جب پاکستانی خواتین کا کام ‘میلان فیشن ویک’ میں پیش کیا گیا

اپ ڈیٹ 09 اکتوبر 2020

ای میل

34 سالہ ادینہ بی بی خیبرپختونخوا کے دُوردراز ضلع چترال کے پسماندہ علاقے گرم چشمہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کی رہائشی ہیں جو شادی شدہ گھریلو خاتون ہیں۔ ان کے شوہر گاؤں کے دیگر لوگوں کی طرح کھیتی باڑی کرتے ہیں لہٰذا کم آمدنی کے باعث گھر کے اخراجات پورے کرنے میں مشکل کا سامنا تھا۔

ادینہ بی بی گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے شوہر کا ہاتھ بٹانا چاہتی تھیں لیکن وہ تعلیم سے محروم تھیں اور چترال میں خواتین کو روزگار فراہم کرنے کے لیے کوئی خاص مواقع نہیں تھے، لیکن ان کے پاس چترالی روایتی دستکاری کا ہنر تھا جو انہوں نے اپنی ماں سے سیکھا تھا۔ پھر جب صرف کھیتی باڑی سے گھر اور بچوں کے اخراجات پورے نہ ہوئے تو ادینہ بی بی نے سلائی کڑھائی اور دستکاری کا کام شروع کردیا۔

ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے ادینہ بی بی نے بتایا کہ ’گھر کے اخراجات زیادہ اور آمدن کم تھی، اوپر سے بچوں کی اسکول فیس اور دیگر خرچے بھی تھے اس لیے گھریلو کام کاج ختم کرکے دستکاری کا کام شروع کرتی اور رات دیر تک لگی رہتی تھی‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’ابتدائی طور پر میں ہاتھ سے خواتین اور بچیوں کے لیے روایتی چترالی ٹوپی، بچوں اور بچیوں کے سر پر باندھنے کے لیے پٹی اور دستانے بناتی تھی جس سے مہینے میں بمشکل 2 ہزار روپے تک کماتی تھی اور یہ سلسلہ کئی سالوں تک جاری رہا‘۔

اپنے حالات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم روز صبح اٹھ کر صرف دن گزارنے کا سوچتے تھے کیونکہ کوئی بھی بہتری کی امید نظر نہیں آتی تھی، کام سے گزارہ تو چل رہا تھا لیکن زندگی میں معاشی طور پر کوئی خاص بہتری نہیں آرہی تھی‘۔

بعدازاں ادینہ بی بی نے بتایا کہ ’2019 کے آخر میں گاؤں میں ایک انگریزنی آئی، جس نے گاؤں کی ہنر مند خواتین کو دستکاری کا کام شروع کرنے کو کہا۔ ہم نے سوچا کہ وہ مذاق کر رہی ہے، لیکن کچھ وقت بعد ہی اس نے علاقے کی نوعمر فٹبالر کرشمہ علی کے ذریعے دستکاری کے کام کا آغاز کروا دیا‘۔

گاؤں کی خواتین دستکاری کا کام کررہی ہیں
گاؤں کی خواتین دستکاری کا کام کررہی ہیں

اس حوالے سے وہ بتاتی ہیں کہ ’انگریزنی کے منصوبے پر کام کرنے کے لیے گاؤں میں ایک نجی اسکول میں آفس بنایا گیا جہاں خواتین نے کام شروع کیا لیکن ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کے ہاتھ کا بنایا ہوا کام اٹلی جیسے ملک میں بین الاقوامی فیشن شو میں جلوے بکھیرے گا‘۔

اس منصوبے کا آغاز کرنے والی اطالوی فیشن ڈیزائنر اسٹیلا جین ہیں جو چترال کی گھریلو خواتین کے ہاتھوں کشیدہ کاری کی ہوئی ملبوسات کو میلان فیشن ویک میں لے گئیں اور خوب پذیرائی سمیٹی۔

اسٹیلا جین کے اس منصوبے کی نگرانی کرشمہ علی کر رہی تھیں، جس میں ادینہ بی بی کے علاقے سمیت گاؤں کی 100 سے زائد خواتین کام کررہی تھیں۔

سینٹر میں کام کرنے والی فریدہ بی بی بتاتی ہیں کہ ’ان کا تجربہ بہت اچھا رہا، فیشن ڈیزائنر نے ترقی یافتہ ممالک کا سسٹم شروع کیا تھا، یعنی جتنا کام اتنا معاوضہ۔ ہم صرف ہاتھوں سے کڑھائی اور گُل کاری کا کام کرتے تھے جس میں قمیض کے گلے، دامن گھیرے، پاکٹ اور واسکٹ پر خوبصورت کڑھائی تیار کرنا شامل تھا اور اس کے لیے کپڑے سے لے کر سارا سامان اسٹیلا ہی فراہم کیا کرتی تھیں‘۔

