پہلے جلسے کیلئے کوئٹہ کا انتخاب کرنے پر 'پی ڈی ایم' پر تنقید

اپ ڈیٹ 05 اکتوبر 2020

ای میل

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ٹی ایم نے پہلا جلسہ کوئٹہ میں کرنے کا اعلان کیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز
اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ٹی ایم نے پہلا جلسہ کوئٹہ میں کرنے کا اعلان کیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز

کوئٹہ: جام کمال کی زیر قیادت صوبائی حکومت کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے حال ہی میں قائم ہونے والے اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی قیادت کی جانب سے پہلے جلسے کے لیے کوئٹہ کا انتخاب کرنے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ ناکام ثابت ہوگا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق صوبائی حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے سیکریٹری جنرل سینیٹر منظور احمد کاکڑ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام پہلے ہی ان جماعتوں کو مسترد کرچکے ہیں کیونکہ جب یہ اقتدار میں تھے تو انہوں نے ملک خاص طور پر صوبے کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن صوبائی اسمبلی مبین خلجی، بی اے پی کی بشریٰ رند، صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی اور بلال کاکڑ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں جلسے کا انعقاد شہر میں امن و عامہ کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش ہے۔

مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن 'پی ڈی ایم' کے پہلے صدر منتخب

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امن و عامہ کی کوئی صورتحال پیدا ہوئی تو قانون حرکت میں آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنی کرپشن بچانے کے لیے اتحاد بنایا، ساتھ ہی انہوں نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے سزا یافتہ رہنما کس کے کہنے پر بلوچستان کے عوام کو اکسا رہے ہیں۔

دوران گفتگو انہوں نے کہا کہ بھارت بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں ترقی، چین پاکستان اقتصادی راہداری اور اس کے مغربی روٹ کی کامیابی کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے اور اپوزیشن جماعتیں سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

سینیٹر منظور احمد کاکڑ کا کہنا تھا کہ جب یہ جماعتیں حکومت میں تھیں تو سب کچھ ٹھیک تھا لیکن 2018 کے عام انتخابات میں عوام کی جانب سے انہیں مسترد کرنے پر یہ انتخابی دھاندلی کے ساتھ آگے آگئیں۔

انہوں نے کہا کہ 'میں بلوچستان کے نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ 11 اکتوبر کو ملک کے دشمنوں کو مسترد کریں'۔

اس موقع پر بشریٰ رند نے پی ڈی ایم رہنماؤں کو 'چلا ہوا کارتوس' قرار دیا اور کہا کہ یہ حکومت کے لیے کوئی مسئلہ کھڑا کرنے کے قابل نہیں۔

علاوہ ازیں رکن صوبائی اسمبلی مبین خلجی کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام (فضل) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کو 2013 کے انتخابات کو یاد رکھنا چاہیے، 'یہ وہ وقت بھول گئے جب یہ منتخب ہوئے تھے اور ایک دوسرے پر تنقید کرتے تھے'۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم ایک ذاتی مفاداتی گروپ ہے جسے لوگوں نے مسترد کردیا اور 'اب یہ لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم کے کوئٹہ جلسے سے قبل بلاول بھٹو سے اختر مینگل کی ملاقات

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل مولانا فضل الرحمٰن کو 2 مرتبہ (نواز شریف اور آصف زرداری کی جانب) سے دھوکا دیا گیا اور اب یہ تیسری مرتبہ بھی دھوکا دیں گے۔

ادھر لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت جمہوری طاقت پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جلسہ کرنا اپوزیشن کا حق ہے لیکن انہیں اس کے سائے میں امن و عامہ میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