ہماری محسن کشی کا شکار پہلا ’پاکستانی‘

16 نومبر 2020

ای میل

کیمبرج کے ایک سردخانے میں اس میت کو پہنچے 17 روز ہوچکے، تدفین اس لیے نہ ہوسکی کہ جنازہ پڑھانے کے لیے کوئی مسلمان نہیں مل رہا تھا۔

آخر 18 ویں دن ایک مصری طالب علم دستیاب ہوگیا جس نے نمازجنازہ پڑھائی، اب غیر مسلم انگریز میت کو تدفین کے لیے لے جارہے تھے، اسے زمین کے حوالے کردیا گیا، ایک ایسی قبر کے حوالے جس پر ابھی نام کا کتبہ تک نصب نہیں۔

اس بے نام قبر کا مکین وہ شخص ہے جس نے برصغیر کے مسلمانوں کی مملکت کو ’پاکستان‘ کا ایک خوب صورت اور منفرد نام دیا تھا۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ہم چوہدری رحمت علی کا ذکر کر رہے ہیں۔ میں اور آپ 16نومبر 1897 کو جنم لے کر 3 فروری 1951 کی دوپہر ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کرلینے والے چوہدری رحمت علی کے نام اور کام سے واقف ہیں تو یقین مانیے یہ ایک معجزہ ہے، ورنہ تو چوہدری رحمت علی کا نام اور کام حرف غلط کی طرح مٹادینے کے لیے کیا کیا کوششیں اور سازشیں نہ کی گئیں۔

ان کا ذکر نصاب سے تاریخ تک محدود تر کرنے کے لیے ہر ممکن جتن کیے گئے، ان کے تخلیق کردہ لفظ پاکستان کو دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے کی تدبیریں کی گئیں، ان کی پاکستان اسکیم کا سہرا اوروں کے سر باندھنے کے لیے جھوٹ، مکر اور فریب سے کام لیا گیا، وہ پاکستان آئے تو محسن کشی کی تاریخ کے سیاہ ترین باب میں اپنا نام لکھواتے ہوئے انھیں ستایا گیا اور برطانیہ واپسی پر مجبور کردیا گیا، یہاں تک کے ان کا امانتاً کمیبرج میں دفن جسم پاکستان لانے کی ہر کوشش ناکام بنادی گئی۔

یہ سلوک اس شخص کے ساتھ کیا گیا جسے پاکستان کے نام سے موسوم ہونے والی اس سرزمین اور اس سے رہنے والوں سے عشق تھا۔ ایسا کھرا اور گہرا عشق کہ اس نے اپنی ساری زندگی پاکستان کے منصوبے، اس کی تشہیر اور اسے شمالی برصغیر کے مسلم عوام کے دلوں میں جاگزیں کرنے کے لیے وقف کردی۔ اس نے اپنی ساری صلاحیتیں، جوانی اور جمع پونجی قیام پاکستان کی آرزو کی نذر کردی۔ پھر اس کے دیے گئے منصوبے میں معمولی سی قطع وبرید کرکے اور اسی کے تخلیق کردہ نام، نظریے اور دلائل کے مطابق پاکستان وجود میں آیا اور اسےدو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں۔

چوہدری رحمت علی کے بارے میں لے دے کر ہماری معلومات بس اس ایک جملے پر مشتمل ہے کہ انہوں نے لفظ پاکستان تخلیق کیا تھا (ان سے یہ اعزاز بھی چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے)، اس کے علاوہ ہم ان حقائق سے واقف نہیں کہ انہوں نے تنہا کس طرح ”تحریک پاکستان“ چلائی اور اس تصور کو یوں عام کیا کہ ہندو اکثریت لفظ پاکستان سے خوف کھانے لگی اور برصغیر میں پہلی بار ایک آزاد اور خودمختار مسلم ریاست کا تصور ہی پیش نہیں کیا بلکہ عقلی، تاریخی اور منطقی دلائل سے اس تصور کو حقیقی اور عملی خاکے میں بھی ڈھالا اور اسے ایک نام بھی عطا کیا۔

