کراچی میں ٹرانسپورٹ کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟

11 نومبر 2020

ای میل

لکھاری این ای ڈی یونیورسٹی کراچی کے شعبہ پلاننگ اینڈ آرکیٹکچر کے چیئرمین ہیں۔
لکھاری این ای ڈی یونیورسٹی کراچی کے شعبہ پلاننگ اینڈ آرکیٹکچر کے چیئرمین ہیں۔

گزشتہ دنوں بلومبرگ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا کے 100 شہروں میں موجود ٹرانسپورٹ کے نظام میں کراچی کا نظام بدترین ہے۔ ظاہر ہے ہمارے لیے یہ بات بہت زیادہ حیرانی کا باعث نہیں ہے۔

ہم یہاں کراچی میں بننے والے لیاری ایکسپریس وے کی مثال لیتے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد چند ہزاروں گاڑیوں کے لیے سفر کا وقت کم کرنا تھا۔ یہ منصوبہ 23 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوا اور اس کی تعمیر کے سبب 2 لاکھ افراد کو نقل مکانی کرنی پڑی۔

لیکن اس منصوبے پر آنے والی لاگت سے 2 ہزار بسیں چلائی جاسکتی تھیں جو لاکھوں افراد کو سفری سہولت مہیا کرتیں۔ آج کی بات کریں تو 42 ارب روپے کی لاگت سے ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر کا آغاز ہونے جارہا ہے۔ اس کا مقصد سپر ہائی وے پر واقع بڑے تعمیراتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے سے بھی گاڑی چلانے والے ہی مستفید ہوں گے۔

مزید پڑھیے: زمین بوس ہوتا کراچی

کراچی میں سڑکوں کا جال تقریباً 10ہزار کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں موجود کئی اہم شاہراہیں اور انہیں ملانے والی سڑکیں تباہ حالی کا شکار ہیں۔ مثال کے طور پر شاہراہِ اورنگی کا حال بہت خراب ہے۔ اورنگی ٹاؤن میں تقریباً 15 لاکھ سے زیادہ افراد رہائش پذیر ہیں جو نصف صدی گزرنے کے بعد بھی ٹرانسپورٹ کی بہتر سہولیات سے محروم ہیں۔ اس علاقے کی کئی اہم سڑکیں اب کسی کچی سڑک کا منظر پیش کر رہی ہیں جہاں گاڑیوں کو نقصان پہنچنا اب معمول کی بات بن چکا ہے۔

لیاری، بلدیہ اور گلستانِ جوہر جیسے دیگر بڑے علاقوں میں بھی صورتحال اس سے مختلف نہیں ہے۔ حکام سڑکوں کی مرمت نہ ہونے کی وجہ فنڈز کی عدم دستیابی بتاتے ہیں۔ اگر اس وجہ کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر عوامی مفاد کو نظر انداز کرکے صرف وی آئی پی موومنٹ کی وجہ سے ہنگامی طور پر سڑکوں کی مرمت کیسے ہوجاتی ہے؟

جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے شہر کی سڑکیں انارکی کا شکار ہوتی جارہی ہیں۔ آپ ان پر چلتی تیز رفتار گاڑیوں، آڑی ٹیڑھی گزرتی موٹر سائیکلوں، بڑی اور شور مچاتی بسوں اور خوف کے مارے پیدل اور سائیکل سوار افراد کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ اس کا حل یہ ہے کہ ان سڑکوں کے نظام کو ازسرِ نو دیکھا جائے تاکہ ان کا بنیادی مقصد جو لوگوں کو ان کے گھروں سے کام کی جگہوں تک پہنچانے کا ہے صحیح طریقے سے پورا ہوتا رہے۔

تحقیق بتاتی ہے کہ کراچی کے ٹرانسپورٹ مسائل کا حل ایک بہتر انداز میں چلنے والا بسوں کا منصوبہ ہے جس کے لیے بہت بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ بسوں کا یہ نظام کسی نئے انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے بغیر بھی کام کرسکتا ہے اور سڑکوں کی عمومی مرمت اور دیکھ بھال ان بسوں کے چلنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ شہر میں پہلے ہی 32 ٹرمینل موجود ہیں جو بسوں کے بیڑے میں اضافے کے لیے مددگار ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیے: 600 ارب کے بجائے صرف 15 ارب میں کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی ممکن؟

