میں کٹھ پتلی نہیں ہوں اور کسی کے اشارے پر نہیں چلتا، بلاول

اپ ڈیٹ 25 اکتوبر 2020

ای میل

بلاول نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے جو خواب دیکھا تھا وہ اب میں پورا کروں گا — فوٹو: ڈان نیوز
بلاول نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے جو خواب دیکھا تھا وہ اب میں پورا کروں گا — فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کے منشور میں درج ہے کہ گلگت بلتستان کے منتخب نمائندوں کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نشستیں دلائیں گے اور میرا وعدہ ہے کہ صوبہ بنا کر دیں گے۔

گلگت بلتستان کے علاقے شگر میں کارکنوں سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو نے کہا کہ میں کوئی کٹھ پتلی نہیں ہوں اور کسی کے اشارے پر نہیں چلتا۔

مزید پڑھیں: ‘پیپلز پارٹی کی قیادت بہادری اور جرات کے ساتھ کیسز کا سامنا کر رہی ہے’

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ پیپلز پارٹی کا 2018 کا منشور پورے گلگت بلتستان کا مطالبہ ہے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ جب آپ کے ووٹوں سے اس ملک کا وزیراعظم بنے گا تو پھر آپ کی قسمت بھی بدل جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے شگر کے نوجوانوں کے لیے جو خواب دیکھا تھا اب مجھ پر فرض ہے کہ وہ خواب پورا کروں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ماضی میں بھی پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے حقوق دیے اور آئندہ بھی ہماری ہی جماعت یہ دے سکے گی۔

یہ بھی پڑھیں: 'پیپلز پارٹی عوام کے دلوں میں وفاق کے لیے نفرت پیدا کر رہی ہے'

انہوں نے پارٹی کے انتخابی اُمیدوار عمران ندیم کا نام لے کر کہا کہ جب تک ہمارے ساتھ ایسے ساتھی ہیں جو عوام کا خیال رکھتے ہیں اور مشکل وقت میں ساتھ دیتے ہیں ان کی کامیابی کے بعد مجموعی طور پر عوام کے مسائل بھی حل کرسکیں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہماری پارٹی نے گلگت بلتستان میں خاص طور پر ملازمتیں فراہم کیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت سے یقیناً غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ گلگت بلتستان میں 25 ہزار نوکریاں فراہم کیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کسی بھی طبقے کو ریلیف نہیں دیا بلکہ تکلیف دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز، سرکاری ملازمین اور لیڈی ہیلتھ ورکرز اسلام آباد میں اپنے حقوق کے لیے سراپا احتجاج ہیں، بے نظیر بھٹو نے ملک بھر میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا نیٹ ورک پھیلایا لیکن آج وہ اپنے حقوق سے محروم ہیں۔

مزید پڑھیں: 'پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) اب میرج ہال میں اپنے جلسے کریں'

بلاول بھٹو نے کہا کہ کم نظر لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ظلم کرکے سچ کا راستہ روک سکتے ہیں اور قتل کرکے آواز ختم کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو ماضی میں بھی کامیاب ہونے دیا اور نہ ہی آج کامیاب ہونے دیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ گلگت بلتستان میں مہنگائی کو روکنے کے لیے ہمیں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو روکنا ہوگا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی صورت میں پنجاب کا جو حال کیا ہے وہ نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 'پی ٹی آئی نے عبوری صوبہ سمیت جو بھی وعدے کیے وہ سارے جھوٹ ثابت ہوئے، گلگت بلتستان کے لیے صوبے کا لالی پاپ ایسا ہی ہے جیسے عمران خان نے جنوبی پنجاب کے لیے دیا تھا'.

بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے انتخابات سے قبل جنوبی پنجاب کو کہا تھا کہ 100 دن کے اندر صوبے کا درجہ دوں گا؟ لیکن اب بہاولپور کے لوگوں سے پوچھیں کہ اس صوبے کا کیا ہوا؟

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن، جو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی صورت میں موجودہ حکومت کے مستقبل سے متعلق فیصلے طے کررہی ہے اور میں اس دوران آپ کو ایک دن بھی تنہا نہیں چھوڑوں گا اور 15 نومبر تک آپ کے درمیان رہوں گا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم، وفاقی حکومت، سلیکٹڈ نمائندے یا کسی بھی خلائی مخلوق کو ووٹ چوری کرنے نہیں دیں گے۔