یو اے ای کو ایف -35 جیٹ طیاروں کی فروخت، امریکی سینیٹرز کی مخالفت

20 نومبر 2020

ای میل

3 امریکی سینیٹرز نے متحدہ عرب امارات کو ایف 35 طیاروں کی فروخت روکنے کے لیے قرار داد پیش کردی۔  - فائل فوٹو:اے ایف پی
3 امریکی سینیٹرز نے متحدہ عرب امارات کو ایف 35 طیاروں کی فروخت روکنے کے لیے قرار داد پیش کردی۔ - فائل فوٹو:اے ایف پی

واشنگٹن: 3 امریکی سینیٹرز نے متحدہ عرب امارات کو ٹاپ آف دی لائن ایف -35 جیٹ طیاروں کی فروخت روکنے کے لیے مہم کا آغاز کرتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر یو اے ای کے لیے تحفہ سمجھے جانے والے اس معاہدے پر تشویش کا اظہار کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اگر تینوں سینیٹرز 23 ارب ڈالر کے پیکیج کی مخالفت کرنے کے لیے کانگریس میں اکثریت کو راضی کر بھی لیں تو انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حاصل ویٹو کے اختیار کی پہاڑ جیسی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا

امریکا کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کے قریبی ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے یو اے ای کی جانب سے گزشتہ فروخت کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے کی رپورٹس کی نشاندہی کی کہ امریکی اتحادی کو بھیجے گئے ہتھیار جنگ زدہ لیبیا اور یمن سے برآمد ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں: متحدہ عرب امارات کو اسرائیل سے معاہدے کے بعد امریکا سے ایف 35 طیارے ملنے کا امکان

کرس مرفی نے اپنے بیان میں کہا کہ 'میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی حمایت کرتا ہوں تاہم اس معاہدے میں کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں ہے کہ ہم خطے میں مزید اسلحے کا سیلاب لائیں اور اسلحے کی ایک خطرناک دوڑ میں سہولت کار بنیں'۔

انہوں نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے اعلی ڈیموکریٹ رابرٹ مینینڈیز اور ریپبلیکن رینڈ پال کے ساتھ قرارداد کی پیش کی جو عام طور پر ٹرمپ کے حامی ہیں تاہم وہ امریکی فوجی مداخلت پر تنقید کرتے ہیں۔

امریکا کے سکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے گزشتہ ہفتے کانگریس کو باضابطہ طور پر فروخت کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

انہوں نے اپنے بیان میں متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی تعریف کی تھی اور اس فروخت کو ایران کے ساتھ باہمی مخالفت کا حصہ بتایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: چین میں دنیا کے پہلے 2 نشستوں والے اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کی تیاری

متحدہ عرب امارات نے طویل عرصے سے ایف 35 کی درخواست کر رکھی ہے جس میں اسٹیلتھ کی گنجائش ہے اور اسے نشانے پر بمباری، انٹیلیجنس اکٹھا کرنے اور ہوا سے ہوا میں لڑائی کے لیے بھی تعینات کیا جاسکتا ہے۔

اسرائیل اپنے ایف -35 بیڑے کو عرب ممالک کے مقابلے میں اپنی اسٹریٹجک ویلیو کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے تاہم اس نے تعلقات معمول پر آنے کا فائدہ دیکھتے ہوئے امریکی فروخت سے اپنی مخالفت ترک کردی تھی۔

کانگریس نے گزشتہ سال سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لیے اسلحے کے ایک بڑے پیکیج کو روکنے کی کوشش کی تھی تاہم ٹرمپ کے ویٹو کو ختم کرنے کے لیے دوتہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