وزیراعظم کا حیاتیاتی تنوع کو بچانے کیلئے اقدامات کی حمایت کا عزم

اپ ڈیٹ 29 ستمبر 2020

ای میل

وزیراعظم نے رہنماؤں کے فطرت کے لیے وعدے کی بھرپور حمایت کا عزم ظاہر کیا—تصویر: فیس بک
وزیراعظم نے رہنماؤں کے فطرت کے لیے وعدے کی بھرپور حمایت کا عزم ظاہر کیا—تصویر: فیس بک

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت حیاتیاتی تنوع (بائیو ڈائیورسٹی) کو بچانے اور اس کی حفاظت کرنے کی عالمی کوششوں کے لیے پر عزم ہے اس لیے ملک میں سرسبز علاقوں کو محفوظ بنانے کے لیے متعدد اقدامات بھی کیے گئے۔

وزارت ماحولیاتی تبدیلی سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 'درحقیقت آج عالمی حیاتیاتی تنوع کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے جس کی وجہ انسان کی غیر پائیدار سرگرمیاں بشمول جانوروں کے رہنے کی جگہوں کی تباہی، ان میں کمی اور ان کی تنزلی، انسانی استعمال کے لیے جانوروں کا حد سے زیادہ استعمال، غیر مقامی جانوروں کا تعارف اور بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافہ شامل ہے۔

تاہم حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنا صرف اور صرف عالمی سطح پر بائیو ڈائیورسٹی کے اقدامات سے ہی ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 15 نیشنل پارکس کے منصوبوں کا اجرا: موسمیاتی تبدیلی ملک کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے یہ پیغام امریکی شہر نیویارک میں 30 ستمبر سے شروع ہونے والے اقوام متحدہ کے حیاتیاتی تنوع سے متعلق اجلاس کے تناظر میں جاری کیا۔

اجلاس کا انعقاد اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر نے حکومتوں اور ریاستوں کے سربراہان کی سطح پر کیا جس کا عنوان 'پائیدار ترقی کے لیے حیاتیاتی تنوع پر فوری اقدامات' ہے۔

دنیا بھر سے 45 سے زائد سربراہان مملکت اس تقریب میں حصہ لیں گے۔

دنیا کی 5 بڑی معیشتوں کے رہنما اجلاس میں فطرت کے لیے دیگر رہنماؤں کے وعدوں اور انسان اور سیاروں کی صحت محفوظ کرنے کے لیے فطرت سے متعلق ٹھوس اقدامات کے عزم کی توثیق کریں گے۔

مزید پڑھیں: ہمارے ماحول کی بقا کے ضامن جنگلی حیات خطرے میں

وزیراعظم نے مزید کہا کہ 'عالمی اور مقامی سطح پر حیاتیاتی تنوع میں کمی کے نتیجے میں پاکستان کو کوئی استثنیٰ نہیں، ہم نے اس مسئلے کے تدارک کے لیے عالمی کوششوں کے حصے کے طور پر متعدد اقدامات اٹھائے ہیں'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'میری حکومت نے مقامی افراد کی مدد سے ملک بھر میں 10 ارب درخت لگانے کا چیلنج لیا جس کا مقصد ملکی معیشت، معاشرے اور پالیسی بنانے والے فریم ورکس کے تمام شعبوں میں حیاتیاتی وسائل کے پائیدار استعمال اور تحفظ کو مرکزی دھارے میں لا کر حیاتیاتی نظام کے تنوع میں ہونے والے نقصان کو دور کرنا ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ ایک سرسبز محرک اقدام بھی متعارف کروایا گیا ہے جس سے گرین جابز کے ہزاروں مواقع پیدا ہوئے اور لوگ جنگلات کا تحفظ اور روزگار کے لیے نرسریاں اگانے لگے۔

یہ بھی پڑھیں: 'پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے سالانہ ایک لاکھ 28 ہزار اموات ہوتیں ہیں'

وزیراعظم نے رہنماؤں کے فطرت کے لیے وعدے کی بھرپور حمایت کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت حیاتیاتی تنوع کو پہنچنے والے نقصان کو روکنے کے لیے پر عزم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت پہلے ہی درست سمت میں اقدامات کررہی ہے جس میں محفوظ علاقوں کا اقدام ہے جس کے تحت 15 نیشنل پارکس 2 سال کے عرصے میں محفوظ بنائے جائیں گے۔


یہ خبر 29 ستمبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