کام کے نتیجے میں ملنے والے معاوضے سے مقامی خواتین بہت مطمئن رہیں
کام کے نتیجے میں ملنے والے معاوضے سے مقامی خواتین بہت مطمئن رہیں

100 سے زائد خواتین اس منصوبے پر کام کررہی تھیں
100 سے زائد خواتین اس منصوبے پر کام کررہی تھیں

ادینہ، فریدہ اور دیگر خواتین کام کے بدلے ملنے والے معاوضے سے بہت مطمئن اور خوش نظر آئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پاکٹ کی کڑائی 500، دامن کا ڈھائی ہزار جبکہ واسکٹ کا 5 ہزار لیتے تھے۔ 4 ماہ کے کام کے حوالے سے خواتین کہتی ہیں کہ پہلی بار ان کے کام کو سراہا گیا اور مناسب قیمت بھی دی گئی۔

ادینہ بی بی کہتی ہیں کہ ’میں اس کام کے ذریعے ماہانہ تقربیاً 20 سے 25 ہزار کما لیتی تھی جبکہ اس سے پہلے زیادہ کام کرکے بھی صرف 2 ہزار ہی کماتی تھی، اور بہت ہی کم ایسا ہوا ہے کہ اس محنت کے نتیجے میں کبھی 3 ہزار بھی کمائے ہوں۔ مگر اب جب اتنے سارے پیسے کمائے تو ہماری زندگی پر کافی مثبت اثر پڑا‘۔

وہ بتاتی ہیں کہ اس دوران انہوں نے چترال ٹاؤن کے کالج میں پڑھنے والے اپنے بڑے بیٹے کی فیس کے لیے پیسے جمع کیے، یونیفام اور کتابیں بھی خریدیں اور قرضے بھی ادا کیے اور اس کے ساتھ گھر کا کام بھی آسانی سے کرتی تھی۔

چترال کی خواتین کے لیے خوشحالی لانے والا یہ منصوبہ دسمبر 2019ء میں شروع ہوا تھا لیکن مارچ 2020ء میں کورونا وبا کے باعث متاثر ہوگیا اور پھر فلائٹ آپریشنز بند ہونے کی صورت میں کام بھی بند ہوگیا۔

اب خواتین منتظر ہیں کہ کورونا ختم ہوجائے تاکہ ان کا کام دوبارہ شروع ہوجائے۔ وہ کہتی ہیں ایسے منصوبوں سے پسماندہ علاقوں کی خواتین کو معاشی طور پر خود مختاری میں بہت مدد ملے گی اور معاشرے میں ہنر کی اہمیت بھی بڑھے گی۔

میلان ویک میں چترالی خواتین کا کام پیش کیا
میلان ویک میں چترالی خواتین کا کام پیش کیا

نوجوان فٹبالر اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کرشمہ علی بتاتی ہیں کہ اسٹیلا جین خواہشند مند تھیں کہ چترالی روایتی کڑھائی والی ملبوسات کو میلان فیشن شو میں لے جائیں اور جب انہوں نے کام دیکھا تو بے حد متاثر ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’اس منصوبے کو شروع کرنے کا مقصد پسماندہ علاقوں کی ہنر مند خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانا اور ان کے کام کو بین الاقوامی مارکیٹ تک پہنچانا تھا، ہمیں اپنے مقصد میں بڑی حد تک کامیابی ملی، خواتین کو اچھے کام کا موقع فراہم کیا اور ہمارے کام کی قدر کی گئی‘۔

کرشمہ مزید بتاتی ہیں کہ ’میلان ویک میں ان کے کام کو بے حد سراہا گیا اور اس پر مزید کام کے لیے معروف ڈایزائنرز نے بھی رابطہ کیا لیکن کورونا کے باعث بات آگے نہیں بڑھ سکی ہے جبکہ موجودہ کام بھی رکا ہوا ہے‘۔

اطالوی ڈیزائنر اسٹیلا جین بتاتی ہیں کہ ’میں نے 2005ء میں شیوبیناک کے نام سے پروجیکٹ کا آغاز کیا تھا جس میں چترالی پٹی اور دیگر ملبوسات تیار کرکے انہیں بین االاقوامی مارکیٹ تک پہنچانا شروع کیا۔ اس منصوبے کے لیے بیک وقت 1200 خواتین کام کرتی تھیں پھر ان کے تیار کردہ روایتی ملبوسات دبئی، کینیڈا سمیت دیگر ممالک پہنچائے جاتے تھے‘۔

