افسانہ: اختتام

اپ ڈیٹ 02 اکتوبر 2020

ای میل

گیٹ کے سامنے کھڑے ہوئے اسے عجیب سا احساس ہوا۔ کیا یہ وہی گھر تھا جہاں سے وہ ایک مرتبہ نکالی گئی تھی۔ یہ چھوٹا سا ایک چوبارہ، گھروں کے بیچ میں دھنسا ہوا سانس لینے کی کوشش کرتا چوبارہ، جس کی کبھی گردن اتنی مغرور تھی کہ زمین کی طرف نظر تک نہ ڈالتی تھی۔ آج یہ چوبارہ شکست و ریخت کی انتہاؤں کو چُھو رہا تھا، اب دیواروں پر نیا روغن نہ رہا تھا! جہاں کسی زمانے میں لال اینٹ بھی چمکتی تھی وہاں اب 2، 3 کمروں کے اضافے سے لال اینٹ دیکھنے کو بھی ملتی نہ تھی۔

دہلیز پر پاؤں دھرتے ہی بند کمروں کا سلسلہ شروع تھا۔ کمرے بے ترتیبی سے بوقتِ ضرورت اس طرح وجود میں آئے تھے کہ اب ہر کمرہ تازہ سانسوں کے لیے ترستا تھا۔ آکسیجن ادھار مانگنے کے لیے ہر دیوار دوسرے کی طرف تکتی تھی۔ کبھی یہ گھر حکمران لگتا تھا مگر آج یہ ماتحت تک لگنے کے قابل نہ رہا تھا۔

ہمیشہ کی طرح گیٹ کے اوپر سے کنڈا اٹھا کر گیٹ کھولا تو گیٹ اسی طرح کھلتا چلا گیا جیسے آج سے 15، 20 سال پہلے کھلتا تھا۔ ہاں مگر تب اس گیٹ کے کھلتے ہی بہتا پانی نظر آتا تھا جسے ایک ملازمہ برآمدہ اور گیلری دھوتی دھکیلتی چلے آتی اور اس ملازمہ کے پیچھے گھر کی مالکن، اس کی ساس پانی کا پائپ لیے گردن اکڑائے چلی آتی تھی۔

مزید پڑھیے: افسانہ: ’میں تمہیں اپنا مستقبل تباہ نہیں کرنے دوں گا’

کبھی ’ہم طاقتور ہیں سب کچھ تن تنہا کرسکتے ہیں’ کا غرور بھی انسانوں کے سر پر چڑھ کر ناچنے لگتا ہے، وہ پھر اتنا ناچتا ہے کہ سر ہی ختم ہوجاتا ہے۔ آج یہی برآمدہ اور گیلری جو صدیوں سے دھلنے کو ترس گئے تھے اور اس قدر شکستہ حال ہوچکے ہیں کہ اگر دھل بھی جائیں تو پہلے کی طرح چم چم نہ کر پائیں۔ اور آج سر اکڑا کر انہیں مانجنے والے زندگی سے بیزار خستہ حال جسموں میں چھتوں کو گھورتے رہتے تھے۔ طاقت چلی جائے تو ملازم بھی چلے جاتے ہیں۔ دنیا کے اسٹیج پر ہر حُسن کو زوال ہے اور ہر کاملیت ایک دن شکستہ حالی سے دوچار ہوتی ہے۔ یہ مقدمہ اس کے سامنے بچھی گیلری کی سیم زدہ دیواروں کے بیچ چلتی بوجھل اینٹوں پر لکھا تھا۔ بس اتنی ہی عمر تھی اس حُسن کی شان کی بھی، اتنا ہی غرور تھا دھوتے چمکاتے ہاتھوں کے مقدر میں، بس اتنا ہی عرصہ تھا زندگی کے شاندار ہونے کا۔

انسان جب چمکتے سورج کی چکا چوند میں گم ہو، حُسن، طاقت اور جوانی کے عروج پر ہو تو ہمیشہ اٹھلا اٹھلا کر چلتا ہے، ایسے جیسے اس کے ماتھے پر چمکتا سورج کبھی نہیں ڈھلے گا، جیسے اس کے حُسن کو کبھی زوال ہی نہ ہوگا، جیسے اس کی طاقت کو کبھی للکار نہ پکڑے گی۔ وہ یہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ اس دنیا کا کاروبار ہی ایک پہلے سے ترتیب شدہ تسلسل پر چلتا ہے، یہی ترتیب جسے کبھی کوئی بدل نہ سکا، جو سر آج اکڑا ہے کل لازمی جھکے گا، جو ہاتھ آج اٹھا ہے کل کو شکستہ حال ہوکر ایک بے جان شے کی مانند لڑکھے گا۔

