ٹی وی پر مرد اداکاروں کیلئے چند کردار ہی مخصوص ہیں، جنید خان

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2020

ای میل

جنید خان  کے مطابق ٹی وی کا مرکزی کردار ایک خاتون ہی ہوتی ہے— فوٹو: انسٹاگرام
جنید خان کے مطابق ٹی وی کا مرکزی کردار ایک خاتون ہی ہوتی ہے— فوٹو: انسٹاگرام

پاکستان کے اداکار و گلوکار جنید خان نے ڈراموں میں کردار سے متعلق کہا ہے کہ ٹی وی پر مرد اداکاروں کے لیے چند مخصوص کردار ہی ہوتے ہیں۔

برطانوی خبررساں ادارے 'بی بی سی' کی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں جنید خان نے کہا کہ ٹی وی خواتین کا میڈیم ہے لہذا اس کا مرکزی کردار ایک خاتون ہی ہوتی ہے جبکہ فلم میں مرد اداکار کے لیے کام کا مارجن کم ہوتا ہے۔

اداکار جنید خان نے کہا کہ ٹی وی اسکرین پر مرد اداکاروں کے لیے کام کا مارجن بہت کم ہے۔

مزید پڑھیں: جنید خان نے اپنی پہلی فلم 'کہے دل جدھر' کا اعلان کردیا

جنید خان نے کہا کہ ٹی وی پر کہانی ایک خاتون خانہ یا اس سے جڑے مرد کے کردار اور خیالات کے گرد گھومتی ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ٹی وی کے شائقین بنیادی طور پر خواتین ہی ہیں۔

—فوٹو:انسٹاگرام
—فوٹو:انسٹاگرام

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ڈرامے کی کہانی میں مرد کے لیے شوہر، باپ، بھائی، بیٹے اور کزن کے کردار ہی بچتے ہیں کیونکہ یہ بھی ایک کاروبار ہے اور پروڈیوسر بھی کہانی کو پھیلا نہیں سکتے اور انہی کرداروں تک محدود ہو جاتے ہیں۔

جنید خان نے کہا کہ اس لیے مرد اداکاروں کے لیے ٹی وی پر زیادہ کرداروں میں کام کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

'زیادہ تر شائقین کو حرا اور میری جوڑی پسند آتی ہے'

حال ہی میں حرا مانی اور جنید خان کا ڈراما 'کشف' اپنے اختتام کو پہنچا ہے جو نجی چینل ہم ٹی وی پر نشر ہوا تھا اور اب دونوں اسی چینل پر نئے ڈرامے 'محبتیں چاہتیں' میں ایک ساتھ دکھائی دے رہے ہیں۔

جنید خان نے کہا کہ مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ شائقین کو ہماری آن سکرین جوڑی پسند ہے اور وہ اب تک بور نہیں ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر شائقین کو حرا اور میری جوڑی پسند آتی ہے لیکن کبھی کبھی یہ تبصرے بھی ہوتے ہیں کہ اب اسکرین پر ان دونوں اداکاروں کو علیحدہ علیحدہ نئی جوڑیوں میں نظر آنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: حرا مانی اور جنید خان کا نیا ڈرامہ 'مکافات'

کشف ڈرامے کی مقبولیت کے حوالے سے جنید خان نے کہا کہ مجھے اور حرا کو ایک دوسرے کا اندازہ ہے اس لیے ہماری توجہ پرفارمنس اور اداکاری پر مرکوز رہی۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

انہوں نے کہا کہ کشف کی کہانی مختلف تھی، اس میں خوابوں کے فلسفے پر بات کی گئی ہے اور اس سب کے خاندانی معاملات اور آپسی تعلقات پر مرتب ہونے والے اثرات کو بیان کیا گیا ہے۔

حرا مانی کے ساتھ اداکاری کرنے سے متعلق جنید خان نے کہا کہ میرے اور حرا کے ایک ساتھ کام کرنے سے ڈرامے کے ہدایت کار کے لیے آسانی ہوتی ہے کہ وہ ہمارے کرداروں کو مکمل طور پر ابھار سکتے ہیں جبکہ پروڈیوسر کہتے ہیں کہ یہ دونوں دوست ہیں اس لیے سیٹ پر کوئی لڑائی نہیں ہو گی۔

جنید خان نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کے اچھے دوست ہیں اور آن سکرین ایک دوسرے کے ساتھ بہت پرسکون ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اور حرا اکثر اس بات پر ہنستے ہیں کہ جب کسی نئے ڈرامے کے لیے کال آتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ جنید یا حرا ساتھ ہیں تو انکار ہی نہیں کر پاتے۔

اداکار جنید خان نے ساتھی اداکاراؤں کے ساتھ متعلق کہا کہ میں ان سے پوچھتا ہوں آپ کو میرے ساتھ کام کرنے میں کس حد تک آسانی ہے اور جب وہ بتا دیتی ہیں تو مجھے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کوئی کردار ادا کرنے کے لیے کس حد تک اور کس پیرائے میں اداکاری کرنی ہے۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