اتنا ہی نہیں، چوہدری رحمت علی کی ذہانت، دوراندیشی اور اخلاص نے بنگال اور اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا اور انہوں نے مسلمانان ہند کے ان گروہوں کے لیے بھی منصوبے پیش کیے۔ اگرچہ ان منصوبوں کو غیرعملی کہا جاسکتا ہے، لیکن اس سے یہ ضرور پتا چلتا ہے کہ ہمارا یہ عظیم مفکر اور قائد مسلم اکثریتی صوبوں کے ساتھ ہندو اکثریتی صوبوں کے لیے بھی فکرمند تھا اور انھیں اکثریت کے رحم وکرم پر چھوڑ دینے کو تیار نہیں تھا۔ بعض لوگوں کے نزدیک چوہدری رحمت علی کی طرف سے ہندو اکثریتی صوبوں میں بکھرے ہوئے مسلمانوں کے لیے مختلف ناموں سے ممالک کی تشکیل کا خواب محض سودے بازی کے لیے تھا، لیکن جس طرح وہ قیام پاکستان کے بعد بھی بھارت کے مسلمانوں کے تحفظ کے لیےکوشاں رہے اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان کے دل میں ان مسلمانوں کے لیے کتنا درد تھا۔

نوجوان چوہدری رحمت علی (بائیں سے دوسرے) علامہ اقبال کے ساتھ
نوجوان چوہدری رحمت علی (بائیں سے دوسرے) علامہ اقبال کے ساتھ

چوہدری رحمت علی کے کارنامے کی وقعت اور ان کی شخصیت کی عظمت کے کے عزیز کی تصنیف ’ Rahmat Ali: A Biograph‘ ہمارے سامنے لاتی ہے۔ اسے پڑھنے والے پاکستانی کا سر یہ سوچ کر شرم سے جھک جاتا ہے ( یا جھک جانا چاہیے) کہ ہم نے اپنے اتنے عظم محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ بطور مورخ کے کے (خورشید کمال) عزیز (1927–2009) پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں کی تاریخ پر اتھارٹی کا درجہ رکھتے ہیں۔ 23 کتابوں کے مصنف کے کے عزیز نے چوہدری رحمت علی کی زندگی اور ان کے منصوبہِ پاکستان کو جس جانفشانی اور محنت سے قلم بند کیا ہے وہ پاکستان اور نقاش پاکستان چوہدری رحمت علی سے ان کی محبت کا ثبوت ہے۔

ایک مؤرخ کے لیے کتابیں، تحریریں، خطوط اور ڈائریاں سب سے اہم دستاویزات ہوتی ہیں لیکن اس کتاب کے مصنف کے سامنے مشکل یہ تھی کہ چوہدری رحمت علی کے روزوشب کا حال سناتی دستاویزات کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ انہیں ذہنوں سے محو کرادینے کی سازش نے یہ کام اور مشکل بنادیا تھا، پھر نقاش پاکستان کو اتنا غیر اہم جانا گیا کہ ان سے وابستہ خطوط، پمفلٹ اور تحریریں محفوظ رکھنے کی کوئی باقاعدہ کوشش نہیں کی گئی۔ ان مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے ساتھ مصنف نے تاریخی حوالوں کے ساتھ چوہدری رحمت علی کو ہماری تاریخ میں ان کا اصل مقام دلوانے اور ایسے تمام جعلی، فرضی اور جھوٹ پر مبنی حوالوں اور دعوﺅں کو رد کرنے کے لیے جان توڑ محنت کی ہے جو چوہدری رحمت علی کی حیثیت گھٹانے، ان سے ان کا کارنامہ چھیننے اور ان کی کردارکشی پر مبنی تھے۔

اس کتاب کا اردو ترجمہ ’سوانح حیات: چوہدری رحمت علی‘ حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ اقبال الدین احمد نے کتاب کو اردو میں ڈھالتے ہوئے کمال احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے کہ کتنے ہی مقامات پر ترجمے کے ساتھ انگریزی کا اصل متن بھی دیا گیا ہے۔

یہ کتاب ہمیں چوہدری رحمت علی کے تصور پاکستان اور برصغیر کے مسلمانوں کے بارے میں ان کے فکری زاویوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے، اور ہم اس اعتراف پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ چوہدری رحمت علی قومیت، تہذیب، تاریخ اور مسلمانان برصغیر کے ثقافتی تنوع کا اپنے دور کے کسی بھی راہنما اور مفکر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ادراک رکھتے تھے۔

