چترال میں لڑکیوں کو تربیت دینے والی مقامی خاتون فٹبالر

22 اکتوبر 2020

ای میل

کرشمہ علی کے مطابق  فٹبال کھیلنا جاری رکھنے پر جان سے مار دینے کی دھمکیاں بھی دیں گئیں — فائل فوٹو: فیس بک
کرشمہ علی کے مطابق فٹبال کھیلنا جاری رکھنے پر جان سے مار دینے کی دھمکیاں بھی دیں گئیں — فائل فوٹو: فیس بک

پاکستان کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے لیے فٹبال کلب چلانا نہ صرف کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران بلکہ عام حالات میں بھی بہت مشکل ہے۔

تاہم کوہِ ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں واقع چترال میں ایک غریب آبائی علاقے کی ایک فٹبالر کرشمہ علی نے کورونا وائرس کو بھی اپنے خواب کی تکمیل میں رکاوٹ بننے نہیں دیا، ان کا خواب ہے کہ وہ اپنے علاقے کی غریب لڑکیوں کو فٹبال کی تربیت دے کر ان کا مستقبل بہتر بنائیں۔

بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والے فٹ بال ٹورنامنٹس میں ملک کی نمائندگی کرنے والی 23 سالہ کرشمہ علی کا کہنا تھا کہ وبا نے انہیں ان تمام مواقع کو اکثر لڑکوں کے لیے محفوظ کیے جاتے ہیں انہیں لڑکیوں کو فراہم کرنے کے لیے مزید ثابت قدم کیا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سے بذریعہ ٹیلی فون کرشمہ علی کا کہنا تھا کہ 'لڑکے جو باہر جا سکتے اور کھیل سکتے ہیں، ان کے برعکس لڑکیاں کورونا کی وبا کے باعث اسکول بند ہونے سے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئیں ہیں‘۔

خیال رہے کہ کرشمہ علی اسلام آباد میں اپنی بزنس اور منیجمنٹ کی ڈگری مکمل کررہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فوربز ‘انڈر 30 فہرست 2019‘ میں 9 پاکستانی شامل

کرشمہ علی کا کہنا تھا کہ 'بہت سی لڑکیوں کو گھر کے مختلف کاموں میں مدد کرنی ہوتی ہے جس میں بالکل مزہ نہیں آتا'۔

23 سالہ کرشمہ علی نے 2 سال قبل 8 سے 16 سال کی عمر کی 60 لڑکیوں کے ہمراہ اونچائی پر واقع ایک اسپورٹس کلب کی شروعات کیں اور آج 150 کے قریب لڑکیاں اس کا حصہ ہیں جو اس کی، کرکٹ اور فٹبال کھیل سکتی ہیں۔

انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ اس سے ملک میں غربت اور صنفی امتیاز کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جہاں لڑکوں کو پروفیشنل کالجز میں اسپورٹس اسکالرشپ حاصل کرنے میں مدد کرکے ان کی تعلیم کو ترجیح دی جاتی ہے۔

ان کے لیے یہ آسان نہیں تھا، جب برادری نے کرشمہ علی کے فٹبال کیریئر کا معلوم ہوا تو کچھ نے ان کی مخالفت بھی کی جبکہ انہیں یہ جاری رکھنے پر جان سے مارنے کی دھمکیوں کے پیغامات بھی موصول ہوئے۔

مزید پڑھیں: جب پاکستانی خواتین کا کام ‘میلان فیشن ویک’ میں پیش کیا گیا

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ ثقافتی اور روایات کے لحاظ سے نامناسب سمجھا جاتا تھا کیونکہ میں شارٹس پہنوں گی جس سے میری جلد واضح نظر آئے گی‘۔

انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال میں پچھلے سال اس وقت نرمی آئی جب انہیں فوربس میگزین نے انڈر 30 میں ابھرتے کھلاڑیوں اور اداکاروں کی ایشیا کی فہرست میں شامل کیا، اس فہرست میں ان کے ساتھ ٹینس چیمپیئن نومی اوساکا اور کے- پاپ بینڈ بلیک پنک بھی شامل تھے جس کے بعد برادری میں ان کی کامیابیوں کو سراہا جانے لگا۔

کرشمہ علی کا کہنا تھا کہ اگلے ماہ اسلام آباد میں 30 لڑکیوں کو پروفیشنل کوچز سے ایک ہفتے تک ٹریننگ دی جائے گی اور یہ ایک ’بڑا تعلیمی قدم’ ہوگا کیونکہ زیادہ تر نے کبھی اپنی برادریوں کو نہیں چھوڑا۔

برادری کے ناراضی سے بچنے کے لیے انہوں نے ٹریننگ گراؤنڈ تک لڑکیوں کو لے جانے کے لیے فنڈز بھی اکٹھے کیے کیونکہ ان کے رہنے کی جگہ سے گراؤنڈ تک کا پیدل سفر 2 گھنٹے کا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: فوربز ’30 انڈر 30‘ کی سالانہ فہرست میں 6 نوجوان پاکستانی نمایاں

ان کا کہنا تھا کہ فٹبالر بننے کے خواب میں ان کے خاندان نے ان کی بہت مدد کی، انہوں نے اپنے والد کو 'فیمینسٹ' کہا کیونکہ 'ان کے والد نے ہمیشہ ان پر یقین کیا جبکہ وہ خود اپنے آپ پر اعتماد نہیں رکھتی تھیں'۔

کرشمہ علی کا کہنا تھا کہ یہاں پر سماجی سطح پر کھیلوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی تاہم ان کی خواہش ہے کہ ملک میں ریاستی سطح پر کھیلوں کو سپورٹ کیا جائے کیونکہ اس ملک کے وزیر اعظم عمران خان بھی سابق کرکٹر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا خواب ہے کہ وہ ایک دن قومی ٹیم کے لیے کھیلیں لیکن اس کے لیے انتظار کرنا ہوگا کیونکہ پاکستان میں اس وقت کوئی خواتین کی فٹبال ٹیم موجود نہیں ہے۔

خاتون فٹبالر کا کہنا تھا کہ 'میں نے خود بہت جدوجہد کی ہے'، میں نے اپنی طرف سے بہت محنت کی ہے لیکن مجھے یقین نہیں کہ کیا ملک کی اسپورٹس منیجمنٹ اس کے لیے اتنی ہی کوشش کرے گی۔

بات کا اختتام کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپنے اسپورٹس کیریئر سے اگر انہوں نے کوئی ایک سبق سیکھا ہے تو وہ یہ کہ 'کچھ بھی ہو لڑیں، گرنے کے بعد اٹھیں اور لیڈر بنیں'۔


یہ خبر 22 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