جنید خان کا اپنے کام کے حوالے سے کہنا تھا کہ میں کام سے بہت کم بریک لیتا ہوں اور زیادہ توجہ اپنے کام پر مرکوز رکھتا ہوں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں مختلف کرداروں کو پڑھتا ہوں، میں اپنے آپ کو صرف برانڈز کے لیے مختص نہیں رکھتا نہ ہی میں سال میں ایک ڈراما کرنے پر یقین رکھتا ہوں۔

'منفرد کرداروں کی تلاش میں رہتا ہوں'

اداکار نے کہا کہ ٹی وی میرے لیے اظہار کا ایک ذریعہ ہے اور میں اسے مزید کھوج رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بہت کم ہی ایسے کردار نکلتے ہیں جو منفرد ہوتے ہیں، میں ایسے کرداروں کی تلاش میں رہتا ہوں۔

جنید خان نے کہا کہ ایسا ہی ایک کردار ہانیہ ڈرامے میں تھا، میں نے اس ڈرامے کے ڈائریکٹر قاسم علی مرید کے ساتھ بیٹھ کر اس کردار کو بنایا تھا اور ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اسے ایسے ہی قبول کیا۔

مزید پڑھیں: ’کہے دل جدھر‘ منشا پاشا اور جنید خان کی رومانوی کہانی

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک وقت میں اس کردار سے متعلق کہا گیا تھا کہ اسے ایسے نہیں دکھنا چاہیے، باڈی لینگوئج ایسی نہیں ہونی چاہیے۔

اداکار جنید خان نے کہا کہ کوئی بھی کردار ہدایت کار اور ٹیم کے ساتھ مل کر ہی بنتے ہیں، میں نے بہت سے کردار کیے جو گم ہو جاتے ہیں۔

'فلم سے پہلے اسکرین پر ڈانس نہیں کیا تھا'

سلور سکرین یعنی بڑے پردے کی بات کرتے ہوئے اداکار جنید خان کا کہنا تھا کہ فلم کا تجربہ بہت اچھا تھا۔

جنید خان اپنی پہلی فلم 'کہے دل جدھر'، جو کورونا کے باعث ریلیز ہونے میں تاخیر کا شکار ہوئی ہے، کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلم کا زاویہ مختلف ہے، بڑا پردہ ہے تو آپ کی پوری باڈی لینگوئج تبدیل ہو جاتی ہے، کام کرنے کا زیادہ مارجن بنتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ فلم کے لیے بہت عرصے سے ایک اچھے اسکرپٹ اور ٹیم کی تلاش تھی، لہذا جلال رومی جو اس فلم کے ہدایت کار ہیں میں نے ان کے ساتھ پہلے کچھ میوزک ویڈیوز میں کام کیا ہے لہذا ہم دونوں ایک دوسرے کے کام کرنے کے طریقہ سے واقف ہیں۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

ان کا کہنا تھا کہ فلم کی کہانی کامران باری نے لکھی ہے، ساتھی اداکارہ منشا کے ساتھ پہلے بھی کام کیا ہے اس لیے ایک اچھی ٹیم بن گئی۔

انہوں نے کہا کہ فلم کے لیے کچھ چیزیں ایسی تھیں جو پہلے کبھی اسکرین پر نہیں آئی تھیں جیسا کہ میں نے اسکرین پر کبھی ڈانس نہیں کیا۔

جنید خان نے کہا کہ ان کے حوالے سے انڈسٹری میں رائے بہت سنجیدہ انسان کی ہے اور کسی ایوارڈ شو پر بھی کبھی انہوں نے ڈانس نہیں کیا تھا لیکن اس فلم میں کیا۔

اداکار نے کہا کہ اس فلم میں کالج لائف کے ساتھ ساتھ منشیات کے استعمال سے متعلق سماجی پیغام بھی دیا گیا ہے۔

—فوٹو:جنید خان
—فوٹو:جنید خان

ان کا کہنا تھا کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران مزہ آیا لیکن اس کی کامیابی کا دار ومدار شائقین پر ہے کہ وہ اسے کیسے پسند کرتے ہیں۔

جنید خان کا کہنا تھا کہ اُمید ہے کہ شائقین کو یہ فلم پسند آئے گی لیکن اگر انہیں پسند نہ بھی آئی تو مجھے کوئی افسوس نہیں ہو گا کیونکہ میں نے اس میں اپنا کام مکمل کیا اور دل سے کیا ہے۔

'ارد گرد کے مشاہدات پر گانے لکھتا ہوں'

جنید خان نے اپنے شوبز کیرئیر کا آغاز میوزک سے کیا تھا اور ان دنوں وہ اپنے ایک سولو گانے پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ارد گرد سے حاصل ہونے خیالات اور مشاہدات پر لکھتے اور گاتے ہیں۔

جنید خان نے کہا کہ وہ ایک عرصے سے زندگی کے بارے میں جاننے اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا آنے والا گانا بھی زندگی سے متعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ گانا زندگی کی خوبصورتی اور اہمیت سے متعلق ہے جس میں ان کے ساتھ نامور گٹارسٹ فراز انور بھی موجود ہیں۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on