

مزید پڑھیں: 'سی سی پی او کا بیان مناسب نہیں، انتظامی معاملات میں الجھے تو ہدف حاصل نہیں کرسکتے'

بعد ازاں حملہ آوروں نے بچوں کے سامنے خاتون کا ریپ کیا، جس کے کچھ وقت بعد پولیس اور خاتون کا ایک رشتے دار جسے پہلے کال کی گئی تھی وہ جائے وقوع پر پہنچے، تاہم تب تک حملہ آور فرار ہوگئے تھے اور خاتون سے کیش اور دیگر قیمتی سامان بھی لے گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سی سی پی او عمر شیخ کی جانب سے ایک بیان دیا گیا جس میں کہا گیا کہ 'خاتون رات ساڑھے 12 بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلیں، میں حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہیں، اکیلی ڈرائیور ہیں، آپ ڈیفنس سے نکلی ہیں تو آپ جی ٹی روڈ اکا سیدھا راستہ لیں اور گھر چلی جائیں اور اگر آپ موٹروے کی طرف سے نکلی ہیں تو اپنا پیٹرول چیک کر لیں'۔

سی سی پی او کے اس ریمارکس پر عوام کی جانب سے سخت مذمت کی گئی اور ان کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔

اسی معاملے پر جمعہ کو دوران پریس کانفرنس مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ 'ایک گھنٹے تک یہ بحث ہوتی رہی کہ یہ وفاق کی حدود ہے یا لاہور پولیس کی، سی سی پی او اس بات پر حیران نہیں کہ ایک عورت دہائی دیتی رہی لیکن اس کو تحفظ دینے والا کوئی وہاں پہنچ نہیں سکا بلکہ وہ اس بات پر حیران ہے کہ پاکستان میں رات کو ایک عورت بچوں کے ساتھ گاڑی میں پیٹرول چیک کیے بغیر جی ٹی روڈ پر جانے کے بجائے موٹروے پر کیوں چڑھ گئی'۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ ہے وہ ذہنیت جو ریپ متاثرہ کو شرمندہ' کر رہی ہے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی سی پی او لاہور کا بیان 'ان مجرموں کا ساتھ دے رہا ہے اور تحقیقات پر اثر انداز ہورہا ہے اور یہ کہہ رہا ہے کہ غلطی اس ماں کی ہے جس کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا'۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس سے بڑھ کر یہ کہ 'پوری ریاست، حکومت، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب خاموش ہیں'۔

ترجمان مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود وفاقی وزیر سی سی پی او کے بیان کا دفاع کر رہے ہیں جبکہ پوری کی پوری کابینہ خاموش ہے اور سی سی پی او کے بیان کا دفاع کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'اس بیان کے بعد سی سی پی او کا بیان آتا ہے کہ میرے بیان کا غلط مطلب لیا گیا، میرا مطلب یہ تھا کہ خاتون کی واقفیت فرانس کی تھی، چونکہ ان کے شوہر فرانس میں ہیں اور وہ فرانس سمجھ کر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رات کو اپنے بچوں کے ساتھ نکلی کیونکہ فرانس میں قانون کی بالادستی ہے، اخلاقی اقدار ہے، قانون کی حکمرانی ہے اور تحفظ دیا جاتا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ 'اسلامی جمہوریہ پاکستان میں 11 کروڑ لوگوں کو تحفظ حاصل نہیں، وہ محفوظ نہیں لیکن فرانس میں عورتیں محفوظ ہیں، وہاں ریاست کی رٹ اور قانون کی عملداری ہے لیکن اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں نہ ریاست کی رٹ ہے، نہ امن و امان ہے اور نہ ہی سماجی و اخلاقی اقدار ہے'۔

ان کے مطابق 'سی سی پی او کے بیان کا مطلب ہے کہ پاکستان میں خواتین 6 بچوں کے بعد نہ نکلیں اور اگر وہ نکلی اور ان کا ریپ ہوا تو اس کی ذمہ دار وہ خود ہیں، اس کا مطلب ریاست مفلوج ہے وہ خواتین اور ملک کے شہریوں کو تحفظ نہیں دے سکتی، اس کا مطلب ہے اپنی حفاظت خود کریں'۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'عمر شیخ کا بیان آئین کے آرٹیکل 9 کی نفی کرتا ہے جس کے مطابق کوئی بھی شخص قانون کے مطابق زندگی یا آزادی سے محروم نہیں ہوگا'۔

یہ بھی پڑھیں: گینگ ریپ کا شکار خاتون کے حوالے سے بیان پر سی سی پی او لاہور کو تنقید کا سامنا

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس بیان کے اوپر پاکستان کی 11 کروڑ بیٹیاں و خواتین یہ مطالبہ کرتی ہیں کہ اس سی سی پی او کو نوکری سے نکالا جائے۔

یہ واضح رہے کہ مریم اورنگزیب واحد اپوزیشن رہنما نہیں جنہوں نے سی سی پی او لاہور کی برطرفی کا مطالبہ کیا بلکہ گزشتہ روز پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے بھی اس بیان پر حیرانی و غصے کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ سن کر انہیں غصہ آیا کہ کچھ پولیس افسران میں اتنی جرات تھی کہ یہ پوچھ سکیں کہ وہ خاتون اس وقت باہر کیوں گئیں۔

