کس نے رات 2 بجے آئی جی کے گھر کا گھیراؤ کیا اور انہیں ساتھ لے گئے؟ بلاول بھٹو

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2020

ای میل

انہوں نے کراچی میں منعقد ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے کو تاریخی جلسہ قرار دیا — فوٹو: ڈان نیوز
انہوں نے کراچی میں منعقد ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے کو تاریخی جلسہ قرار دیا — فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایس ایچ او سے لے کر آئی جی کی سطح کے افسران تک سوال کر رہے ہیں کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے رات 2 بجے کے بعد ہمارے آئی جی کے گھر کے باہر گھیراؤ کیا تھا’۔

کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘افسران سوال پوچھ رہے ہیں کہ وہ 2 لوگ کون تھے جو آئی جی سندھ کے گھر میں داخل ہوئے اور صبح 4 بجے انہیں کہاں لے کر گئے تھے’۔

مزید پڑھیں: کیپٹن صفدر کی گرفتاری کا معاملہ: سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران کی چھٹی کی درخواست

علاوہ ازیں چیئرمین پی پی پی نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے طور پر معاملے کی تحقیقات کریں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور رہنما کیپٹن (ر) صفدر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر شرمندہ ہوں اور کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ صبح سویرے ان کے ہوٹل میں انہیں ہراساں کرنا، یہ انتہائی شرم ناک ہے، ان کو ہراساں کرکے گرفتار کرنا سندھ کے عوام کی توہین ہے، وہ پی ڈی ایم میں شرکت کے لیے آئے تھے۔

خیال رہے کہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ایسے وقت پر پریس کانفرنس کی جب سندھ پولیس کے متعدد اعلیٰ افسران کی جانب سے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے معاملے پر بے جا مداخلت پر چھٹیوں کی درخواستیں سامنے آئی۔

اسی معاملے پر صوبائی پولیس کے 7 ڈی آئی جیز اور ایک ایس ایس پی نے بھی انسپکٹر جنرل کو 30 روز کی چھٹیوں کی درخواستیں جمع کرا دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: مزار قائد کے تقدس کی پامالی کے الزام میں کیپٹن (ر) صفدر گرفتار

علاوہ ازیں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں منعقد ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے کو تاریخی جلسہ قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے سندھ معاملے کی مکمل تحقیقات کی ہدایت کردی ہے جبکہ پولیس افسران اس لیے چھٹی پر جارہے ہیں کہ ان کی بے عزتی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے اعلیٰ افسران رخصت پر جارہے ہیں کیونکہ کیٹپن (ر) صفدر کی گرفتاری اور ایف آئی آر کا معاملہ عزت کا سوال بن چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پولیس ایک ادارہ ہے جو غیر سیاسی طرز پر فعال رہے، ہم نہیں چاہتے کہ پولیس کے ادارے میں سیاسی مداخلت ہو لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کہیں اور سے مداخلت برداشت کریں گے’۔

بلاول نے مبینہ طورپر آئی جی سندھ کے گھر کے باہر گھیراؤ اور انہیں 4 بجے میٹنگ کے لیے جانے کے واقعے کو صوبے میں ‘بم دھماکے’ کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزار قائد پر نعرہ کیا اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ آئی جی صبح 4 بجے اس پر میٹنگ کرے’۔

مزیدپڑھیں: کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کیلئے سندھ پولیس پر دباؤ ڈالا گیا، محمد زبیر

انہوں نے کہا کہ کل پیپلز پارٹی کی حکومت نہیں ہوگی لیکن پولیس کی ذمہ داری اپنی جگہ قائم رہے گی کہ وہ صوبے میں امن قائم رکھیں، اتنے اہم افسران کا کام قومی سلامتی پر مبنی ہونا چاہیے تھا’۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ جہاں صوبائی حکام مذکورہ واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں وہاں ‘دفاعی ادارے’ بھی جوابدہ ہیں ان سے تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ملک میں معاشی، اقتصادی اور بے روزگاری کا بحران تاریخی ہے، ہم سب کو جذباتی ہو کر نہیں حواس میں فیصلہ کرنا چاہیے’۔

بلاول بھٹو زدراری نے کہا کہ سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں میں پولیس فورس دراصل تحریک انصاف کی ‘پولیٹیکل ونگ’ کی طرح کام کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں 6 آئی جیز کا تبادلہ کیا لیکن اگر ہم تبدیل کرنا چاہتے تو بہت مشکل ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘سیاسی ایشو ہوتے ہیں لیکن ریڈ لائن کراس نہیں کرنا چاہیے اور اگر یہ ہمیں بدنام کرنے کی سازش تھی تو کسی نے یہ بہت برا مشورہ دیا’۔

مزید پڑھیں: محمد زبیر کا حامد میر کی ٹوئٹ کی تصدیق و تردید سے انکار

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے میں نہیں پہنچ سکا تو نواز شریف کی طرح ویڈیولنک کے ذریعے خطاب کروں گا۔

کراچی میں جزائر سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ہم وفاق کے ساتھ سیاسی تنازع نہیں چاہتے، ان میں سیاسی بصیرت نہیں ہے کہ جزائر سے متعلق آرڈیننس کے نتیجے میں پاکستان کے مفاد کو کس طرح ٹھیس پہنچے گی اس لیے میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے کہ آرڈیننس کے خلاف سینیٹ میں قرارداد پیش کرکے مسترد کردیا جائے۔

سندھ میں گورنر راج سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘گورنر راج لگا کر تو دکھائیں’ سندھ اسمبلی سے گورنر راج کو منظور کرالیں تو شوق سے لگالیں’۔

قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سے متعلق معاملے کی تحقیقات کے لیے وزرا پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا اس کی انکوائری لازمی ہے، رفقا کے ساتھ صلاح مشورے سے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت سندھ اس معاملے کی تحقیقات کرے گی جس میں 3 سے 5 وزرا شامل ہوں گے تاہم ابھی ناموں کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔

###آرمی چیف کا بلاول کو فون

بعدازاں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے کراچی واقعے پر چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سے فون پر تبادلہ خیال کیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے آرمی چیف کی جانب سے کراچی واقعے کا نوٹس لینے پر ستائش کا اظہار کیا۔

علاوہ ازیں چیئرمین پی پی پی نے کراچی واقعے پر شفاف انکوائری پر آرمی چیف کے احکامات کو بھی سراہا۔

لیگی رہنما کی گرفتاری کا معاملہ

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے پیر کی علی الصبح سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا تھا کہ ‘پولیس نے کراچی کے اس ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑا جہاں میں ٹھہری ہوئی تھی اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو گرفتار کرلیا’۔

پولیس کی جانب سے یہ گرفتاری بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے تقدس کو پامال کرنے کے الزام میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 200 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد سامنے آئی تھی۔

لیگی رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے دعویٰ کیا تھا کہ کیپٹن (ر) محمد صفدر کی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس پر دباؤ ڈالا گیا اور ریاست نے ایک اسٹنگ آپریشن کیا۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یہ ریاستی دہشت گردی ہے اور اگر ہم آج اس کی مذمت نہیں کریں گے تو کل ہم سب کو اس سے گزرنا پڑے گا۔

بعد ازاں صحافی کی جانب سے شیئر کردہ آڈیو میں محمد زبیر کا کہنا تھا کہ ‘مراد علی شاہ نے انہیں ابھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے پہلے آئی جی سندھ پولیس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی کہ وہ گرفتاری کے لیے بھیجیں’۔

ممکنہ طور پر محمد زبیر کی آڈیو میں کہا گیا کہ ‘جب انہوں نے اس سے انکار کیا تو رینجرز نے 4 بجے اغوا کیا ہے اور مجھے وزیراعلیٰ نے یہی بات کہی، میں نے ان سے اغوا کے لفظ پر دوبارہ پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ جی انہیں اٹھایا گیا اور سیکٹرز کمانڈر کے آفس لے گئے جہاں ایڈیشنل آئی جی موجود تھے جبکہ انہیں آرڈر جاری کرنے پر مجبور کیا’۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت سندھ کا کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے معاملے پر تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان

دوسری جانب پریس کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’صبح فجر کی نماز کے بعد ہم سو رہے تھے کہ تقریباً سوا 6 کا وقت تھا اور کوئی ہمارے دروازے کو زور زور سے کھٹکھٹا رہا تھا اور جب صفدر نے دروازہ کھولا تو باہر پولیس کھڑی تھی اور انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو گرفتار کرنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صفدر نے کہا کہ میں کپڑے تبدیل کرکے آتا ہوں اور کپڑے تبدیل کررہے تھے کہ کچھ لوگ زبردستی سے دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے اور انہیں گرفتار کرکے لے گئے حالانکہ صفدر نے کہا کہ اندر مت آئیں میں دوائی لے کر آتا ہوں لیکن وہ گرفتار کرکے لے گئے۔

کراچی کے ضلع شرقی کے پولیس تھانہ بریگیڈ میں وقاص احمد نامی شخص کی مدعیت میں مزار قائد کے تقدس کی پامالی اور قبر کی بے حرمتی کا مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔

مذکورہ مقدمہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 200 نامعلوم افراد کے خلاف قائداعظم مزار پروٹیکشن اینڈ مینٹیننس آرڈیننس 1971 کی دفعات 6، 8 اور 10 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 506-بی کے تحت درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر میں مدعی نے دعویٰ کیا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر اور ان کے 200 ساتھیوں نے مزار قائد کا تقدس پامال، قبر کی بے حرمتی، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کی۔

تاہم پیر کو ہی جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی وزیر حسین میمن نے ایک لاکھ روپے کے مچلکے کے عوض کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت پر رہائی منظور کر لی تھی۔

مزید پڑھیں: گرفتار کیپٹن (ر) محمد صفدر کی ضمانت منظور

یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور دیگر رہنما 18 اکتوبر کو اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں شرکت کے لیے کراچی پہنچے تھے۔

باغ جناح میں ہونے والے جلسے میں شرکت سے قبل رہنماؤں اور کارکنان نے مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی تھی، جیسے ہی فاتحہ ختم ہوئی تو قبر کے اطراف میں نصب لوہے کے جنگلے کے باہر کھڑے مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے مریم نواز کے حق میں نعرے لگانے شروع کیے تھے، جس پر کیپٹن (ر) صفدر نے بظاہر مزار قائد پر اس طرح کے نعرے لگانے سے روکنے کا اشارہ کر کے ‘ووٹ کو عزت دو’ کا نعرہ لگایا جبکہ یہ بھی مزار قائد کے پروٹوکول کے خلاف تھا۔

اس دوران مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنما خاموش کھڑے رہے لیکن کیپٹن (ر) نے ایک اور نعرہ لگانا شروع کردیا ‘مادر ملت زندہ باد’ اور ہجوم نے بھی اس پر جذباتی رد عمل دیا۔

یہ صورتحال چند لمحوں تک جاری رہی تھی جس کے بعد مریم نواز اور دیگر افراد احاطے سے نکل گئے تھے۔