پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا گرفتاریوں کے خلاف ہنگامی منصوبہ تیار

اپ ڈیٹ 12 اکتوبر 2020

ای میل

گوجرانوالہ کے ڈپٹی کمشنر نے ابھی تک اپوزیشن کی جناح گراؤنڈ میں عوامی اجلاس کی درخواست پر حامی نہیں بھری — فائل فوٹو: اے ایف پی
گوجرانوالہ کے ڈپٹی کمشنر نے ابھی تک اپوزیشن کی جناح گراؤنڈ میں عوامی اجلاس کی درخواست پر حامی نہیں بھری — فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور: اپوزیشن کی 11 جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے منصوبہ بنایا ہے کہ اگر پہلے جلسے سے قبل ان کے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تو وہ احتجاج کا دائرہ گوجرانوالہ اور اس سے ملحقہ علاقوں تک بڑھا دیں گے۔

یاد رہے کہ 11 جماعتوں کے اتحاد کی صورت میں بننے والی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا پہلا جلسہ 16 اکتوبر کو صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں ہونا ہے۔

ڈان اخبار کی رپوٹ کے مطابق اپوزیشن اتحاد کے سینئر رہنماؤں نے کہا کہ اگرچہ گرفتاریوں کے امکانات کم ہیں تاہم انہوں نے گرفتاریوں کے بعد کی صورتحال کے حوالے سے فکرمند افراد کے لیے ہنگامی منصوبہ تیار کرلیا۔

اس حوالے سے ایک سینئر رہنما نے ڈان کو بتایا کہ ’پی ڈی ایم کے 15 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں گرفتاریوں کے بعد کی حکمتِ عملی کو حتمی شکل دی جائے گی لیکن ہنگامی منصوبے کے طور پر، گجرات، شیخوپورہ، سیالکوٹ اور لاہور سمیت دیگر علاقوں سے گوجرانوالہ جلسے کے لیے جانے والے شرکا کو علاقوں کی اہم سڑکوں پر دھرنا دینے کی ہدایت کی گئی ہے، مزید یہ کہ یہ وہ وقت ہوگا جب احتجاج کا اثر پورے خطے میں پھیلائیں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: تمام اپوزیشن پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر اکٹھی ہے، مولانا فضل الرحمٰن

ان کا مزید کہنا تھا کہ امن و امان کی خراب صورتحال میں کسی بھی غیر آئینی اقدام سے ہوشیار رہتے ہوئے اپوزیشن کی یہی کوشش ہے کہ سیاسی کارکنان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، اپوزیشن یا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان کے درمیان کوئی جھڑپ نہ ہو۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ سینیٹر پرویز رشید کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اس کی نگرانی کریں تاکہ صورتحال کسی بھی قسم کے تصادم کی طرف نہ جائے، ان کے بقول مسلم لیگ (ن) کا ماننا ہے کہ حکمران جماعت پی ٹی آئی کی خواہش ہے کہ اپوزیشن کو قانون نافذ کرنے والوں کے سامنے لاکھڑا کیا جائے۔

ادھر گوجرانوالہ کے ڈپٹی کمشنر نے ابھی تک اپوزیشن کی جناح گراؤنڈ میں جلسے کی درخواست منظور نہیں کی ہے۔

دوسری جانب ملتان کے تجربہ کار سیاست دان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ یہ انتظامیہ کے معمول کے ہتھکنڈے ہیں کہ منتظمین کو تیاری کے لیے کم سے کم وقت دینے کے لیے اجازت دینے کے معاملے کو آخری وقت تک ٹالتے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت مخالف پی ڈی ایم کا جلسہ کوئٹہ سے کراچی منتقل

اپنے ماضی کے تجربات کو یاد کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ اپوزیشن کو اجلاس سے روکنے کے لیے اسٹیڈیم میں پانی چھوڑ دیا جائے لیکن یہ حکومت کے خلاف ہی جائے گا، جیسا کہ جی ٹی روڈ ایک بہتر مقام ہوگا یہ تاثر دینے کے لیے کہ عوام بہت بڑی تعداد میں نکلی ہے۔

علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے ایک اور رہنما نے بتایا کہ میاں نواز شریف گوجرانوالہ کے جلسے سے سیٹلائٹ لنک کے ذریعے خطاب کریں گے جس کے انتظامات کرلیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مریم نواز جاتی امرا اور اس کے راستے پر اس ریلی کی قیادت کریں گی، تاہم آیا یہ ریلی شہر کے درمیان سے گزرے گی یا بائی پاس کرے گی اس کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تشکیل، وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ

دوسری جانب لالہ موسیٰ سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ریلی کی قیادت کریں گے، جہاں وہ ایک دن پہلے اسلام آباد سے پہنچیں گے۔

یہ ریلی آدھے گھنٹے وزیر آباد میں رکے گی جہاں پی پی پی کے ایک اُمیدوار پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخاب کی نشست کے لیے کھڑے ہیں۔

مزید یہ کہ سیالکوٹ، شیخوپورہ اور لاہور سے پی پی پی کے قافلے چیئرمین کی ریلی کے بجائے سیدھے جلسے کے مقام پر پہنچیں گے۔

علاوہ ازیں سیاسی مبصرین یا تجزیہ کار گوجرانوالہ میں اپوزیشن کے ایک اچھے شو کی اُمید کررہے ہیں، لاہور کے بعد یہ علاقہ مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہے اور 2018 کے انتخابات میں یہاں سے قومی اسمبلی کی 6 نشستیں جیتیں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:پی ڈی ایم کے کوئٹہ جلسے سے قبل بلاول بھٹو سے اختر مینگل کی ملاقات

اس کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اس اتحاد کی تیسری بڑی جماعت ہے، جسے ایک مدرسے سے 15 ہزار طلبہ کی طاقت حاصل ہے جبکہ اس جماعت نے 2012 میں یہاں سے نشست بھی جیتی تھی۔

مزید برآں پیپلز پارٹی کے ایک رہنما کا کہنا تھا کہ 1980 میں اقتدار میں رہنے والی یہ جماعت بھی اچھے شو کی کوشش کررہی ہے جبکہ اب تک پی پی نے 16 اکتوبر کے لیے عوام کو نہیں صرف قیادت کو متحرک کیا ہے۔


یہ خبر 12 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