تاہم انہوں نے عمر شیخ کا نام لیے بغیر کہا کہ 'انہیں برطرف کرنے کی ضرورت ہے'۔

علاوہ ازیں وکیل خدیجہ صدیقی جن پر 2016 میں لاہور میں دن کی روشنی میں 23 مرتبہ وار کیا گیا تھا، انہوں نے اور ان کے ساتھیوں بیرسٹر حسان نیازی اور ایڈووکٰٹ مراد علی خان مروت نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس پنجاب انعام غنی کے پاس درج شکایت میں کہا ہے کہ سی سی پی او کو 'معافی مانگنے پر مجبور' اور 'معطل' کرنا چاہیے۔

مزید برآں انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پی انعام غنی کو خط بھی لکھا جس میں کہا گیا کہ سی سی پی او کا بیان کیس کی تحقیقات کے لیے نقصان دہ ہے اور انہوں نے خود کو اس عہدے کے لیے نااہل بھی ثابت کردیا۔

خط میں مطالبہ کیا گیا کہ سی سی پی او کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی مکمل ہونے تک انہیں اس عہدے سے برطرف کیا جائے۔

شہباز شریف کی تنقید

قبل ازیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے حکومتی وزار اور وزیراعلیٰ پنجاب پر سخت تنقید کی، جو ان کے بقول ایک پولیس عہدیدار کے عمل کی حمایت کر رہے اور جواز پیش کرنے کے لیے پہنچ گئے۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ کسی معاملے کی نشاندہی کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تو پھر حکومت کیسے کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے پی ٹی آئی وزار کے بیان کا دفاع کیا اور کہا کہ اسد عمر نے میرے بیان کا دفاع کیا تھا جبکہ شہزاد اکبر نے واضح طور پر کہا تھا کہ پوری وفاقی کابینہ نے سی سی پی او کے بیان پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں کسی نے بھی سی سی پی او کے ناقابل معافی بیان کا دفاع نہیں کیا، آئی جی نے نوٹس لیا اور سی سی پی او کے خلاف کارروائی بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو ان وزرا پر غلط الزامات لگا کر غصہ نہیں نکالنا چاہیے جنہوں نے سی سی پی او کے بیان پر کھلے عام تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ 'سی سی پی او کی جانب سے ریپ کا جواز فراہم کرنے کے بیان کا کبھی دفاع نہیں ہوسکتا، کبھی نہیں'۔

ریپ کیس

ادھر جیسے ہی کیس کی تحقیقات کا آغاز ہوا، اس طرح کی رپورٹس آئیں کہ متاثرہ خاتون نے موٹروے ہیلپ لائن پر کال کی تھی لیکن انہیں مدد کا منع کردیا گیا تھا کیونکہ اس علاقے کا پاکستان نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس کی جانب سے احاطہ نہیں کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے پاکستان نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس کے ترجمان نے ڈان سے گفتگو میں تصدیق کی کہ 90 کلو میٹر طویل لاہور-سیالکوٹ موٹروے باقاعدہ طور پر انہیں ان کے حوالے نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایف ڈبلیو او کی جانب سے تعمیر اور چلنے والے موٹروے کا افتتاح کچھ 6 ماہ قبل کیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب کو جمع کروائی گئی پہلی پیش رفت رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جائے وقوع کے اطراف سرچ آپریشن کے دوران کچھ 15 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔

مزید برآں عثمان بزدار نے ایک 5 رکنی کمیٹی بھی قائم کردی، جس کے کنوینر صوبائی وزیر قانون ہوں گے اور وہ اس کیس کی تحقیقات کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان کا بچی اور خاتون سے 'زیادتی' کے واقعات کا نوٹس

وہیں آئی جی پی انعام غنی نے ڈان کو بتایا تھا کہ اس ریپ کیس میں متعدد کام کیا جاچکا ہے، 'ہماری 20 ٹیمز اس کیس میں کام کر رہی ہیں، ڈی آئی جی لاہور (انویسٹی گیشن) شہزادہ سلطان ان میں سے ایک کی قیادت کر رہے ہیں، مزید یہ کہ کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی الگ کام کر رہی ہے جبکہ ایک اور ٹیم کی قیادت ڈویژنل ایس پی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 3 مقامات پر جیوفینسنگ سے ڈیٹا ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں ایک کار جہاں رکی، دوسرا جہاں خاتون کا ریپ ہوا اور تیسرا ملزمان کی تلاش کے لیے پولیس کے رکھے گئے مخبروں کی جانب سے نشاندہی کیا گیا علاقہ ہے۔

انعام غنی کا کہنا تھا کہ ہم نے 70 مشتبہ نوجوانوں کی پروفائلنگ کے ساتھ ساتھ قریبی گاؤں میں 25 سے 35 سال کے درمیان کے مردوں کا ڈیٹا بھی نادرا سے حاصل کرلیا ہے۔

مزید برآں پولیس نے میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر یہ تصدیق بھی کہ کہ متاثرہ خاتون کا ایک سے زیادہ مردوں نے ریپ کیا، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ پولیس کو جائے وقوع سے کچھ سراغ ملے ہیں جو مجرمان تک پہنچنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ لوگوں کا یہ حق ہے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔


اضافی رپورٹنگ: عمران گبول