'بلاول کو گلگت بلتستان کے انتخابات میں دھاندلی ثابت کرنے کا چیلنج دیتا ہوں'

اپ ڈیٹ 19 نومبر 2020

ای میل

انہوں نے کہا کہ ایسے کسی بھی بیان کی بھرپور مذمت کرتا ہوں جس میں انتخابی عمل پر سوال اٹھایا ہو—فوٹو: ڈان نیوز
انہوں نے کہا کہ ایسے کسی بھی بیان کی بھرپور مذمت کرتا ہوں جس میں انتخابی عمل پر سوال اٹھایا ہو—فوٹو: ڈان نیوز

گلگت بلتستان کے الیکشن کمشنر راجا شہباز خان نے انتخابات میں دھاندلی سے متعلق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بہت بڑی پارٹی کے رہنما ہیں انہیں ایسی چھوٹی باتیں زیب نہیں دیتیں۔

اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو سے متعدد مرتبہ درخواست کی کہ وہ ادھر آکر انتخابی عمل میں دھاندلی ثابت کریں۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں انتخابی دن کیا کچھ ہوا؟

راجا شہباز خان نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی کا یہ کیسا معیار ہے کہ پیپلز پارٹی کا امیدوار حلقہ نمبر 1 میں کامیاب رہا تو ادھر دھاندلی نہیں لیکن حلقہ نمبر 2 میں ناکام ہوا تو دھاندلی ہوئی۔

انہوں نے بلاول بھٹو زردای کو چیلنج کیا کہ وہ الیکشن کمیشن میں آکر دھاندلی سے متعلق ثبوت پیش کریں۔

ایک سوال کے جواب میں گلگت بلتستان کے الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والے غیر سرکاری اداروں نے خود تحریری طور پر دیا کہ گلگت بلتستان میں انتخابات صاف و شفاف طریقے سے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ انتخابی عمل کے نگراں اداروں نے انتخابات کی شفافیت پر اعتراض اٹھائے ہیں۔

راجا شہباز خان نے انتخابات میں دھاندلی اور حکومتی امیدواروں کی کامیابی کے لیے ازسرنو گنتی سے متعلق بیانات کو من گھڑت اور غیر حقیقی قرار دیا۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان انتخابات میں کامیاب ہونے والے 4 آزاد امیدوار پی ٹی آئی میں شامل

انہوں نے کہا کہ ایسے کسی بھی بیان کی بھرپور مذمت کرتا ہوں جس میں انتخابی عمل پر سوال اٹھایا گیا ہو۔

راجا شہباز خان نے بتایا کہ حلقہ نمبر 2 میں 4 دن سے انتخابی عملے سمیت 25 افراد موجود ہیں اور ان کے سامنے ایک ایک ووٹ چیک ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابی ٹربیونل کی تشکیل پر عدالت سے اظہار تشکر کرتا ہوں اور اگر کسی امیدوار کو لگتا ہے کہ اس کے ساتھ دھاندلی ہوئی تو وہ ٹربیونل کے سامنے پیش ہوجائے جہاں الیکشن کمیشن خود ایک فریق کی حیثیت سے پیش ہوگا اور انصاف ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی 9 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے

راجا شہباز خان نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ انتہائی مشکل حالات میں شفاف انتخابات کے انعقاد کے باوجود مجھ پر الزامات لگائے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے ووٹروں کی تصویروں پر مشتمل انتخابی فہرست تیار کی، بغیر سیکیورٹی کے ٹیکسی میں اسلام آباد میں سفر کیا جہاں میرا روڈ حادثہ بھی ہوا، گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شفاف انتخابات ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کیا اور کہا تھا کہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کو راتوں رات ہرایا گیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ جذباتی فیصلے کرنے اور انتہائی قدم اُٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے، گلگت بلتستان کے عوام چاہتے ہیں کہ جمہوریت آگے بڑھے، جن علاقوں میں ہمارے امیدوار جیت گئے تھے انہیں راتوں رات ہرا دیا گیا جبکہ حلقہ 2 سے جمیل احمد رات کو جیت گئے تھے، صبح ان کے ہارنے کا اعلان کیا گیا۔

مزید پڑھیں: 2018 کی طرح گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی ایجنسیز کا کردار موجود تھا، سابق وزیراعظم

دوسری جانب مریم نواز نے بھی گلگت بلتستان انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے حکمراں جماعت کے سادہ اکثریت حاصل نہ کر پانے کو شرمناک قرار دیا تھا۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا تھا کہ ’پوری ریاستی طاقت، حکومتی اداروں، سرکاری مشینری کا زور زبردستی اور جبر کے ہتھکنڈوں سے وفاداریاں تبدیل کرانے اور بدترین دھاندلی کے باوجود سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کرنا شرمناک شکست ہے‘۔