پی آئی اے طیارہ حادثہ: تحقیقاتی رپورٹ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

اپ ڈیٹ 19 اکتوبر 2020

ای میل

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ طیارہ حادثے کی تحقیقات کے لیے جاری کردہ  نوٹیفکیشن سول ایوی ایشن رولز کی خلاف ورزی ہے—فائل فوٹو: اے پی پی
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ طیارہ حادثے کی تحقیقات کے لیے جاری کردہ نوٹیفکیشن سول ایوی ایشن رولز کی خلاف ورزی ہے—فائل فوٹو: اے پی پی

کراچی میں 22 مئی کو رن وے سے کچھ میٹر کے فاصلے پر حادثے کا شکار ہونے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی پرواز 8308 سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردی گئی۔

تحقیقات کے سلسلے میں تشکیل دیے گئے بورڈ اور اس کی تحقیقات کے خلاف درخواست حادثے میں جاں بحق ہونے والے فرسٹ آفیسر عثمان اعظم کے بھائی اور والد نے دائر کی۔

خیال رہے کہ 22 مئی کو کراچی ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی میں پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں 91 مسافر اور عملے کے 8 افراد سوار تھے جن میں سے 97 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 2 افراد محفوظ رہے تھے۔

درخواست میں سیکریٹری ہوا بازی کے توسط سے وفاقی حکومت، پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز، پاکستان ایئرلائنز ایسوسی ایشن (پالپا) اور طیارہ بنانے والی کمپنی ایئر بس کو فریق بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی طیارہ حادثہ: پائلٹ اور معاون کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا، وزیر ہوا بازی

درخواست میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے تحقیقات کے لیے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق انویسٹیگیشن بورڈ انکوائری کرنے کا مجاز نہیں تھا اس لیے بورڈ کی کی گئی تحقیقات غیر قانونی ہیں۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ طیارہ حادثے کی تحقیقات کے لیے جاری کردہ نوٹیفکیشن سول ایوی ایشن رولز کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اس بات کا ادراک کرنے میں ناکام رہی کہ ایئرفورس، فوجی ایوی ایشن اور نیول ایوی ایشن سے تعلق رکھنے والے ملازمین یا افسران کامبیٹ ایوی ایشن کے ماہرین کہلائے جاتے ہیں جبکہ سرکاری یا نجی کارگو سے متعلق ملازمین اور افراد قوت سول ایوی ایشن کہلاتی ہے اور دونوں ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔

درخواست میں کہا گیا کہ کامبیٹ ایوی ایشن میں پائلٹ کو جنگی حالات میں مارنے یا مرجانے کی تربیت دی جاتی ہے جبکہ سول ایوی ایشن کی سرگرمیان جنگی حالات میں معطل کردی جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں: طیارہ حادثہ: پائلٹ نے ائیر ٹریفک کنٹرولر کی ہدایات پر عمل نہیں کیا، سی اے اے

اسی طرح کامبیٹ ایوی ایشن میں پائلٹس کو جنگی طیارے اڑانے ہوتے ہیں اور ان کا مقصد لڑاکا طیاروں کو تیزی سے اڑانا ہوتا ہے جبکہ سول ایئر کرافٹس میں پرواز کے اسموتھ اور آرام دہ ہونے پر توجہ دی جاتی ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ ان وجوہات کی بنا پر دنیا بھر میں سول ایوی ایشن کے کسی افسر یا ملازم کو کامبیٹ ایوی ایشن کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا اور اسی طرح اس کے برعکس صورت میں بھی جبکہ ہر کام کی مکمل تربیت نہ ملی ہو۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ سول ایوی ایشن رولز کے مطابق انکوائری آفیسرز کو طیارے سے متعلق معلومات ہونا لازمی ہیں جبکہ تحقیقاتی بورڈ کو طیارے سے متعلق بنیادی تکنیکی معلومات نہیں تھیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ طیارہ حادثے کے تحقیقاتی بورڈ کی تشکیل اور حتمی رپورٹ کالعدم قرار دی جائے۔

