امریکا ایشیا پیسیفک میں محاز آرائی کروانا چاہتا ہے، چین

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2020

ای میل

ملائیشیا کے ہم منصب ہشام الدین سے ملاقات کے بعد وانگ پی نے بیان جاری کیا — فوٹو: اے ایف پی
ملائیشیا کے ہم منصب ہشام الدین سے ملاقات کے بعد وانگ پی نے بیان جاری کیا — فوٹو: اے ایف پی

چین نے امریکا پر ایشیا پیسیفک میں محاز آرائی کا الزام عائد کیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایشیا پیسیفک میں امریکا پر 'محاذ آرائی' کا الزام عائد کرتے ہوئےکہا کہ 'انڈو پیسیفک اتحاد' کی تشکیل کا منصوبہ خطے کے لیے 'سیکیورٹی رسک' ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا اور چین میں ہواوے کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ

وانگ یی کی جانب سے یہ بیان ملائیشیا کے ہم منصب ہشام الدین حسین سے ملاقات کے بعد سامنے آنا۔

ملائیشین ہم منصب سے ملاقات میں انہوں نے کورونا وائرس سے لڑنے میں چین کی قیادت کی کوششوں سے متعلق آگاہ کیا اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی ایسوسی ایشن (آسیان) پر زور دیا کہ وہ 'بیرونی رکاوٹوں کو روکنے کے لیے مل کر کام کرے'۔

چینی وزیر خارجہ کا دورہ کوالالمپور دراصل جنوب مشرقی ایشیا کے دورے کا حصہ ہے اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ٹوکیو کا دورہ کیا اور جاپان، بھارت اور آسٹریلیا کے وزرائے خارجہ کے ساتھ چار طرفہ سربراہی اجلاس ہوا۔

وانگ یی نے امریکا کے زیر قیادت ابھرنے والے اتحاد کو یورپ میں نیٹو سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا جو کچھ کر رہا ہے وہ 'ایک خطرناک راستہ ہے'۔

انہوں نے کہا کہ امریکا پرانی سرد جنگ کی ذہنیت کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتا ہے اور مختلف گروہوں کے مابین تصادم پیدا کرنا چاہتا ہے جو جیو پولیٹیکل مقابلے کا باعث بنے گا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کا چین اور روس پر وائرس کی سازشوں میں ’ہم آہنگی‘ کا الزام

وانگ یی نے کہا کہ اس لحاظ سے حکمت عملی خود ہی ایک سیکیورٹی رسک ہے، اگر اسے آگے بڑھانے پر مجبور کیا گیا تو سرد جنگ کی تاریخ زندہ ہوجائے گی۔

چین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا، ایشیا پیسیفک کی اقوام متحدہ کی طرف سے چلائی جانے والی 'باہمی مفاد اور جیت کی حقیقت' کی پالیسیوں کے برخلاف خطے میں اپنا تسلط برقرار رکھنے پر تلا ہوا ہے۔

وانگ یی نے کہا کہ ہمارے خیال میں خطے کے مستقبل کا تعین خطے کے لوگوں کو کرنا چاہیے، مشرقی ایشیائی ممالک کے لیے ہمیں خود استحکام حاصل کرنے کا حق ہے اور ہمیں آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا بھی حق ہے'۔

واضح رہے کہ امریکا اور چین کے مابین گزشتہ کئی برس سے کشیدگی جاری ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے الزام عائد کیا جارہا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے چین نے مناسب اقدامات نہیں کیے اور عندیہ دیا جاتا ہے کہ امریکا کی جانب سے چینی حکومت کو اس معاملے پر سزا دی جائے گی۔

انہوں نے جنوری میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے کو منسوخ کرنے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کا چینی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم، دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھ گئی

چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے پر نئی پابندیوں کے بعد بیجنگ کی جانب سے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف اقدامات کی توقع کی جارہی ہے جو چین میں اپنی مصنوعات کی فروخت پر انحصار کرتی ہیں جن میں کوالکوم اور ایپل قابل ذکر ہیں۔

چینی حکومت کے زیر تحت کام کرنے والے اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ چینی حکومت ہواوے پر نئی پابندی کے بعد جوابی اقدامات کے لیے تیار ہے۔