اسرائیل اور بحرین کے مابین سفارتی تعلقات کی بحالی، تقریب کی تیاریاں مکمل

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2020

ای میل

مذکورہ وفد بحرین میں سفارتی تعلقات کے آغاز کے حوالے سے مہرثبت کریں گے—فائل فوٹو: اے ایف پی
مذکورہ وفد بحرین میں سفارتی تعلقات کے آغاز کے حوالے سے مہرثبت کریں گے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسرائیل اور بحرین کے مابین باضابطہ طور پر سفارتی تعلقات کے آغاز سے متعلق آج بحرین کے دارالحکومت ماناما میں ہونے والی تقریب کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ میر بین شببت کی سربراہی میں ایک اسرائیلی وفد ایک روزہ دورے کے لیے تل ابیب سے نکل چکا ہے۔

مزیدپڑھیں: بحرین اور امارات کے اسرائیل سے تعلقات کیلئے معاہدے پر دستخط

مذکورہ وفد بحرین میں سفارتی تعلقات کے آغاز کے حوالے سے مہرثبت کریں گے۔

خیال رہے کہ 16 ستمبر کو متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے تاریخی معاہدے پر امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں دستخط کیے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں تقریب کی میزبانی کی تھی۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے بالترتیب تیسری اور چوتھی عرب ریاستیں بن گئیں۔

خیال رہے کہ اسرائیل اور مصر کے مابین 1979 جبکہ اردن کے ساتھ 1994 میں 'امن معاہدے' ہوچکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بحرین کا بھی اسرائیل سے امن معاہدے کا اعلان

واشنگٹن کے کچھ اہم علاقائی حلیفوں کے مابین سفارت کاری کی ہلچل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خارجہ پالیسی کی ایک اہم کامیابی قرار دے دیا ہے جب وہ نومبر میں انتخابات سے قبل دوبارہ انتخابات کے لئے انتخابی مہم چلاتے ہیں۔

ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ 'بحرین اور اسرائیل سفارتی، پرامن اور دوستانہ تعلقات کے قیام کے ساتھ باہمی فائدے کے شعبوں میں متعدد یادداشتوں پر دستخط کریں گے'۔

امریکی ٹریژری سیکریٹری اسٹیون منوچن اور بین الاقوامی مذاکرات کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاون خصوصی آوی برکووٹز نے تل ابیب کا سفر بھی کیا تھا۔

بحرین کے وزیر خارجہ عبد اللطیف الزانی نے وفد کی آمد کے موقع پر کہا کہ 'یہ معاہدہ سلامتی اور خطے میں امن کے حصول کے لیے ایک تاریخی اقدام ہے'۔

خیال رہے کہ ستمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور بحرین کے درمیان امن معاہدے کا اعلان کیا تھا اور بحرین نے متحدہ عرب امارات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

مزیدپڑھیں: سعودی عرب کے بعد بحرین کی بھی 'اسرائیلی پروازوں کو' فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت

بعدازاں بحرین نے مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی تقریب میں اسرائیل سے باضابطہ طور پر تعلقات کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا۔

اس سے قبل 13 اگست کو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے مابین امن معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک باہمی تعلقات استوار کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔

امریکا کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے سعودی عرب کو ترغیب دی تھی کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کریں جس سے دیگر خلیجی ممالک کو اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے میں آسانی ہوگی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور وائٹ ہاؤس کے مشیر جیرڈ کشنر نے کہا تھا کہ یہ سعودی عرب کے مفاد میں ہوگا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات نے کیا ہے۔

جس کے جواب میں سعودی عرب نے کہا تھا کہ وہ اس وقت تک متحدہ عرب امارات کی تقلید میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کرسکتا جب تک یہودی ریاست فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط نہ کردیں۔