گیلری کی طرف کھلتے غسل خانے کے دروازے کو سیم جانے کب سے ہڑپ کرچکی تھی۔ اس کا پیلا رنگ جیسے صدیوں سے پہچان کھوکر لکڑی کے ذاتی گھسے پٹے رنگ میں ڈھل چکا تھا، لکڑی خستہ حال ہوکر جگہ جگہ سے پھول چکی تھی۔ کبھی ان دروازوں کو باقاعدگی سے رگڑا اور چمکایا جاتا تھا اور اسی چمکتے دروازے سے وہ ایک دن اپنا سب سامان باہر پہنچانے کے بعد اسی دروازے کو اندر سے کنڈی لگاتے صحن کے راستے ساس اور سسر کو الوداع کرتے نکلی تھی۔

نکل تو وہ اسی دروازے سے بھی سکتی تھی مگر وہ چور نہ تھی جو چھپ کر نکلتی اور پھر اسے اس گھر کے مکینوں کی حفاظت بھی مقدم تھی۔ بن بتائے دروازے کھلے چھوڑ کر کیسے نکل جاتی؟ اسے روکنے والا یہاں کوئی نہ تھا اور کوئی روکنا چاہتا بھی نہ تھا۔ حالات تو شاید اس رنگ میں ڈھالے ہی اس لیے جا رہے تھے کہ وہ نکل جائے، سو وہ نکل آئی تھی۔ ان دروازوں سے جو ہر وقت دھوئے اور چمکائے جاتے تھے وہ ایسے انساں کی صورت نکلی تھی جسے صدیوں سے کسی نے نظر بھر کر دیکھنے کی ضرورت بھی محسوس نہ کی ہو۔ وہ آخری بار اپنی متاع جاں لیے اس گھر سے نکلی تو پھر کبھی نہ لوٹی تھی۔

صدیاں نہیں بس کچھ ہی دن پہلے کی بات تھی کہ اس کا شوہر اسے اپنے عزیز اہل و عیال کی محفوظ رفاقت میں چھوڑ کر پردیس کے لیے نکلا تھا۔ ہر بیٹے کی طرح اسے بھی لگتا تھا یہ دیواریں اور دروازے تک چمکانے والے میرے اہل و عیال میرے بیوی بچوں کا بھی خیال رکھیں گے۔ لیکن پہلی ہی صبح نکلتے ساس نے سارے گھر سے اضافی بستر، گدے اور چیزوں کے اضافی ڈھیر اکٹھے کرکے اس کے کمرے میں دھکیل ٹھونسے، ایسے جیسے اب وہ خالی ہوچکا تھا، اس چھوٹے سے کمرے میں جس میں وہ اور اس کی دو سالہ بیٹی ابھی باقی تھیں۔

مزید پڑھیے: افسانہ: زرد شام

سلیقہ شعار گھر کے اس کمرے میں سامان ایسے بے ترتیبی اور پھوہر پن سے ٹھونسا گیا کہ ان کا بستر ان چیزوں کے ڈھیر کے پیچھے چھپ سا گیا۔ شام تک سلے ہونٹوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ دھکیل کر اس کے کمرے میں پہنچایا جاتا رہا، ایسے جیسے اس کمرے میں بیٹھے 2 وجود دکھائی دینے کی صلاحیت کھو بیٹھے ہوں یا ہوا میں تحلیل ہی ہوگئے ہوں، جیسے وہ تو سب کچھ دیکھ سکتے ہوں مگر کوئی ان کو دیکھ نہ سکتا ہو۔ ہوتے ہوتے ایک چھوٹا سا کمرہ ایک چھوٹے سے اسٹور روم میں بدل گیا، جس کے پیچھے ٹٹول کر ایک پلنگ اور اس کے ساتھ رکھی کرسی دکھائی دیتی ہو۔

