'سندھ میں تعلیمی اداروں میں 303 کورونا کیسز مثبت آئے'

29 ستمبر 2020

ای میل

اب تک نجی اور سرکاری اسکولز میں 56 ہزار 299 ٹیسٹ کروائے گئے ہیں، جن میں سے 40150 کے نتائج موصول ہوچکے ہیں، وزیر تعلیم سندھ۔ فائل فوٹو:ڈان نیوز
اب تک نجی اور سرکاری اسکولز میں 56 ہزار 299 ٹیسٹ کروائے گئے ہیں، جن میں سے 40150 کے نتائج موصول ہوچکے ہیں، وزیر تعلیم سندھ۔ فائل فوٹو:ڈان نیوز

سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی کا کہنا ہے کہ سندھ کے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں کیے گئے کورونا وائرس کے ٹیسٹ میں سے اب تک 0.75 فیصد مثبت کیسز سامنے آئے ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس میں سعید نے صوبے میں صورتحال کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں تعلیمی اداروں کو کھولنے کے بعد صورتحال بہت حد تک بہتر ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک نجی اور سرکاری اسکولز میں 56 ہزار 299 ٹیسٹ کروائے گئے ہیں، جن میں سے 40150 کے نتائج موصول ہوچکے ہیں تاہم اب بھی 15 ہزار 846 کے نتائج آنا باقی ہیں۔

مزید پڑھیں: سندھ میں پری-پرائمری سے مڈل تک تمام اسکول کھل گئے

انہوں نے بتایا کہ سرکاری اسکولز میں 40 ہزار 414 میں سے 27 ہزار 933 کے نتائج سامنے آئے ہیں جن میں سے217 مثبت کیسز ہیں۔

وزیر تعلیم نے بتایا کہ نجی اسکولز کے 15 ہزار 885 ٹیسٹ میں سے 12 ہزار 217 کیسز کے نتائج آچکے ہیں جن میں سے 86 میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر اب تک 303 مثبت کیسز سامنے آئے ہیں جو 0.75 فیصد بنتے ہیں۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ اس وقت صوبے میں کورونا کے حوالے سے تعلیمی اداروں میں ایس او پیز پر عملدرآمد اطمینان بخش ہے اور مجموعی طور پر تعلیمی اداروں میں صورتحال بہتر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'مجھ سمیت سیکریٹری اور دیگر افسران روزانہ کی بنیادوں پر سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کا دورہ کررہے ہیں اور صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں دوسرے مرحلے میں 21ستمبر سے اسکولز نہ کھولنے کا فیصلہ

صوبائی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ 'ہماری زیادہ سے زیادہ توجہ والدین کو اس حوالے سے آگاہی کی فراہمی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے والدین سے کہا ہے کہ وہ خود بھی اسکولوں میں جائیں اور خود اسکولز اور کلاس رومز کا وزٹ کریں'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'ہم نے والدین کو یہ بھی ہدایات دی ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو اپنے بچوں کو اسکول یا پبلک ٹرانسپورٹ کی بجائے خود لینے جائیں اور اسکول چھوڑیں'۔

یاد رہے کہ دنیا بھر کا نقشہ تبدیل کرنے والی اس عالمی وبا کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو کراچی میں رپورٹ ہوا تھا۔

جس کے فوری بعد تعلیمی اداروں کی بندش کا اعلان کیا گیا تھا اور یہ بندش 6 ماہ سے زائد جاری رہی تھی اور ملک میں مجموعی صورتحال بہتر ہونے پر 15 ستمبر سے تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اعلان کیا تھا کہ دوسرے مرحلے میں 23 ستمبر سے مڈل اسکولز کھلیں گے، جس کے بعد سندھ کے سوا دیگر صوبوں و علاقوں میں دوسرے مرحلے کے تحت بھی تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوگئی تھیں۔

تاہم سعید غنی نے پرائمری اور سیکنڈری اسکول کو کھولنے کا فیصلہ ایک ہفتے کے لیے مؤخر کردیا تھا جس کے بعد گزشتہ روز اسے کھولا گیا۔