انہوں نے بتایا کہ باہر ممالک میں ہاتھ سے تیار کردہ ملبوسات اور سلائی کڑھائی کے کام والے پرس (بٹوے) سمیت دیگر سامان کی مانگ زیادہ ہے۔

اطالوی ڈیزائنر کہتی ہیں کہ ’چترال کی خواتین کو کڑھائی کی کوئی تربیت بھی نہیں ملی، لیکن گھر سے جو کام سیکھا ہے وہ لاجواب ہے، جن کو تربیت سے مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے، مگر افسوس کہ اس جانب حکومتی سطح پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے، نہ مارکیٹ تک لے جانے کے لیے کوئی اقدامات کیے گئے ہیں‘۔

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے وابستہ اسرار صوبر بھی چترالی روایتی ملبوسات کو عالمی مارکیٹ تک لانے کے لیے 2005ء سے کام کر رہے ہیں اور پاکستان کے معروف تعلیمی ادارے انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) سے ایم بی اے کرنے کے بعد وہ نوکری کرنے کے بجائے روایتی ملبوسات کا کاروبار کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

چترالی خواتین کے کام کو بے حد سراہا گیا اور اس پر مزید کام کے لیے معروف ڈایزائنرز  نے بھی رابطہ کیا
چترالی خواتین کے کام کو بے حد سراہا گیا اور اس پر مزید کام کے لیے معروف ڈایزائنرز نے بھی رابطہ کیا

اس حوالے سے اسرار صوبر بتاتے ہیں کہ 2007ء سے 2008ء تک مالاکنڈ میں جاری رہنے والی دہشت گردی سے بہت نقصان پہنچا کیونکہ روایتی ملبوسات اور دیگر کا تعلق امن اور سیاحت سے ہے اور اگر امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہ ہو اور سیاح نہ آئیں تو ان کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’حکومت کی جانب سے خواتین کو معاشی طور پر خود مختار بنانے کے لیے اس طرف کوئی توجہ نہیں ہے حالانکہ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس سے ملک کا تاثر بھی اچھا ہوتا ہے اور اقتصادی طور پر فائدہ بھی ہوتا ہے اور سب سے بڑی بات پسماندہ علاقوں کی خواتین کو معاشی فائدہ پہنچتا ہے‘۔

اسرار، کرشمہ علی اور اس سے جڑی خواتین پُرامید ہیں کہ حالات میں بہتری آنے کے ساتھ دستکاری کے کام کو مزید وسعت ملے گی اور ہنرمند گھریلو خواتین کی زندگیاں بھی بدل جائیں گی۔

پاکستانی نژاد اسکاٹش ٹیکسٹائل فیشن ڈیزائنر عادل اقبال 2010ء میں پاکستان آئے اور چترالی ثقافتی ملبوسات اور دستکاری پر کام کیا۔ عادل اقبال نے 2 سال چترالی دستکاری کے مختلف ڈایزائنرز کے ملبوسات تیار کیے جو چترالی ہنرمند خواتین نے مکمل کیے تھے جس پر انہیں 2012ء میں دیوار آرٹس کے ایورڈ سے نوازا گیا۔

انہوں نے چترال میں ہنرمند گھریلو خواتین کی تربیت اور ان کے کام کو مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے تربیتی مرکز بھی کھولا جہاں 500 خواتین کو فیشن کے حوالے سے تربیت دی گئی اور بہتر کام کرنے کے مواقع بھی فراہم کیے گئے۔

فوربس نامی ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے عادل اقبال نے تسلیم کیا کہ چترالی خواتین کے کام نے انہیں بہت متاثر کیا ہے لہٰذا ان کی ترجیح پسماندہ علاقوں کی ہنرمند خواتین کو مین اسٹریم میں لانا اور انہیں ان کا حق دینا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چترالی ہنرمند خواتین کی زندگیاں بدل رہی ہیں لیکن ساتھ ہی کئی مشکلات بھی ہیں۔ مثلاً ملکی معاشی حالات اور بدامنی۔ ان سب کے علاوہ خوبصورت سیاحتی علاقے میں دیگر مسائل بھی درپیش ہیں اور وہاں کی مقامی خواتین کی دماغی صحت پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ ایسے میں چترال میں خودکشی کی شرح زیادہ ہے، جس کی بڑی وجہ روزگار کے مواقع نہ ہونا بھی شامل ہیں۔ تاہم اقبال کو یقین ہے کہ مستقبل میں ان ہنرمند خواتین کی معاشی زندگی میں بہت بہتری آئے گی۔