پی ڈی ایم جلسے کے اعلان پر حکومت نے 'پولیس گردی' شروع کردی، احسن اقبال

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2020

ای میل

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ابھی تو پہلے جلسے کا اعلان ہوا ہے اس پر حکومت کی یہ کیفیت ہے—فوٹو: ڈان نیوز
رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ابھی تو پہلے جلسے کا اعلان ہوا ہے اس پر حکومت کی یہ کیفیت ہے—فوٹو: ڈان نیوز

مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 3 ماہ ڈی چوک پر جلسہ کیا اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا لیکن اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی حکومت 'پولیس گردی' پر اتر آئی ہے۔

گوجرانولا میں پی ڈی ایم کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اب حکومت یہ جلسہ روک نہیں سکتی کیونکہ 16 اکتوبر کو پاکستان کے عوام مہنگائی کے خلاف عوامی ریفرنڈم میں شرکت سے ثابت کریں گے کہ وہ حکومت کی ناکامی سے تنگ آچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تشکیل، وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے پر امن اور جمہوری جدوجہد کے تحت چار بڑے جلسوں کا اعلان کیا ہے جس دن سے اے پی سی میں پی ڈی ایم کے قیام کا اعلان ہوا تب سے حکومت کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ 'گوجرانولا میں 16 اکتوبر کے جلسے سے پہلے حکومت خبریں لگا رہی تھی کہ اپوزیشن جلسہ کرے انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے لیکن آج پی ڈی ایم میں شریک کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار رہی ہے۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ابھی تو پہلے جلسے کا اعلان ہوا ہے اس پر حکومت کی یہ کیفیت ہے کہ ان کا سانس پھول گیا۔

انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ انتظامیہ حکومت کے احکامات پر غیرقانونی کارروائیاں کرنے سے گریز کرے اور وہ افسران انتقامی ایجنڈے کا حصہ نہ بننیں کیونکہ انہیں کل جواب دینا ہوگا۔

احسن اقبال نے کہا کہ ابھی اطلاع ملی ہے کہ انتظامیہ نے یوتھ ونگ کے رہنما شعیب بٹ کی فیکٹری پر چھاپہ مارا ہے جبکہ وہ کوئی اجلاس نہیں ہو رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن 'پی ڈی ایم' کے پہلے صدر منتخب

اس موقع پر رہنما مسلم لیگ (ن) اور پی ڈی ایم کے جنرل سیکریٹری شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پی ڈی ایم کی جانب سے 3 اکتوبر کو انتظامیہ کو درخواست دی گئی تھی کہ جناح اسٹیڈیم میں جلسہ کرنا چاہتے ہیں لیکن اب تک درخواست پر کوئی جواب نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے فیصلہ کیا کہ پہلا جلسہ 16 تاریخ کو جی ڈی روڈ گوجرانولا شہر میں ہوگا اور میں آج پنجاب کے چیف سیکریٹری جواد رفیق، محکمہ داخلہ کے سیکریٹری مومن آغا، کمشنر گوجرانولا سمیت دیگر سے گزارش کروں گا کہ آپ وزیراعظم عمران خان کے ملازم نہیں ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ آپ حکومت پاکستان کے ملازم ہیں، اگر آپ عوام کا آئینی حق چھینیں گے تو کل آپ کو انتظامی معاملات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا تاریخی جلسہ ہوگا، پولیس ہمارا راستہ نہیں روک سکتی، موجودہ حکومت کی تشکیل کردہ مشکلات کا چھٹکارے کا عمل گوجرانولا سے ہوگا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر آج حکومت پریشان نہیں ہوتی تو سیکڑوں کی تعداد میں کنٹینرز جمع نہیں کیے جاتے اور جلسہ کرنے کے لیے دی گئی درخواست پر جواب موصول ہوتا۔