لیڈی ڈیانا کے 25 سال پرانے انٹرویو کی تحقیقات،شہزادہ ولیم کا اظہار خیرمقدم

اپ ڈیٹ 20 نومبر 2020

ای میل

لیڈی ڈیانا نے 1995 میں بی بی سی کو تاریخی انٹرویو دیا تھا—فائل فوٹو: اے پی
لیڈی ڈیانا نے 1995 میں بی بی سی کو تاریخی انٹرویو دیا تھا—فائل فوٹو: اے پی

برطانوی شہزادہ ولیم نے اپنی آنجہانی والدہ لیڈی ڈیانا کے 25 سال قبل نشر کیے گئے انٹرویو کی سپریم کورٹ کے سابق جج سے تفتیش کروانے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شہزادہ ولیم نے برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) کی جانب سے لیڈی ڈیانا کے 1995 میں نشر کیے گئے انٹرویو سے متعلق سابق جج لارڈ ڈائیسن کی جانب سے تفتیش کروانے کے فیصلے کو سراہا ہے۔

شہزادہ ولیم کا کہنا تھا کہ سابق جج سے تفتیش کروانے کا فیصلہ درست سمت کی جانب اہم قدم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تفتیش سے معلوم ہوگا کہ 1995 میں ان کی والدہ سے کیے گئے بی بی سی کے انٹرویو کے پیچھے کن محرکات کا کیا کردار تھا؟

شہزادہ ولیم کی جانب سے سابق جج سے تفتیش کروانے کا خیر مقدم کرنے سے ایک دن قبل ہی بی بی سی نے اعلان کیا تھا کہ معاملے کی تفتیش سابق جج لارڈ ڈائیسن کریں گے۔

شہزادہ ولیم کی 6 ماہ کی عمر میں والدہ کے ساتھ یادگار تصویر—بشکریہ: اے پی
شہزادہ ولیم کی 6 ماہ کی عمر میں والدہ کے ساتھ یادگار تصویر—بشکریہ: اے پی

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق بی بی سی کی اعلیٰ انتظامیہ نے سابق جج سے انٹرویو کے معاملے کی تفتیش کرانے کا اعلان 18 نومبر کو کیا۔

اگرچہ بی بی سی نے پہلے ہی 1995 میں نشر کیے گئے انٹرویو سے متعلق تفتیش کا اعلان کیا تھا، تاہم 18 نومبر کو برطانوی نشریاتی ادارے نے تفتیش کرنے والی ٹیم کے سربراہ کا نام بھی بتا دیا۔

انٹرویو کی تفتیش کرنے والے جج کے حوالے سے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ وہ اچھی شہرت رکھتےہیں، وہ برطانوی سپریم کورٹ کے سینیئر ترین ججز میں سے ایک تھے۔

لارڈ ڈائیسن 2016 میں ریٹائرڈ ہوچکے تھے، وہ اب بی بی سی کی جانب سے نشر کیے گئے انٹرویو کی تفتیش کی سربراہی کریں گے۔

تفتیشی ٹیم اس بات کی پڑتال کرے گی کہ بی بی سی کے صحافی مارٹن بشیر نے اس وقت لیڈی ڈیانا سے انٹرویو کرنے کے لیے کون سے اقدامات اٹھائے تھے؟ اور کیا واقعی انہوں نے جعلی دستاویزات کا سہارا بھی لیا؟

لیڈی ڈیانا کی بیٹوں شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کے ساتھ یادگار تصویر—بشکریہ: اے پی
لیڈی ڈیانا کی بیٹوں شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کے ساتھ یادگار تصویر—بشکریہ: اے پی

ساتھ ہی وہ یہ بھی تفتیش کریں گے کہ مارٹن بشیر کی جانب سے انٹرویو کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے بی بی سی کو بطور ادارہ کن معلومات کا علم تھا اور اس ضمن میں ادارے نے کیا اقدامات اٹھائے؟

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ تفتیش کب تک مکمل ہوگی اور ٹیم اپنا کام کب سے شروع کرے گی، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ تفتیش میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

انٹرویو میں کیا تھا؟

خیال رہے کہ جس انٹرویو کے حوالے سے تفتیش کی جائے گی، بی بی سی نے اسے نومبر 1995 میں نشر کیا تھا۔

بی بی سی پر الزام ہے کہ اس کے صحافی مارٹن بشیر نے 1995 میں لیڈی ڈیانا اور اس کے بھائی کو جعلی دستاویزات دکھا کر انٹرویو دینے کے لیے قائل کیا تھا۔

پاکستانی نژاد برطانوی صحافی مارٹن بشیر پر الزام ہے کہ انہوں نے 1995 میں انٹرویو سے قبل لیڈی ڈیانا کے بھائی ارل چارلس اسپینسرکو ایسے بینک اسٹیٹمنٹ دکھائے جن سے ثابت ہوتا تھا کہ صحافی نے انٹرویو کے لیے پیسے بھی دیے ہیں۔

لیڈی ڈیانا کی شوہر شہزادہ چارلس اور بچوں کے ہمراہ 19 اگست 1995 کو کھینچی گئی یادگار تصویر—بشکریہ: اے ایف پی
لیڈی ڈیانا کی شوہر شہزادہ چارلس اور بچوں کے ہمراہ 19 اگست 1995 کو کھینچی گئی یادگار تصویر—بشکریہ: اے ایف پی

