کووڈ 19: حکومتِ سندھ ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد پر تذبذب کا شکار

اپ ڈیٹ 23 نومبر 2020

ای میل

کراچی کے علاقے کریم آباد میں اتوار کے روز لوگوں کا ہجوم—تصویر: ڈان اخبار
کراچی کے علاقے کریم آباد میں اتوار کے روز لوگوں کا ہجوم—تصویر: ڈان اخبار

کراچی: حکومتِ سندھ کی ٹاسک فورس برائے کورونا وائرس نے سختی سے اس بات پر زور دیا ہے کہ فوری طور پر وہ تمام اقدامات اٹھائے جائیں جو وبا کی پہلی لہر کے دوران اٹھائے گئے تھے تاہم صوبائی حکومت ان پر عمل درآمد کے حوالے سے تذبذب کا شکار نظر آتی ہے۔

تاہم ان تجاویز کو تقریباً ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود حکومت کی جانب سے ان اقدامات پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا جیسے فروری میں پہلا کیس سامنے آنے کے بعد کیا گیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس مرتبہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت نے عالمی وبا کی دوسری لہر کے دوران بظاہر سستی سے پیش رفت کیں اور ہر اقدام ٹاسک فورس میں شامل طبی ماہرین اور ماہرین کے ساتھ ساتھ تمام اسٹیک ہولڈرز سے حاصل ہونے والے فیڈ بیک کی بنیاد پر اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کی دوسری لہر: پاکستان میں مزید 2 ہزار 756 افراد متاثر، فعال کیسز 38ہزار سے زائد

اجلاس سے باخبر ذرائع نے کہا کہ 'قومی رابطہ کمیٹی کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس سے تقریباً ایک ہفتہ قبل سندھ ٹاسک فورس برائے کورونا وائرس کا اجلاس ہوا تھا۔

جس میں اراکین نے سختی سے اس بات پر زور دیا تھا کہ جو اقدامات وبا کی پہلی لہر کے دوران اٹھائے گئے تھے انہیں دہرایا جائے، اجلاس میں کاروباری سرگرمیوں کے اوقات محدود کرنے، لوگوں کی نقل و حرکت روکنے اور تعلیمی اداروں کی بندش کی تجاویز دی گئی تھیں۔

سندھ ٹاسک فورس برائے کورونا میں شامل کچھ ماہرین صحت کے انٹرویو سے اجلاس کے ایجنڈے، دی گئی تجاویز اور آخر میں کیے گئے فیصلوں کی تصدیق ہوگئی۔

مزید پڑھیں: چند روپے کے فیس ماسک کس حد تک کورونا سے بچاسکتے ہیں؟

تاہم انہوں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ حکومت سندھ کی جانب سے وبا کی پہلی لہر کے دوران لگائی جانے والی پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے میں تذبذب کا شکار ہے تاہم ڈان کے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے جو کہا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام نے ابھی تک فروری والے انداز میں اقدامات نہیں اٹھائے۔

ٹاسک فورس کے ایک رکن نے کہا کہ 'ہمیں دلچسپی کا فقدان نظر نہیں آتا لیکن میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ عملدرآمد فوری طور پر اور تیزی سے ہونا چاہیے، یہ ایک وائرل بیماری ہے جسے عالمی وبا قرار دیا جاچکا ہے'۔

خیال ہے کہ فروری میں سندھ وہ پہلا صوبہ تھا جس نے صوبے میں پہلا کیس آتے ہی تعلیمی ادارے بند کردیے تھے اور اس کے بعد بتدریج سرکاری ہسپتال بھی بند کردیے گئے تھے لیکن اس مرتبہ ان 2 شعبوں کے حوالے سے بھی اس طرح کے اقدامات نہیں کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کا کورونا پر پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا امکان

دوسری جانب قومی ادارہ برائے امراض قلب کے حوالے سے بھی ایک تنازع سامنے آیا جس میں ایک سینئر ڈاکٹر نے دعویٰ کیا کہ ہسپتال انتظامیہ نے سیاسی وجوہات کی بنا پر موجود وبا کے دوران تمام رہنما ہدایات نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ دعویٰ این آئی سی وی ڈی کے سب سے سینئر اراکین کی جانب سے آیا تھا جنہیں ہسپتال کے عملے اور ہیلتھ ورکرز میں کووِڈ 19 کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرنے اور مرکزی ہسپتال سمیٹ ٹنڈو محمد خان اور سکھر کے ہسپتال میں سرجریز ملتوی کرنے کے اعلان پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

ادھر انہی خدشات کا اظہار پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پی آئی ایم اے) کی جانب سے بھی کیا گیا تھا جس سے نہ صرف حکومت سندھ کی حمایت کی تھی بلکہ بیماری کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کے حق میں آزاد مہم بھی چلائی تھی۔