طیارہ حادثے تحقیقاتی رپورٹ

یاد رہے کہ وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کا ذمہ دار پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں نے مروجہ طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پائلٹ اور معاون کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا، ضرورت سے زیادہ اعتماد اور توجہ ہونے کے باعث ہمیں سانحے سے گزرنا پڑا تھا اور ابتدائی رپورٹ کے مطابق بدقسمت طیارہ پرواز کے لیے 100 فیصد ٹھیک تھا اس میں کسی قسم کی کوئی تکنیکی خرابی نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں: طیارہ حادثے میں 20 گھر، 24 گاڑیاں تباہ ہوئیں، سروے رپورٹ

عبوری رپورٹ جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رن وے سے 10 میل کے فاصلے پر طیارے کو تقریباً 2 ہزار 500 فٹ کی بلندی پر ہونا چاہیے تھا جبکہ ابتدائی تحقیقات اور ریکارڈ کے مطابق جہاز اس وقت 7 ہزار 220 فٹ کی بلندی پر تھا یہ پہلی بے قاعدگی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وائس ریکارڈڈ ہے کہ ایئر ٹریفک کنٹرولر (اے ٹی سی) نے 3 مرتبہ پائلٹ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ اس کی اونچائی ابھی بھی زیادہ ہے اور پائلٹ سے کہا گیا کہ لینڈنگ پوزیشن نہ لیں بلکہ ایک چکر اور لگا کر آئیں لیکن پائلٹ نے کنٹرولر کی ہدایات کو نظرانداز کیا۔

غلام سرور خان نے کہا تھا کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اور یہ ڈیٹا اینٹری ریکارڈر میں بھی موجود ہے کہ رن وے سے 10 ناٹیکل مائلز کے فاصلے پر طیارے کے لینڈنگ گیئرز کھولے گئے لیکن ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب جہاز 5 ناٹیکل مائلز پر پہنچا تو لینڈنگ گیئرز واپس اوپر کرلیے گئے۔

انہوں نے کہا تھا کہ جہاز کو رن وے پر لچکدار پوزیشن دی جاتی ہے کہ 1500 سے 3000 فٹ پر لینڈ کرسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ رن وے کی لمبائی 1100 فٹ ہوتی ہے اور اصولاً طیارے کو 1500 سے 3000 فٹ پر ٹچ ڈاؤن کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: کراچی ایئرپورٹ کے قریب پی آئی اے کا مسافر طیارہ آبادی پر گر کر تباہ،97 افراد جاں بحق

وفاقی وزیر نے مزید کہا تھا کہ لینڈنگ گیئرز کے بغیر حادثے کا شکار طیارے نے 4500 فٹ پر انجن پر 3 مرتبہ ٹچ ڈاؤن کیا اور 3 ہزار سے 4 ہزار فٹ تک رن وے پر رگڑ کھاتا رہا جس میں انجن کو کافی حد تک نقصان پہنچا، اسی دوران پائلٹ نے دوبارہ جہاز کو اڑالیا جبکہ انہیں کوئی ہدایات نہیں دی گئی تھیں نہ پائلٹ نے کوئی ہدایات لی تھیں جس میں دونوں جانب سے کوتاہی تھی۔

انہوں نے بتایا تھا کہ جہاز نے جب دوبارہ ٹیک آف کیا تو دونوں انجنز کو نقصان پہنچ چکا تھا پھر پائلٹ نے دوبارہ لینڈنگ کے لیے رسائی کی اجازت چاہی لیکن بدقسمتی سے جو اپروچ اور اونچائی انہیں بتائی گئی وہ اس تک نہیں پہنچ سکے اور وہ جہاز بدقسمتی سے شہری آبادی پر گرگیا۔

غلام سرور خان نے کہا تھا کہ بدقسمتی سے پائلٹ کو بہت زیادہ اعتماد تھا، ان کی توجہ نہیں تھی اور یہ بات بتاتے ہوئے انتہائی افسوس ہورہا ہے کہ جہاز مکمل طور پر ٹھیک تھا اور آٹو لینڈنگ(autolanding) پر تھا جس سے پائلٹ نے ڈس انگجیج کیا، اسے مینوئل (manual) پر لائے، 30 ڈگری پر آنا تھا 60 ڈگری پر ڈائیو (dive) لگائی اور یہ واقعہ پیش آیا۔

وفاقی وزیر نے بتایا تھا کہ پائلٹ انتہائی تجربہ کار تھا لیکن زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ پائلٹ اور کو پائلٹ کے ضرورت سے زیادہ اعتماد اور توجہ نہ ہونے کے باعث ہمیں اتنے بڑے سانحے سے گزرنا پڑا۔