جنگِ عظیم دوم کا بم ناکارہ بنانے کے دوران سمندر میں تباہی

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2020

ای میل

بم میں 2.4 ٹن دھماکا خیز مواد موجود تھا جو تقریباً 3.6 ٹن ٹی این ٹی کے برابر ہے— فوٹو: رائٹرز
بم میں 2.4 ٹن دھماکا خیز مواد موجود تھا جو تقریباً 3.6 ٹن ٹی این ٹی کے برابر ہے— فوٹو: رائٹرز

جنگ عظیم دوم کا 5400 کلو وزنی بم بحیرہ بالٹک میں ناکارہ بنانے کی کوشش کے دوران ہی تباہ ہوگیا لیکن کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق اس ڈیوائس کو 1945 میں رائل ایئرفورس نازی وارشپ پر حملے کے دوران گرایا تھا جسے ’ٹال بوائے‘ کا نام دیا گیا تھا اور یہ ’ارتھ کوئیک بم’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

یہ بم گزشتہ برس شمال مغربی پولینڈ میں واقع ساحلی شہر سوینوجسی کے قریب دریافت ہوا تھا جو 12 میٹر گہرائی میں دبا ہوا تھا۔

6 میٹر سے زائد طویل اس بم میں 2.4 ٹن دھماکا خیز مواد موجود تھا جو تقریباً 3.6 ٹن ٹی این ٹی کے برابر ہے۔

مزید پڑھیں: فرانس میں جنگ عظیم دوم کا 500 کلو وزنی بم برآمد

اس حوالے سے پولش نیوی نے کہا کہ انہوں نے پہلے کنٹرول شدہ دھماکے کا روایتی آپشن اختیار کرنے کا سوچا تھا لیکن 500 میٹر کے فاصلے پر واقع پُل کو نقصان کے خوف سے ایسا نہیں کیا تھا۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

اس کے بجائے انہوں نے ڈیفلیگریشن کی تکنیک کے استعمال کا ارادہ کیا جس میں ایک ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کے استعمال سے کسی دھماکے کے بغیر دھماکا خیز مواد کو جلایا جانا تھا۔

تاہم پولش نیوی کے ترجمان نے کہا کہ آخر میں ڈیفلیگریشن کا عمل، دھماکے میں تبدیل ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ اس عمل میں براہ راست شامل افراد کو کوئی خطرہ نہیں ہوا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ بم ناکارہ ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: دوسری جنگ عظیم کے بم کی دریافت پر لندن ایئر پورٹ بند

سوینوجسی سٹی ہال کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں ملٹری غوط غوروں کے آپریشن کے دوران کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی نہ ہی شہر کے انفرا اسٹرکچر کو کوئی نقصان پہنچا۔

رواں ہفتے آپریشن کے آغاز سے قبل بم کے مقام سے قریبی علاقوں میں موجود سیکڑوں افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔

ترجمان نے اسے ایک انتہائی نازک کام قرار دیا تھا کہ ایک ذرا سی وائبریشن سے بھی بم پھٹ سکتا تھا۔

علاوہ ازیں بم کو ناکارہ بنانے کے آپریشن کے دوران 16 کلومیٹر کے علاقے میں میری ٹائم ٹریفک بھی معطل کردی گئی تھی۔

— فوٹو:رائٹرز
— فوٹو:رائٹرز

تاریخ دان پیوٹر لاسکوسکی نے اپریل 1945 میں جرمن کروزر پر رائل ایئر فورس کے چھاپے سے متعلق کتاب میں لکھا ہے کہ جنگ عظیم دوم کے دوران سوینوجسی اس وقت جرمنی کا حصہ تھا جہاں جرمن نیوی کے اہم ترین بحری اڈے تھے جن پر بہت زیادہ بمباری کی گئی تھی۔

جنگ ختم ہونے سے قبل آخری دنوں میں ریڈ آرمی کی پیش قدمی روکنے کے لیے جہاز پر نصب توپوں کا استعمال کیا جارہا تھا۔

مزید پڑھیں: جاپانی نیوکلیئر پلانٹ سے 'جنگِ عظیم دوم کا بم' برآمد

16 اپریل 1945 کو رائل ایئرفورس نے 617 اسکواڈرن سے 18 لنکاسٹر بمبار بھیجے تھے۔

بمباروں نے 12 ٹال بوائز سے حملہ کیا تھا جن میں ایک وہ بم بھی شامل تھا جو اس وقت پھٹنے میں ناکام ہوگیا تھا۔

ٹیل بوائے کو ہدف کے قریب گر کر زیر زمین پھٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، جس سے نکلنے والی شاک ویوز تباہی پھیلاتی تھیں۔