4 ماہ بعد کورونا کیسز ڈھائی ہزار سے متجاوز، وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ جاری

20 نومبر 2020

ای میل

اایک عہدیدار نے کہا کہ موسم کے سرما کے دوران کیسز کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
اایک عہدیدار نے کہا کہ موسم کے سرما کے دوران کیسز کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: ملک میں 4 ماہ بعد گزشتہ روز کووِڈ 19 کے ڈھائی ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ وینٹیلیٹر پر زیر علاج تشویشناک حالت کے مریضوں کی تعداد بھی 234 تک بڑھ گئی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان وہ واحد صوبہ ہے جہاں اب تک کورونا وائرس کا کوئی مریض وینٹیلیٹر پر موجود نہیں ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز 2 ہزار 547 افراد میں وائرس کی تصدیق جبکہ 18 انتقال کر گئے۔

یہ بھی پڑھیں:ملک میں کورونا کی وبا سے مزید 2500 سے زائد افراد متاثر، 18 کا انتقال

اس سے قبل ڈھائی ہزار کیسز 11 جولائی کو رپورٹ ہوئے تھے جس کے بعد کیسز کی تعداد میں کمی آنا شروع ہوگئی تھی اور ستمبر میں یہ تعداد 300 کیسز روزانہ تک کم ہوگئی تھی جس میں اکتوبر کے دوران اضافہ شروع ہوا۔

ملک میں فعال کیسز کی تعداد 32 ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ ہسپتالوں میں داخل مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس وقت ملک بھر میں 2 ہزار 25 مریض ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

قومی ادارہ برائے صحت کے ایک عہدیدار نے کہا کہ موسم کے سرما کے دوران کیسز کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'زکام کا وائرس موسم سرما میں مزید فعال ہوجاتا ہے مزید یہ کہ کووِڈ کیسز کی تعداد بارش کی وجہ ست کم ہوئی تھی کیوں کہ وائرس نمی والے موسم میں وزنی ہوجاتا ہے اور پھیلنے کے بجائے زمین پر گر جاتا ہے تاہم موسم سرما کے دوران کم نمی کی وجہ سے وہ زیادہ دیر فضا میں موجود رہتا ہے۔

مزید پڑھیں: کووڈ کی وبا کے دوران حاملہ خواتین کی ذہنی صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری، تحقیق

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے عالمی ادارہ صحت کی منعقدہ وزرائے صحت کی ورچوئل پریس بریفنگ میں شرکت کی اور اس کے دوران پاکستان میں کورونا کو روکنے کی کوششوں کے بارے میں بات چیت کی۔

اس حوالے سے جاری بیان کے مطابق 'پاکستان صرف کووِڈ 19 سے متاثرہ ملک نہیں ہے بلکہ ہماری آبادی کو عدم تحفظ، قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی صورتحال کا بھی سامنا ہے، ہم پولیو سے بھی لڑ رہے ہیں اور اس بیماری کو ختم کرنے کی دہائیوں پرانی کوششیں بھی کورونا کی وجہ سے متاثر ہوگئی ہیں کیوں کہ پولیو کے عملے اور وسائل کو عالمی وبا کے ردِ عمل سے نمٹنے کے لیے استعمال یا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے وبا کے آغاز سے کورونا کے خلاف لڑائی میں بہت سی کامیابیاں حاصل کیں اور ہم جولائی اور اگست میں اس کا پھیلاؤ روکنے میں بڑی حد تک کامیاب رہے تاہم دنیا کے دیگر ممالک کی طرح لاک ڈاؤن میں نرمی کا نتیجہ اکتوبر میں کیسز کی تعداد میں اضافے کی صورت میں نکلا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا ایس او پیز: پی آئی اے پروازوں میں گرم مشروبات پیش کرنے پر پابندی

ڈاکٹر فیصل سلطان نے یہ بھی بتایا کہ اکتوبر عالمی ادارہ صحت کے ریجنل دفتر کی ایک ٹیم نے حکمت عملی کا جائزہ لینے اور تکنیکی معاونت کی پیش کش کے لیے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