مارٹن بشیر پر الزام ہے کہ انہوں نے لیڈی ڈیانا کے بھائی کو برطانوی خفیہ اداروں کے بینک اکاؤنٹس کے ایسے دستاویزات بھی دکھائے تھے، جن سے ثابت ہو رہا تھا کہ خفیہ ادارے شاہی خاندان کے دو اہم ترین افراد کو لیڈی ڈیانا کی ذاتی معلومات دینے کے عوض رقم دیتے آ رہے تھے۔

مارٹن بشیر پر الزام ہے کہ انہوں نے لیڈی ڈیانا کے بھائی کو شاہی خاندان اور برطانوی خفیہ اداروں سے متعلق من گھڑت باتیں بتا کر اور بینک کے جعلی دستاویزات دکھا کر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ انہیں اپنی بہن سے ملوائیں۔

یہ بھی پڑھیں: لیڈی ڈیانا کے 25 سال پرانے انٹرویو پر تنازع

اگرچہ ایسے الزامات 1996 میں بھی سامنے آئے تھے اور اس وقت بھی بی بی سی نے الزامات پر معافی مانگی تھی، تاہم دعویٰ کیا تھا کہ الزامات جھوٹے ہیں۔

تاہم ایک بار پھر رواں ماہ کے آغاز میں لیڈی ڈیانا کے بھائی ارل چارلس اسپینسر نے برطانیہ کے چینل فور پر نشر کی جانے والی نئی دستاویزی فلم میں بی بی بی اور مارٹن بشیر پر سنگین الزامات لگائے تو بی بی سی نے 10 نومبر کو معاملے کی دوبارہ تحقیق کرنے کا اعلان کیا تھا۔

لیڈی ڈیانا کے تاریخی انٹرویو کو نومبر 1995 میں بی بی سی پر نشر کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ/بی بی سی ویڈیو
لیڈی ڈیانا کے تاریخی انٹرویو کو نومبر 1995 میں بی بی سی پر نشر کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ/بی بی سی ویڈیو

رواں ماہ 14 نومبر کو بی بی سی انتظامیہ نے بتایا تھا کہ انہیں لیڈی ڈیانا کی جانب سے ہاتھ سے لکھا گیا وہ نوٹ ملا ہے، جس میں انہوں نے کسی طرح کے دستاویزات کا ذکر نہیں کیا تھا اور بتایا تھا کہ انہوں نے اپنی رضامندی سے انٹرویو دیا تھا۔

اگرچہ مذکورہ دستاویزات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مارٹن بشیر کی جانب سے دکھائے گئے جعلی دستاویزات خود لیڈٰی ڈیانا نے نہیں دیکھے تھے، تاہم اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مذکورہ دستاویزات ان کے بھائی نے بھی دیکھے تھے یا نہیں؟

مزید پڑھیں: لیڈی ڈیانا کے پرانے انٹرویو کا تنازع حل کرنے سے متعلق اہم دستاویز مل گیا

لیڈی ڈیانا کے مذکورہ انٹرویو کو ’پینوراما انٹرویو‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے، جسے نومبر 1995 میں بی بی سی پر نشر کیا گیا تھا۔

ان کے اسی انٹرویو کو صرف برطانیہ میں دو کروڑ بار دیکھا گیا اور اسے اب تک ٹی وی پر سب سے زیادہ دیکھے جانے والے انٹرویو کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

مذکورہ انٹرویو کے بعد صحافی بشیر مارٹن کو زیادہ شہرت ملی—اسکرین شاٹ/ گیف فوٹوز ڈاٹ کام/ ویا ڈیلی میل
مذکورہ انٹرویو کے بعد صحافی بشیر مارٹن کو زیادہ شہرت ملی—اسکرین شاٹ/ گیف فوٹوز ڈاٹ کام/ ویا ڈیلی میل

’پینوراما انٹرویو‘ میں لیڈی ڈیانا نے بتایا تھا کہ ان کی شادی ایک مرد اور دو خواتین پر مشتمل ہے، یعنی انہوں نے اپنے شوہر شہزدہ چارلس کے کمیلا نامی خاتون سے افیئر کا ذکر کیا تھا، جو اب شہزادہ چارلس کی اہلیہ بن چکی ہیں۔

مذکورہ انٹرویو میں لیڈی ڈیانا نے شاہی محل میں خود کو قیدی اور بیمار شخص کی طرح زندگی گزارنے جیسے موضوعات پر بھی بات کی تھی۔

مذکورہ انٹرویو اس وقت نشر کیا گیا تھا جب وہ شوہر کے افیئر اور شاہی محل کی چمک دھمک مگر قید و پابندی کی زندگی سے تنگ آکر شوہر سے الگ ہوگئی تھیں اور بعد ازاں ان کی طلاق بھی ہوگئی تھی۔

شوہر سے علیحدگی اور طلاق کے کچھ ہی عرصے بعد لیڈی ڈیانا ایک روڈ حادثے میں 1997 میں چل بسی تھیں اور کئی افراد مذکورہ انٹرویو کو بھی لیڈی ڈیانا کی موت کا ایک سبب قرار دیتے ہیں۔

لیڈی ڈیانا 1997 میں محض 36 برس کی عمر میں روڈ حادثے میں چل بسی تھیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
لیڈی ڈیانا 1997 میں محض 36 برس کی عمر میں روڈ حادثے میں چل بسی تھیں—فائل فوٹو: اے ایف پی