جیسے جیسے بسوں کی سہولت بہتر ہوتی جائے گی ویسے ویسے گاڑیاں اور موٹر سائیکل استعمال کرنے افراد بھی بسوں کا استعمال شروع کردیں گے۔ اس کے لیے سڑکوں کو مزید چوڑا کرنے کی بھی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ اگر مسافروں کی تعداد کے اعتبار سے دیکھا جائے تو بسیں گاڑیوں سے کم جگہ گھیرتی ہیں۔ 4 گاڑیاں 16 مسافروں کو ایک سے دوسری جگہ لے جا سکتی ہیں لیکن ایک بس جو ان 4 گاڑیوں کے ہی جتنی جگہ گھیرتی ہے اس میں تقریباً 120 افراد سفر کرسکتے ہیں۔

ہمارے پالیسی ساز افراد کے سامنے مشکل کام یہ ہوگا کہ وہ ٹیکسوں اور دیگر شہری محصولات کی مدد سے گاڑیوں کی خریداری کو کنٹرول کریں۔ سائیکل ٹریکس کی تعمیر سے ہم سائیکلنگ کو فروغ دے سکتے ہیں جو سفر کا سستا اور آلودگی نہ پھیلانے والا ذریعہ ہے۔ کم فاصلے تک سفر کے لیے پیدل چلنا اور سائیکل کا استعمال صحت مند معمول بھی ہے۔ ساتھ ہی اس سے شہر میں شور اور آلودگی کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

گاڑیاں متوسط اور اعلیٰ طبقے کی زندگیوں کا حصہ بن گئی ہیں۔ اس کی بڑی وجوہات میں گاڑیوں کی خریداری کے لیے ملنے والے قرضوں کا آسان حصول اور کورونا کی وجہ سے ایندھن کی نسبتاً کم قیمت بھی ہے۔ جہاں ان گاڑیوں نے سفر کو آسان بنا دیا ہے وہیں یہ سڑک پر دیگر ڈرائیوروں کے لیے پریشانی اور اضطراب کا سبب بھی ہیں۔

گاڑی اور موٹر سائیکل سوار عام عوام سے ایک الگ طبقہ بن گئے ہیں۔ مناسب پبلک ٹرانسپورٹ عوام کو ایک مساوی ذریعہ سفر فراہم کرتی ہے جس سے متنوع آمدن اور مختلف معاشرتی اور ثقافتی پس منظر رکھنے والے افراد استفادہ کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے: ’40 سال پہلے کا کراچی واپس لانا اب ممکن نہیں‘

اگر سفر کی سہولت مناسب ہو تو اس ذریعے سے لوگوں کے مابین بات چیت ہوتی ہے اور ذہنی سکون میں اضافہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر لندن میں چلنے والی بسیں اور زیرِ زمین ٹرین گاڑیوں کے مقابلے میں بہتر ذریعہ سفر ہیں۔ اگر آپ کو ڈاؤن ٹاؤن جانا ہو تو زیرِ زمین ٹرین زیادہ بہتر انتخاب ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں شاہ و گدا ایک جیسے سفری تجربے کا انتخاب کرتے ہیں اور اسے پسند کرتے ہیں۔

ہم تب تک بہتری کی امید نہیں کرسکتے جب تک معاشرے کے اعلیٰ طبقے کی طرف سے رضاکارانہ طور پر پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال شروع نہیں کیا جاتا۔ اگر نجی گاڑیوں کی تعداد میں ایسے ہی اضافہ ہوتا رہا تو بہت جلد ملک کے بڑے شہروں میں ٹریفک رک جائے گا۔ اگر کسی کو یہ بات غیر سنجیدہ لگ رہی ہے تو وہ بینکاک اور منیلا جیسے شہروں کو دیکھ لے جہاں 3 سے 4 گھنٹوں تک ٹریفک جام رہنا اب معمول بن چکا ہے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اپنا معمول کیا بناتے ہیں۔

ہم بس اب امید ہی کرسکتے ہیں کہ بس منصوبہ لوگوں کو روزمرہ کے سفر کے لیے نجی ٹرانسپورٹ ترک کرکے پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال پر راغب کرسکے۔


یہ مضمون 7 نومبر 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