وہ بھی ستی ساوتری بہو کی طرح چپ چپیتے بغیر سوال کے دیکھتی رہی۔ اگلے کئی دن اس کے کان کسی بولنے والوں کو ترس گئے، جانے کس عذر کی بنا پر خموشی سی طاری ہوگئی تھی، کوئی اس سے بات کرتا نہ پاس رکتا۔ بولتے بولتے اسے دیکھ کر سب چپ ہونے لگے، وہ گھر میں ایک بے وقعت بوجھ کی مانند دکھنے لگی تھی۔ ایک پُراسرار سی قطعہ تعلقی ہر طرف طاری تھی۔ خود تو بول ہی نہ پاتی تھی کہ ساس نے پہلے ہی دنوں میں اسے روک کر سکھا دیا تھا کہ ’ہم زیادہ بولنے والوں کو پسند نہیں کرتے ہیں’ چناچہ پسند آنے کی خواہش میں وہ بغیر کچھ بولے سب کچھ دیکھتی رہی۔ سارا عذاب ہی اس پسند آنے کی خواہش سے شروع ہوتا ہے کہ لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی پسند آنے کی خواہش میں دھکیل دیا جاتا ہے، اور وقت کے ساتھ ساتھ یہی پسند ان کی زندگی کا عذاب بن کر رہ جاتی ہے۔

گیلری میں قدم قدم آگے بڑھتی گئی دیوار کے ساتھ جا بجا بے ہنگم تاریں لٹک رہی تھی۔ دیواروں کے کونوں سے لمبے لمبے جالے لٹک رہے تھے، کونوں میں گندے کپڑے اور پوچیاں سجی تھیں۔ گیلری کے دوسرے کونے تک پہنچتے پہنچتے گھر کی مفلسی اور پسماندگی چیخ چیخ کر اپنا مدعا سنا چکی تھی۔ کبھی اس گیلری کے آخر میں ایک چم چم کرتا صحن تھا، جس پر ٹائل لگا پکا فرش روز پانی سے دھویا جاتا تو لشکارے مارنے لگتا۔

صحن کے ایک طرف باورچی خانے کا دروازہ اور دوسری طرف کمروں کی طرف کھلنے والا دروازہ تھا۔ قبر بننے سے پہلے یقیناً یہ ایک گھر تھا۔ خدا انسانوں کو گھر ہی دیتا ہے مگر انسان اپنی مرضی سے ان کو قبروں میں بدل دیتے ہیں۔ ایک عمر گھر سجانے میں لگ جائے تو دوسری گھر بچانے میں لگانی پڑتی ہے۔ تو جب تک مہلت تھی سروں پر سورج میٹھی میٹھی دھوپ چمکاتا رہا، گھر سکتا رہا مگر بیاہ کر لائی گئی بہو کے لیے جگہ نہ بنا سکا تھا۔

پھر مہلت گزری تو آہستہ آہستہ سجانے کا وقت ہاتھ سے نکلتا اور بچانے کا پھیلتا گیا۔ جو جگہ گھر کی بہو کے لیے نہ نکلی وہ آخر بیوہ بیٹی کے لیے سر کے بل نکالنی پڑی۔ بیٹی کی خاطر گھر ایک سے دو ٹکرے ہوا پھر بیٹے کی خاطر دو سے تین۔ تین سے چار بھی ہو سکتا تھا اگر اس صبح وہ غسل خانے کے رستے سامان باہر رکھ کر اس گھر کو الوداع نہ کہہ آئی ہوتی۔ اپنے اچھے یا بُرے مقدر پر اس روز اس نے آمین پڑھ کر مہر لگا دی تھی۔ جیے گی یا مرے گی مگر یہ سوچ لیا تھا کہ انساں نما مجسموں میں بے جان شے کی مانند نہیں رہے گی۔

اس کے چلے جانے کے بعد بھائی کو سسر نے گلی میں کھڑا کرکے خوب باتیں سنائی تھیں کہ شریف لڑکیوں کے ایسے لچھن نہیں ہوتے۔

وہ توقع کرتے تھے کہ مٹی کا مادھو بن کر جہاں رکھیں گے رہ جائے گی مگر وہ سر پر الزام لے کر دوسری طرف اتر گئی تھی۔ وہ مٹی کا مادھو نہ بن سکی تھی اس لیے دامن سمیٹ کر نکل آئی تھی۔

‘لو سنبھالو اپنا صاف ستھرا خوبصورت گھر’، جس میں اس کی اور اس کی بیٹی کی جگہ نہ تھی۔

بھائی بھی گھر آکر خوب چیخا کہ بیٹیاں بیاہ کر میکے میں تنگ دامن ہوجاتی ہیں۔ مقدر کے کچھ دھکے پھر میکے میں بھی کھائے۔ خالی کی ہوئی جگہ واپس دینا اور اتاری ہوئی ذمہ داری واپس اٹھانا ہر کسی کو کھلتی ہے۔ بلآخر میاں نے جیسے تیسے کرکے بیوی اور بیٹی کو پاس بلا لیا۔ پردیس کی سڑکوں کے سوا اب کوئی سہارا نہ بچا تھا۔

دنیا میں کوئی بھی سہارا نہ رہے تو بھی آسماں پر ایک ہاتھ رہتا ہے جو تھام لے تو انساں ہر ہاتھ سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ خدا نے ان کا ہاتھ تھام لیا تھا، پھر رزق ملنے لگا تو سر چھپانے کو چھت بھی مل گئی، پردیس نے بے آسرا لوگوں کو پناہ دے دی!

