جب ایک بلیک ہول نے ستارے کو 'ہڑپ' کرلیا

12 اکتوبر 2020

ای میل

— فوٹو بشکریہ ایس ایس او
— فوٹو بشکریہ ایس ایس او

سائنسدانوں نے ایک بہت بڑے بلیک ہول کو ایک ستارہ اپنے اندر کھینچتے ہوئے دیکھا ہے جو زمین سے 21 کروڑ 50 لاکھ نوری برس دور تھا، جسے اسپیگٹی فائیڈ کا نام دیا گیا ہے۔

اسپیگٹی فیکشن کی اصطلاح کو اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب اجسام بلیک ہول میں داخل ہوتے ہیں تو بلیک ہول کے کنارے اور درمیان میں وہ جسم کسی نوڈل کی طرح کھچ جاتا ہے۔

بلیک ہولز میں کشش ثقل کی طاقت بہت مضبوط ہوتی ہے، اس میں میں تھوڑی جگہ پر انتہائی زیادہ مادے کی وجہ سے اس کی کشش اتنی زیادہ ہوجاتی ہے کہ روشنی، جو اب تک کی تحقیقات کے اعتبار سے اس کائنات کی سب سے تیز ترین چیز ہے، بھی اس سے فرار نہیں ہوسکتی۔

بلیک ہول کے قریب کوئی بھی شے اس کی کشش سے خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتی اور ٹکڑے ٹکڑے ہوسکتی ہے۔

یورپین سدرن آبزرویٹری (ای ایس او) کے ٹیلی اسکوپس کا استعمال کرکے دنیا بھر کے اداروں اور ماہرین نے ایک بہت بڑے بلیک ہول میں پھنس کر پھٹنے والے ستارے کی روشنی کو ریکارڈ کیا۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے منتھلی نوٹسز آف دی رائل آسٹرونومیکل سوسائٹی میں شائع ہوئے۔

سائنسدانوں کی ٹیم نے روشنی کی طاقتور چمک کا مشاہدہ گزشتہ سال اس وقت کیا تھا جب ایک بڑا بلیک ہوا ایک ستارے کو نگل رہا تھا۔

تحقیقی ٹیم کے قائد اور برمنگھم یونیورسٹی کے پروفیسر میٹ نکول نے بتایا 'کسی بلیک ہول کی جانب سے اپنے قریب ستارے کو نگل لینا سننے میں سائنس فکشن خیال لگتا ہے، مگر ایسا حقیقت میں ہوا'۔

یہ بلیک ہول حجم میں 10 لاکھ گنا زیادہ بڑا تھا اور اس ستارے کے نصف حصے کو اپنے اندر کھینچ لیا جبکہ باقی حصے کو باہر کی جانب طاقتور مادے کے ساتھ 2 کروڑ 20 لاکھ میل فی گھنٹہ کی رفتار کے ساتھ پھینک دیا۔

سائنسدانوں نے ستارے کی گرد اور ملبے کا مشاہدہ کیا جو بلیک ہول میں گم ہوتے ہوئے اس کے پھٹنے سے پہلے اٹھا۔

اس ایونٹ کو اے ٹی 2019 کیو آئی زی کا نام دیا گیا جو اب تک زمین کے سب سے قریب دریافت ہونے والا ایونٹ ہے، جس سے اس کی بے مثال تفصیلات ملیں۔