چنانچہ ان کی فکر حقائق اور زمین سے جڑی ہوئی ہے، وہ ہندوستان کے مسلمانوں کو ’ایک قوم‘ کی ڈوری میں نہیں باندھتے، بلکہ ان کے جغرافیے، ثقافت اور زبان کے اعتبار سے اس خطے کی مسلم اقوام کے طور پر دیکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بنگال کو اپنے مجوزہ پاکستان سے الگ رکھا اور بنگال اور آسام پر مشتمل ”بانگستان“ کے قیام کی تجویز پیش کی۔

یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ وہ مذہب، تاریخ اور تہذیب وثقافت کی بنیاد پر مسلمانوں کو ہندوؤں سے یکسر الگ قرار دیتے اور ہندوستان کو ایک ملک کے بجائے اقوام پر مشتمل براعظم سمجھتے تھے، لیکن ان کی یہ سوچ تعصب پر نہیں بلکہ حقائق اور مسلمانوں سے متعلق اندیشوں پر استوار تھی۔ سو پاکستان بننے کے بعد ایک موقع پر انہوں نے پاکستان کی کابینہ میں کسی ہندو وزیر کے نہ ہونے پر سوال اٹھایا، اسی طرح صوبائی شناخت کے خلاف ابتدا میں جو سخت گیر رویے اپنائے گئے، چوہدری رحمت علی ان کے بھی خلاف تھے، وہ سندھی، پنجابی، بلوچ، پختون کی پہچان کو فطری سمجھتے تھے اور اس کے اظہار کو پاکستانیت کے خلاف خیال نہیں کرتے تھے۔

اس سب کے ساتھ یہ کتاب ہمیں چوہدری رحمت علی کی صورت میں ایک ایسے ہیرو سے متعارف کراتی ہے جس کا خلوص، عشق، لگن بے مثال ہیں، جو اپنے مقصد کی خاطر شادی کے بندھن میں بھی نہیں بندھتا، جس کا کردار بے داغ ہے، جو اپنی جنگ اکیلا لڑتا ہے اور ہٹلر کی نازی جماعت سمیت غیروں کی طرف سے آنے والی مالی مدد کی ہر پیشکش کو ٹھکرا دیتا ہے، ایک ایسا شخص جس کی مخالفت، حمایت، دوستی اور دشمنی سب اپنے مشن سے جڑا ہے۔ ایک ایسا نام جسے مٹانے کے لیے سیاستدانوں، مورخوں، محققین، صحافیوں کی پوری کی پوری جماعت یہاں تک کہ ریاست بھی کمربستہ ہوگئی، لیکن وہ نام مٹ نہیں سکا۔

چوہدری رحمت علی کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا گیا؟ اس سوال کا جواب بھی آپ کو یہ کتاب پوری وضاحت سے دیتی ہے۔ ایک شخصیت، جو اس تصنیف کا موضوع ہے، کی حیات اور خدمات سامنے لانے کے ساتھ اس کتاب کے اوراق کتنے ہی رازوں سے پردہ اٹھاتے ہیں اور ہماری تاریخ کے کتنے ہی پوشیدہ پہلو سامنے لاتے ہیں۔

مثال کے طور پر میرے لیے یہ انکشاف ہے کہ تقسیم کے وقت مشرقی بنگال کو بدھسٹ اکثریت پر مشتمل علاقہ اس بنا پر دیا گیا کہ پاکستان کے مشرقی حصے کی سمندر تک رسائی ہوسکے، اور بدلے میں جالندھر اور گرداس پور سمیت کئی مسلم اکثریتی علاقے مغربی پنجاب سے کاٹ کر مغربی پنجاب کا حصہ بنادیے گئے، جس کا نتیجہ بھارت کے کشمیر پر قبضے کی صورت میں برآمد ہوا۔

چوہدری رحمت علی کی سوانح پڑھ کر میں انہیں مسلم تاریخ کے مخلص اور ذہین ترین افراد کی صف میں جگہ دینے پر مجبور ہوں۔ ممکن ہے آپ کا خیال مجھ سے مختلف ہو، لیکن ان اوراق کا مطالعہ کرتے ہوئے میری طرح آپ بھی محسوس کریں گے کہ چوہدری رحمت علی کی بڑی بڑی روشن آنکھیں ہمیں دیکھتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ اپنے عشاق سے ایسا بھی کوئی کرتا ہے!