پاکستان نے گلگت بلتستان انتخابات پر بھارت کا بیان مسترد کردیا

اپ ڈیٹ 30 ستمبر 2020

ای میل

پاکستان بھارت سے مطالبہ کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے  اپنا غیرقانونی قبضہ فوری ختم کرے—فائل فوٹو: ڈان نیوز
پاکستان بھارت سے مطالبہ کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے اپنا غیرقانونی قبضہ فوری ختم کرے—فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: پاکستان نے گلگت بلتستان میں آئندہ انتخابات سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے 'غیرضروری اور غیر ذمہ دارانہ بیان' کو یکسر مسترد کر دیا۔

گلگت بلتستان میں انتخابات کے اعلان پر بھارت نے احتجاج کیا تھا جس کے بعد ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ نے ایک بیان جاری کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ 'بھارت کے پاس اس معاملے میں مداخلت کا کوئی قانونی، اخلاقی یا تاریخی جواز نہیں، بھارت کی جانب سے جھوٹے اور من گھڑت دعوے نہ تو حقائق کو تبدیل کرسکتے ہیں اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی غیر قانونی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں اصلاحات کے عمل پر بھارتی میڈیا کی 'بے بنیاد' رپورٹس مسترد

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت نے گزشتہ 72 سالوں سے مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی اور غیر انسانی قبضہ کیا ہوا ہے، تاہم بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں کشمیری عوام پر بے پناہ مظالم کے باوجود مقامی سطح پر کشمیریوں کی مزاحمتی تحریک مزید مضبوط ہوگئی ہے۔

گلگت بلتستان پر بھارت کی تنقید کےجواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 'پاکستان بھارت سے مطالبہ کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے اپنا غیرقانونی قبضہ فوری ختم کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے کشمیریوں کو اپنے حق خود ارادیت کے استعمال کا حق دے'۔

قبل ازیں بھارتی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ان کی حکومت کی جانب سے پاکستانی حکومت سے سخت احتجاج کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں دہشتگردی،فرقہ واریت میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ہیں، دفتر خارجہ

بھارتی دفتر خارجہ نے دعویٰ کیا تھا کہ 'جموں کشمیر اور لداخ کی پوری یونین ٹیریٹریز بشمول نام نہاد گلگت بلتستان کا پورا علاقہ 1947 میں اس کے الحاق کی وجہ سے بھارت کا لازمی حصہ ہے' اور الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کا ان علاقوں پر اختیار نہیں ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے کہا کہ 'بھارت حالیہ اقدامات مثلاً گلگت بلتستان (الیکشن اور قائم مقام حکومت) ترمیمی آرڈر 2020 اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اس کے غیر قانونی اور جبری قبضے میں موجود علاقوں میں مادی تبدیلیوں کی مسلسل کوششوں کو مسترد کرتا ہے'۔

بھارتی وزارت خارجہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 'اس طرح کے اقدامات نہ تو جموں کشمیر اور لداخ پر پاکستان کی جانب سے غیر قانونی قبضے اور نہ ہی گزشتہ 7 دہائیوں سے پاکستان کے مقبوضہ علاقوں میں رہنے والوں کو آزادی سے انکار، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، اور استحصال کو چھپا سکتے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کے ساتھ بیک چینل ڈپلومیسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، دفتر خارجہ

بھارتی دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ 'یہ لیپا پوتی کی کوششوں کا مقصد غیر قانونی قبضے کو آڑ فراہم کرنا ہے، ہم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنے قبضے میں موجود علاقوں کو خالی کردے'۔


یہ خبر 30 ستمبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