چوہدری نثار نے جنرل (ر) راحیل شریف کا دعویٰ مسترد کردیا

اپ ڈیٹ 19 نومبر 2020

ای میل

چوہدری نثار نے مسلم لیگ (ن) سے اختلافات کے باعث 2018 کے انتخابات میں آزاد حیثیت میں حصہ لیا تھا—فائل/فوٹو: ڈان
چوہدری نثار نے مسلم لیگ (ن) سے اختلافات کے باعث 2018 کے انتخابات میں آزاد حیثیت میں حصہ لیا تھا—فائل/فوٹو: ڈان

سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنما چوہدری نثار نے سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (ر) راحیل شریف کے ان سے منسوب بیان کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ان کی جانب سے سابق آرمی چیف کو مدت ملازمت میں توسیع کے لیے پیش کش کی گئی تھی۔

نجی ٹی وی چینل ‘جیو نیوز’ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘سابق وزیر داخلہ اور سینئر سیاست دان چوہدری نثار علی خان نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران شہباز شریف کے ساتھ مل کر انہیں آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کی پیش کش کی تھی’۔

مزید پڑھیں: جنرل راحیل شریف کو فیلڈ مارشل بنانے کی درخواست مسترد

رپورٹ کے مطابق چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ‘اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ہم نے انہیں فیلڈ مارشل کا عہدہ دینے کی تجویز دی تھی’۔

جنرل (ر) راحیل شریف کے دعوے سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ‘لیفٹننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے جنرل راحیل شریف کے حوالے سے بتایا تھا کہ وہ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنماؤں سے ملاقات کے بعد واپس جارہے تھے تو ان سے چوہدری نثار اور شہباز شریف نے رابطہ کرکے یہ پیش کش کی تھی’۔

رپورٹ کے مطابق جنرل (ر) راحیل شریف نے امجد شعب کو بتایا کہ ‘شہباز شریف اور چوہدری نثار نے ان سے کہا کہ وہ انہیں بحیثیت آرمی چیف توسیع دینا چاہتے ہیں’۔

شعیب امجد نے جنرل راحیل شریف کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ‘توسیع نہ لینے کی وجہ ان کی جانب سے تین سال کی مدت پوری ہونے کے بعد ملازمت جاری نہ رکھنے کا کئی ماہ پہلے کیا گیا اعلان تھا’۔

ان کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار اور شہباز شریف کی پیش کش پر ‘انہوں نے ہچکچاہٹ کا اظہار کیا تو انہیں فیلڈ مارشل بنانے کی پیش کش کی گئی جو مسترد کردی کیونکہ وہ ایسے عہدے پر رہنا نہیں چاہتے تھے جس کا کوئی کام نہ ہو’۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ: چوہدری نثار کے اسمبلی میں حلف نہ اٹھانے کا اقدام چیلنج

رپورٹ کے مطابق چوہدری نثار نے کہا کہ ‘یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے شہباز شریف کے ساتھ مل کر راحیل شریف کو توسیع کی پیش کش کی تھی، حالانکہ میرے پاس ایسا کرنے کا اختیار بھی نہیں تھا اور وزیر اعظم کی جانب سے بھی کوئی اجازت نہیں دی گئی تھی’۔

رپورٹ کے مطابق چوہدری نثار نے کہا کہ ‘ہماری طرف سے فیلڈ مارشل کی پیش کش کی بات سب سے بڑا مذاق ہے جبکہ اس معاملے پر پیش کش تو دور کی بات کوئی تجویز بھی ہمارے ذہن میں نہیں آئی’۔

چوہدری نثار نے کہا کہ ‘یہ انتہائی حساس سرکاری معاملات ہیں، اس لیے ہمیں اس نے کہا اور اس نے کہا جیسی باتوں میں نہیں پڑنا چاہیے’۔

یاد رہے کہ چوہدری نثار علی خان، مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت میں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دوران وفاقی وزیر داخلہ تھے جبکہ اختلافات کے باعث 2018 کے انتخابات بھی آزاد حیثیت سے لڑا تھا جس میں قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر شکست ہوئی تھی، تاہم پنجاب اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے تھے لیکن انہوں نے تاحال رکنیت کا حلف نہیں اٹھایا۔

مزید پڑھیں: مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ: سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس و نکات

اس سے قبل اکتوبر 2016 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی جس کو عدالت نے خارج کردیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے قرار دیا تھا کہ اس حوالے سے مقننہ کو ہدایات جاری کرنا عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

جسٹس عامر فاروق نے درخواست گزار کے وکیل راجا صائم الحق ستی سے استفسار کیا کہ کیا ایسا کوئی قانون موجود ہے کہ جس کے تحت وفاقی حکومت سے کہا جائے کہ وہ جنرل راحیل شریف کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے تو ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اس مقصد کے لیے کوئی نیا قانون بنا سکتی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ 'مقننہ کو کسی مخصوص قانون سازی کے لیے ہدایات جاری نہیں کی جاسکتی اور یہ پٹیشن 'میرٹ کے بغیر ہے، لہٰذا اسے مسترد کیا جاتا ہے'۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف، سیکریٹری دفاع اور کابینہ ڈویژن کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ جنرل راحیل شریف نے، جن کی 3 سالہ مدت ملازمت 27 نومبر 2016 کو ختم ہورہی ہے، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا تھا جو اب تک جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنرل قمر جاوید باجوہ نئے آرمی چیف مقرر

درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ جنرل راحیل شریف نے پاکستان کی سلامتی اور سیکیورٹی کے لیے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا اور وہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کی بھی نگرانی کر رہے ہیں۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ وزیراعظم نواز شریف، سیکریٹری دفاع اور کابینہ ڈویژن کو ہدایات جاری کرے کہ وہ جنرل راحیل شریف کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دیں۔