پاکستان نے بھارتی وزیر دفاع کے ہمسایہ ممالک پر عائد الزامات مسترد کردیے

اپ ڈیٹ 13 اکتوبر 2020

ای میل

دفترخارجہ نے بھارتی بیان کو غیرذمہ دارانہ قرار دیا—فائل/فوٹو:ڈان
دفترخارجہ نے بھارتی بیان کو غیرذمہ دارانہ قرار دیا—فائل/فوٹو:ڈان

پاکستان نے بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی جانب سے پاکستان اور چین پر اشتعال انگیزی کے الزامات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چوہدری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی جانب سے پاکستان اور چین پر جان بوجھ کر بھارت کے ساتھ سرحد میں کشیدگی پھیلانے کے غیر ذمہ دارانہ بیان کو پاکستان یکسر مسترد کرتا ہے’۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘بھارتی وزیر دفاع کا بیان آر ایس ایس-بی جے پی کے خود ساختہ نظریے کا پرچار کرنے کی ناکام کوشش ہے اور یہ بھارتی حکومت کا پاکستان کے ساتھ اپنی جارحیت کا اعتراف ہے’۔

مزید پڑھیں: پاکستان، چین مشن کے تحت سرحدی تنازع پیدا کرنا چاہتے ہیں، بھارت

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ‘بھارت کا پاکستان اور چین کے درمیان طویل اور پائیدار تعلقات کے خلاف پروپیگنڈے کی بھی مذمت کرتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ‘اپنی ریاستی دہشت گردی اور توسیع پسندانہ اقدامات کا خواہاں ملک کی جانب سے دوسروں کے خلاف اس طرح کے الزامات مضحکہ خیز ہیں’۔

پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘دنیا باخبر ہے کہ آر ایس ایس-بی جے پی حکومت کی سیاسی موقع پرستی نے خطے کے امن، استحکام اور سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے’۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘یہ بھارت ہی ہے جو پڑوسیوں کے ساتھ نہ صرف تنازعات پیدا کرتا ہے بلکہ ان کو پرامن حل سے بھی دور کرتا ہے’۔

زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ ‘راج ناتھ سنگھ ہندوتوا کے انتہا پسندانہ نظریات، اکھنڈ بھارت کے تصور کو پھیلانے کے لیے انتہا پسندی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے خطے کے امن و استحکام کو خطرات سے دوچار کر رہے ہیں’۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘بھارت کو اپنا جارحانہ ایجنڈا ختم کرکے اصلاحی رویہ اپناتے ہوئے پڑوسیوں کے ساتھ تصفیہ طلب تنازعات کا پرامن حل نکالنے پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے’۔

قبل ازیں بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان اور چین ایک مشن کے تحت 'بھارت کے ساتھ' سرحدی تنازعات' پیدا کرنے' پر کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نریندر مودی نے چین سے منسلک متنازع سرحد پر راہداری کا افتتاح کردیا

راج ناتھ سنگھ نے مذکورہ بیان مقبوضہ کشمیر، لداخ، اروناچل پردیش، ہماچل پردیش، سکم، اترکھنڈ اور بھارتی پنجاب سمیت پاکستان اور چین کے ساتھ واقع بھارت کی سرحدوں کے قریبی علاقوں میں تعمیر کیے جانے والے 44 پلوں کے افتتاح کے موقع پر ورچوئل تقریب میں دیا تھا۔

بھارتی وزیر دفاع نے اپنے ورچوئل خطاب میں کہا تھا کہ 'آپ ہمارے شمالی اور مشرقی سرحدوں کے ساتھ پیدا ہونے والی صورتحال سے بخوبی واقف ہیں'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'پہلے پاکستان اور اب چین بھی، گویا کسی مشن کے تحت کوئی سرحدی تنازع پیدا کرنا چاہ رہے ہیں'۔

راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ 'ہمارے پاس ان ممالک کے ساتھ 7 ہزار کلو میٹر کی سرحد ہے، جہاں تناؤ برقرار ہے'۔

این ڈی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ راج ناتھ سنگھ نے اصرار کیا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی 'بصیرت' کی حامل قیادت سرحدوں سے متعلق چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہی ہے اور 'بڑی اور تاریخی تبدیلیاں لائی جاری ہیں'۔

یاد رہے چین اور بھارت کے درمیان رواں برس جون میں لداخ کی متنازع سرحد پر جھڑپیں ہوئی تھیں جو بعد ازاں شدت اختیار کر گئی تھیں جس کے نتیجے میں بھارت کے 20 سے زائد فوجی مارے گئے تھے جبکہ چین نے اپنے نقصان سے آگاہ نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیں: سرحدی کشیدگی: چین اور بھارت کا ایک دوسرے پر فائرنگ کا الزام

خطے کی دونوں جوہری ممالک نے متنازع سرحد پر ہزاروں اضافی فوجی تعینات کیے تھے اور اسلحہ بھی پہنچا دیا تھا جبکہ کشیدگی تاحال مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

بھارت کی جانب سے متنازع علاقے میں سرنگ کی تعمیر کا مقصد چین کے مقابلے میں فوجیوں اور اسلحے کی فوری ترسیل ہے۔

مودی کی حکومت نے گزشتہ 6 برسوں سے کئی سرحدی علاقوں میں تعمیراتی کاموں کی رفتار تیز کردی ہے جس میں سڑکیں، پل اور دیگر کام شامل ہیں۔

بھارت اور چین کے درمیان 3 ہزار 500 کلومیٹر (2 ہزار 175 میل) کی متنازع اور غیر متعین سرحد کو لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کہا جاتا ہے اور یہ شمال میں لداخ ریجن سے بھارتی ریاست اروناچل پردیش تک پھیلی ہوئی ہے۔