امریکا کا معاہدے کے بعد طالبان کے خلاف پہلا فضائی حملہ

اپ ڈیٹ 13 اکتوبر 2020

ای میل

طالبان کے ترجمان کے مطابق قبضہ کیے جانے والے علاقوں کا کنٹرول پہلے ہی حاصل کرلیا گیا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی
طالبان کے ترجمان کے مطابق قبضہ کیے جانے والے علاقوں کا کنٹرول پہلے ہی حاصل کرلیا گیا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی

لشکر گاہ: امریکی حکام نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان کے خلاف فضائی حملے کیے گئے جو بڑے پیمانے پر جنگجوؤں کی جانب سے اہم صوبائی دار الحکومت کے قریب موجود فوجی اڈوں پر قبضہ کرنے کے بعد سامنے آئے۔

واضح رہے کہ یہ حملے گزشتہ 2 دنوں میں کیے گئے تھے جو غیر ملکی افواج کے انخلا سے متعلق امریکا اور طالبان کے درمیان فروری میں ہونے والے معاہدے کے بعد ایک غیر معمولی مداخلت ہیں۔

ڈان اخبار میں شائع برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس معاہدے کے ذریعے عسکریت پسند گروہ کی جانب سے سیکیورٹی ضمانت ملنے کے بعد افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہونا ہے اور کابل انتظامیہ کے ساتھ بیٹھ کر دہائیوں سے جاری جنگ کا پُرامن طور پر حل تلاش کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں موجود تمام امریکی فوجی کرسمس تک اپنے گھروں پر ہونے چاہئیں، ٹرمپ

علاوہ ازیں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات کے کچھ ادوار کے باجود یہ لڑائی جاری ہے۔

مزید یہ کہ گزشتہ 2 دنوں میں سیکڑوں طالبان نے ہلمند میں موجود سیکیورٹی چیک پوائنٹس پر حملہ کیا اور صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ کے اہم مضافاتی علاقوں پر قبضہ کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: افغان امن معاہدے کے اہم نکات

دوسری جانب امریکی فوج کے ترجمان کرنل سونی لیگیٹ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ امریکا کے فضائی حملے ’امریکا اور طالبان معاہدے‘ کا تسلسل ہی ہیں جس کے ذریعے افغان سیکیورٹی فورسز کو دفاعی تحفظ فراہم کیا جاتا رہے گا۔

کرنل سونی لیگیٹ نے افغانستان میں غیر ملکی افواج کے کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر کے بیان کو دہراتے ہوئے طالبان سے فوری طور پر ہلمند میں حملے روکنے کا مطالبہ کیا جبکہ انہوں نے اسے ’امریکا-طالبان معاہدے سے متصادم اور افغان امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے والا‘ قرار دیا۔

ادھر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ قبضہ کیے جانے والے علاقوں کا کنٹرول پہلے ہی حاصل کرلیا گیا تھا جبکہ ’کوئی نئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے‘۔

مزید پڑھیں:امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہوگیا،14 ماہ میں غیر ملکی افواج کا انخلا ہوگا

مزید یہ کہ ہلمند پولیس کے چیف جنرل خلیل الرحمٰن نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہلاکتوں کو روکنے کے لیے مدبرانہ حکمت عملی بنائی گئی ہے جبکہ آرڈر کے بحال ہونے پر سیکیورٹی جلد بحال ہوجائے گی‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کی فضائیہ کے حملوں سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 170 عسکریت پسند مارے گئے۔


یہ خبر 13 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