کمرے میں کھلتا لکڑی کا کھٹ کھٹ کرتا شور مچاتا بوسیدہ دروازہ دھکیلا تو سامنے پلنگ پر 2 سوکھے جسم جھکی ہڈیوں کے ساتھ بیٹھے نظر آئے۔ جسم سکڑ گئے تھے اور طاقت نچڑ گئی تھی جبکہ کندھے آسماں سے اتر کر زمین سے آ لگے تھے۔ اب منہ سے آواز نہ نکلتی تھی۔ ان کے سامنے بیٹھے اسے سالہا سال پہلے کے وہ دن پھر ایک ایک کرکے یاد آنے لگے تھے۔ اس گھر میں کوئی کمی نہ تھی سوائے انسانیت کے۔ چیزیں تھیں، سلیقہ تھا، اسباب تھے، اناج تھا مگر ان سب سے زیادہ غرور تھا۔ انسانوں سے بڑھ کر چیزوں پر، چیزوں سے بڑھ کر صفائیوں پر، صفائی سے بڑھ کر اپنے اختیار اور طاقت پر۔

آج وہ ان کے سامنے بیٹھی بول سکتی تھی، منہ مروڑ سکتی تھی، سر اٹھا کر آواز بڑھا کر، دیگچیوں سے اونچی آواز میں چلا سکتی تھی مگر وہ خموش تھی۔

اس کے کندھے جھکے تھے اور نہ گردن میں سریا تنا تھا۔ وہ خودمختار تھی نہ طاقتور تھی، سب کچھ کرسکتی تھی لیکن اس نے غرور نہ کیا، بلکہ آج بھی عزت سے بیٹھی تھی وہ جس نے ظلم کیا تھا نہ سہا تھا۔

مزید پڑھیے: افسانہ: طوفان کی دستک

وہ جو کہتے ہیں دنیا میں ظلم کا سکہ چلتا ہے ادھورا علم دیتے ہیں۔ دنیا میں ظلم کا سکہ کھوٹا سکہ ہے جو جہاں سے چلتا ہے وہیں لوٹ آتا ہے۔ جس نے خموشی سے ظلم سہا سمجھو اس نے فرعون کا سارا کارواں ڈبو دیا۔ کچھ مثالیں تو ابھی اس کے سامنے بیٹھی تھیں۔ چھوٹی تھیں مگر مکمل تھیں!

ہم انساں سب اپنی اپنی زندگی میں ریاستوں کی مانند ہوتے ہیں، ہمیں ہمیشہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں کی گئی اندازِ حکمرانی کا جواب دینا ہوتا ہے۔ مگر ہم اکثر فرعون بن بیٹھتے ہیں اور پھر ہمیں سمندر میں ڈوبنا پڑتا ہے۔

جتنی دیر بیٹھی تھی وہ جھکی نظروں کے پیچھے سالوں پرانی بستر کی چادر کی طرف دیکھتی رہی تھی جس پر جانے کتنی سلوٹیں تھیں جو پہلے ماتھوں پر ہوتی تھیں جبکہ بستر بے شکن ہوتے تھے۔ اب چہروں کی طرف دیکھنے کا اس میں حوصلہ نہ تھا جو بے شکن تھے اور بستر سلوٹوں سے اٹ چکے تھے۔ اس نے سلے لبوں سے ظلم سہا تھا، آج ظالم کو ڈوبتے دیکھنے کی ہمت بھی نہ تھی۔ دیوار سے لٹکتے جالے آج وہ دیکھ سکتی تھی، مگر اس کے سامنے بیٹھے انسان اب دیکھ سکنے کے باوجود بھی دیکھنے کے قابل نہ تھے۔

واپسی کا وقت تھا وہ اسی خموشی سے جس سے آئی تھی واپسی کے لیے اٹھی تھی۔ مگر یونہی جاتی تو یہ ظلم در ظلم کا سلسلہ اسی کے ساتھ چل پڑتا۔ ظلم کی داستان کو وہ نئے سرے سے اپنی زندگی کی طرف موڑنا نہ چاہتی تھی۔ چنانچہ تکیے کے نیچے کچھ نوٹ دباتے اس نے ظلم کا اختتام کردیا تھا۔