منشیات کیس:دھرما پروڈکشنز کے 2 ملازمین سے پوچھ گچھ، کرن جوہر کو طلب کرنے کا امکان

اپ ڈیٹ 25 ستمبر 2020

ای میل

ملازمین سے بولی وڈ میں منشیات کے گٹھ جوڑ اور کرن جوہر کے گھر میں 2019 میں ہونے والی پارٹی سے متعلق تفتیش کی جارہی ہے—  فوٹو: پنک ولا
ملازمین سے بولی وڈ میں منشیات کے گٹھ جوڑ اور کرن جوہر کے گھر میں 2019 میں ہونے والی پارٹی سے متعلق تفتیش کی جارہی ہے— فوٹو: پنک ولا

دپیکا پڈوکون اور شردھا کپور سمیت بولی وڈ کی صف اول کی اداکاراؤں کو منشیات کیس میں طلب کرنے کے بعد بھارت کے نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کی جانب سے کرن جوہر کو بھی طلب کیے جانے کا امکان ہے۔

پنک ولا کی رپورٹ کے مطابق این سی بی کی جانب سے کرن جوہر کو 2019 کی پارٹی کی وائرل ویڈیو کے باعث طلب کیے جانے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ کرن جوہر کی پارٹی ویڈیو اس وقت دوبارہ توجہ کا مرکز بنی جب شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈے) کے رہنما منجندر سنگھ سرسا نے چند روز قبل این سی بی میں شکایت درج کروائی تھی۔

انہوں نے شکایت میں کہا تھا کہ کرن جوہر کی گزشتہ برس ہونے والی پارٹی میں منشیات کا استعمال بھی کیا گیا تھا اور منجندر سنگھ نے اس سلسلے میں این سی بی کے ڈائریکٹر جنرل راکیش آستھانا سے ملاقات بھی کی تھی۔

مزید پڑھیں: سشانت سنگھ خودکشی تحقیقات: مہیش بھٹ، کرن جوہر کے منیجر طلب

این سی بی نے ان کی شکایت کا نوٹس لیا تھا اور وائرل ویڈیو کی تصدیق کے لیے ٹیسٹنگ کے لیے بھیجا تھا۔

بعدازاں آج منجندر سنگھ سرسا نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دھرما پرڈوکشنز کے سربراہ کرن جوہر کو سال 2019 میں منعقد کی جانے والی ڈرگ پارٹی سے متعلق این سی بی کی جانب سے جلد سمن جاری کرنے کا امکان ہے۔

کرن جوہر کے علاوہ منجندر سنگھ سرسا نے دپیکا پڈوکون، ملائیکا اروڑا، ارجن کپور، شاہد کپور، وکی کوشال، ورن دھون اور دیگر اسٹارز کے خلاف بھی شکایت درج کروائی تھی۔

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ پارٹی میں شریک ہونےوالے افراد کی جانب سے 'منشیات کا استعمال' کیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں این سی بی کی جانب سے کرن جوہر کی دھرما پرڈوکشن کے 2 ملازمین سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

گزشتہ روز این سی بی نے ورسووا میں کشتیج روی پرساد کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا، رپورٹس کے مطابق ان کی رہائش گاہ سے چرس برآمد ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: منشیات کے استعمال سے متعلق تفتیش میں بھارت کی 4 اداکارائیں طلب

اس کے ساتھ ہی این سی بی نے دھرما پرڈوکشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انوبھو چوپڑا سے بھی تفتیش کی ہے۔

ایک اور رپورٹ کے مطابق کشتیج روی پرساد سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے اور انہوں نے کیس میں کئی بڑے ناموں کا انکشاف بھی کیا ہے۔

—  فوٹو: پنک ولا
— فوٹو: پنک ولا

اس کے ساتھ ہی یہ بھی رپورٹ کیا جارہا ہے کہ این سی بی کو لگتا ہے کہ کشتیج روی پرساد انہیں بڑے کارٹیل کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ بولی وڈ میں منشیات کا گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کشتیج روی پرساد اور انوبھو سے نہ صرف بولی وڈ میں منشیات کے گٹھ جوڑ بلکہ کرن جوہر کے گھر میں 2019 میں ہونے والی پارٹی کی ویڈیو سے متعلق بھی تفتیش کی جارہی ہے۔

دوسری جانب ای ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اداکارہ راکول پریت سنگھ بھی این سی بی کے سامنے پیش ہوئی تھیں۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کشتیج روی پرساد منشیات سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

علاوہ ازیں سشانت سنگھ راجپوت کی موت سے منسلک منشیات کیس میں دپیکا پڈوکون کی منیجر کرشمہ پرساد بھی این سی بی کے دفتر میں پیش ہوئی تھیں۔

خیال رہے کہ بولی وڈ فلم نگری میں منشیات کے استعمال کا معاملہ سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد سامنے آیا تھا جنہوں نے 14 جون کو خودکشی کرلی تھی۔

مزید پڑھیں: بولی وڈ اداکار سُشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کرلی

8 ستمبر کو اداکار کی سابق گرل فرینڈ ریا چکر بورتی کو ا رواں برس جون میں خودکشی کرنے والے سشانت سنگھ راجپوت کے لیے منشیات کا بندوبست کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

— فوٹو:پریس ٹرسٹ آف انڈیا
— فوٹو:پریس ٹرسٹ آف انڈیا

اداکارہ کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب انہوں نے نارکوٹکس بیورو کے سامنے تفتیش میں اعتراف کیا تھا کہ سشانت سنگھ راجپوت کے لیے منشیات کا بندوبست کرتی تھیں اور یہ کہ اداکار کی رہائش گاہ پر منشیات استعمال کرنے کی پارٹیاں بھی ہوتی تھیں۔

ریا چکربورتی کی گرفتاری کے بعد خبریں سامنے آئی تھیں کہ اداکارہ نے نارکوٹکس بیورو کے سامنے کم از کم 28 بولی وڈ شخصیات کے منشیات استعمال کرنے کے حوالے سے بتایا تھا۔

ریا چکربورتی نے جن 28 شخصیات کے حوالے سے نارکوٹکس بیورو کو بتایا تھا ان میں سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان، اداکارہ راکول پریت سنگھ اور ڈیزائنر سیمون کھمباٹا کے نام بھی شامل تھے۔

بعدازاں این سی بی نے منشیات سے متعلق کیس میں دپیکا پڈوکون، شردھا کپور، سارہ علی خان اور راکول پریت سنگھ کو طلب کیا تھا۔

— فوٹو: انڈیا ٹوڈے
— فوٹو: انڈیا ٹوڈے