اسرائیلی حکومت نے ابوظہبی کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنے کی حتمی منظوری دے دی

25 اکتوبر 2020

ای میل

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

اسرائیل کی حکومت نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی حتمی منظوری دے دی۔

غیرملکی خبررساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رواں ماہ کے شروع میں قانون سازوں نے اس معاہدے کی توثیق کی تھی۔

مزیدپڑھیں: اسرائیل، یواے ای معاہدہ: 'بے باک، شرمناک، اچھی خبر'، عالمی سطح پر ملاجلا ردعمل

بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت کے ہفتہ وار کابینہ اجلاس میں بحرین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے سے متعلق معاہدے کو پارلیمنٹ بھیجنے کی بھی توثیق کردی۔

1979 میں مصر اور 1994 میں اردن کے بعد رواں برس اگست میں متحدہ عرب امارات، اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والی تیسری عرب ریاست بن گیا ہے۔

رواں برس 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں امریکا کے تعاون سے امن معاہدوں کو باضابطہ شکل دی گئی۔

واضح رہے کہ سوڈان اور اسرائیل نے امریکا کی مدد سے تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے پر اتفاق کرلیا ہے۔

سینئر امریکی عہدیداران نے کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور سوڈانی وزیر اعظم عبداللہ حمدوک اور عبوری کونسل کے سربراہ عبدالفتح البرہان سے فون کال کے دوران معاہدے پر مہر لگائی۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل اور یو اے ای کے وزرائے خارجہ کی مذاکرات کیلئے جرمنی میں ملاقات

امریکا نے 1993 میں سوڈان کو دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے ملکوں کی فہرست کا حصہ بنایا تھا کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ اس وقت کی حکومت شدت پسند اور دہشت گرد گروپوں کی مدد کرتی ہے۔

علاوہ ازیں جمعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ مزید دیگر ممالک اسرائیل کے ساتھ معاہدے کریں گے۔

دوسری جانب فسطین نے اسرائیل کے ساتھ ہونے والے تمام معاہدوں کو مسترد کردیا ہے۔

واضح رہے کہ 15 اگست کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم کرکے اس سے باہمی تعلقات استوار کرنے کا اعلان کرکے دنیا کو حیران کردیا تھا۔

بعد ازاں 29 اگست کو متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اپنا اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والا قانون منسوخ کردیا تھا۔

مزیدپڑھیں: بحرین اور امارات کے اسرائیل سے تعلقات کیلئے معاہدے پر دستخط

دونوں ممالک میں تعلقات کی بحالی کے بعد پہلی بار 31 اگست کو اسرائیلی سرزمین سے اڑان بھرنے والا طیارہ یروشلم سے ابوظہبی پہنچا تھا۔

دونوں ممالک میں تعلقات کی بحالی کے بعد جہاں مسلم دنیا نے متحدہ عرب امارات پر سخت تنقید کی، وہیں یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ ممکنہ طور پر دوسرے عرب ممالک بھی اسرائیل کو جلد تسلیم کرلیں گے۔

بحرین نے بھی متحدہ عرب امارات کی پیروی کرتے ہوئے اسرائیل سے تعلقات بحال کر لیے تھے۔