سشانت سنگھ راجپوت کے وکیل نے فرانزک رپورٹ کو بے نیتجہ قرار دے دیا

اپ ڈیٹ 05 اکتوبر 2020

ای میل

اداکار نے 14 جون کو خودکشی کرلی تھی—فائل فوٹو: انسٹاگرام
اداکار نے 14 جون کو خودکشی کرلی تھی—فائل فوٹو: انسٹاگرام

بولی وڈ اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی موت کی تفتیش سے متعلق آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (اے آئی آئی ایم ایس) کی فرانزک ٹیم کی رپورٹ جاری ہونے کے بعد اداکار کے اہلخانہ کے وکیل نے رپورٹ کو بے نتیجہ قرار دے دیا ہے اور سی بی آئی ڈائریکٹر سے نئی فرانزک ٹیم تشکیل دینے کی درخواست کی ہے۔

چند روز قبل بھارت کے مرکزی ادارے سینٹرل فرانزک سائنس لیبارٹری (سی ایف ایس ایل) نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ایسے شواہد نہیں ملے، جن سے یہ بات ثابت کی جا سکے کہ اداکار کو قتل کیا گیا۔

بعدازاں 3 اکتوبر کو پہلے بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ دہلی کے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (اے آئی آئی ایم ایس) کے ڈاکٹرز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اداکار سشانت سنگھ کو قتل نہیں کیا گیا اور یہ خودکشی کا کیس ہے۔

مزید پڑھیں: ‘سشانت سنگھ کو قتل نہیں کیا گیا، یہ خودکشی کا کیس ہے’

رپورٹ کے مطابق اے آئی آئی ایم ایس نے سی بی آئی کو دی گئی رائے میں اداکار کے اہلخانہ اور ان کے وکیل کی جانب سے زہر دینے اور گلا گھوٹنے کے نظریات کو مسترد کردیا۔

ذرائع نے کہا کہ اے آئی آئی ایم ایس کے پینل نے اس کیس میں حتمی میڈیکو-لیگل رائے دینے کے بعد جانچ مکمل کرلی اور فائل بند کردی جبکہ سی بی آئی اپنی تحقیقات کے ساتھ اس رپورٹ کی تائید کررہی ہے۔

بعدازاں اے آئی آئی ایم ایس کے فرانزک میڈیکل بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر سدھیر گپتا نے اپنی حتمی رپورٹ سے متعلق بیان میں اداکار کے قتل کے امکانات کو مسترد کردیا تھا۔

—فائل فوٹو: انسٹاگرام
—فائل فوٹو: انسٹاگرام

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا تھا کہ اداکار کے جسم پر پھندے سے لٹکنے کے علاوہ کوئی زخم نہیں، ان کے جسم اور کپڑوں پر جھگڑے/بچاؤ کی کوشش کے کوئی نشانات نہیں تھے۔

ڈاکٹر سدھیر گپتا نے مزید کہا تھا کہ بومبے ایف ایس ایل اور اے آئی آئی ایم ایس ٹوکسیکولوجی لیب کی جانب سے کی گئی تفتیش میں خودکشی کی ترغیب دینے والے کسی مواد کی موجودگی نہیں پائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ‘سشانت سنگھ کو قتل کرنے کے شواہد نہیں ملے’

ان کا کہنا تھا کہ اداکار کی گردن پرموجود نشان، پھندا لگنے کی وجہ سے تھا۔

اب ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق وکیل وکاس سنگھ نے کہا کہ اے آئی آئی ایم ایس کی رپورٹ پر بہت زیادہ فکر مند ہوں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کی گئی ٹوئٹ میں وکاس سنگھ نے کہا کہ سی بی آئی سے درخواست کروں گا کہ ایک نئی فرانزک ٹیم تشکیل دے۔

اے آئی آئی ایم ایس کی ٹیم لاش کی عدم موجودگی میں حتمی رپورٹ کیسے دے سکتی ہے، وہ بھی کوپر ہسپتال کی جانب سے کیے گئے ناقص پوسٹ مارٹم کی بنیاد پر جس میں اداکار کی موت کے وقت تک کا ذکر شامل نہیں ہے۔

سشانت سنگھ راجپوت کے اہلخانہ کے وکیل نے اے آئی آئی ایم ایس کی رپورٹ کو بے نتیجہ قرار دیا کیونکہ ٹیم نے حقیقت میں اداکار کی لاش کا معائنہ نہیں کیا تھا بلکہ تصاویر پر انحصار کیا تھا۔

وکاس سنگھ کے الزامات پر سی بی آئی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایجنسی نے کسی پہلو کو نظرانداز نہیں کیا۔

سی بی آئی نے بیان میں کہا کہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن سشانت سنگھ راجپوت کی موت سے متعلق پیشہ ورانہ تحقیقات کررہی ہے جس میں تمام پہلوؤں کو دیکھا جارہا ہے اور آج تک کسی بھی پہلو کو مسترد نہیں کیا گیا، تفتیش جاری ہے۔

مزید پڑھیں: سشانت سنگھ راجپوت کی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نئے انکشافات

گزشتہ ہفتے سشانت سنگھ کے اہلخانہ کے وکیل وکاس سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں اے آئی آئی ایم ایس پینل کے ایک ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ سشانت کا گلا گھونٹا گیا تھا۔

انہوں نے ٹوئٹ کی تھی کہ سی بی آئی کی جانب سے سشانت کے خودکشی کی وجہ کو قتل میں تبدیل کرنے میں تاخیر پر مایوسی ہوئی ہے۔

وکیل نے کہا تھا کہ اے آئی آئی ایم ایس کی ٹیم کے ایک ڈاکٹر نے مجھے بہت پہلے بتایا تھا کہ میری بھیجی گئی تصاویر سے 200 فیصد عندیہ ملتا ہے کہ سشانت کی موت گلا گھوٹنے سے ہوئی اور یہ خودکشی نہیں ہے۔

سشانت سنگھ راجپوت نے 14 جون کو بظاہر ڈپریشن کے باعث خودکشی کرلی تھی اور ابتدائی تین دن میں ہی ان کی ابتدائی پوسٹ مارٹم جاری کی گئی تھی، جس میں ان کے قتل کے خدشات کو مسترد کیا گیا تھا۔

بعد ازاں ان کی تفصیلی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی بتایا گیا تھا کہ بظاہر اداکار نے پھندا لگا کر خودکشی کی اور ان کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی جب کہ ان کے جسم پر تشدد کے کوئی نشانات نہیں ملے۔

اگرچہ زیادہ تر ماہرین اور سیکیورٹی عہدیدار اس بات پر متفق ہیں کہ سشانت سنگھ نے بظاہر خودکشی کی، تاہم اداکار کے مداح اور ان کے قریبی رشتہ و اہل خانہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں پریشان کرکے خودکشی پر مجبور کیا گیا۔

سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی میں کب، کیا ہوا، مکمل تفصیلات جاننے کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں۔

سشانت سنگھ کیس پر مختصر نظر - کب، کیا ہوا؟