ویب سیریز میں مسلم لڑکے و ہندو لڑکی کا رومانس دکھانے پر بھارت میں تنازع

اپ ڈیٹ 23 نومبر 2020

ای میل

اے سوٹیبل بوائے کو گزشتہ ماہ ریلیز کیا گیا تھا—فوٹو:اسکرین شاٹ
اے سوٹیبل بوائے کو گزشتہ ماہ ریلیز کیا گیا تھا—فوٹو:اسکرین شاٹ

گزشتہ ماہ 23 اکتوبر کو اسٹریمنگ ویب سائٹ نیٹ فلیکس پر ریلیز ہونے والی بھارتی ویب سیریز 'اے سوٹیبل بوائے' میں ہندو لڑکی اور مسلمان لڑکے کے درمیان رومانوی مناظر دکھانے جانے پر تنازع شروع ہوگیا۔

'اے سوٹیبل بوائے' نامی ویب سیریز میں مسلمان لڑکے اور ہندو لڑکی کے درمیان رومانوی مناظر کو مندر کے احاطے میں فلمائے جانے اور انہیں ویب سیریز میں دلفریب انداز میں دکھائے جانے پر لوگوں نے اسے 'لو جہاد (Love Jahad)' کا نام دے کر نیٹ فلیکس کے بائیکاٹ کی مہم بھی شروع کردی۔

انتہاپسند ہندو، خواتین کی جانب سے مسلمان مردوں سے محبت یا شادی کرنے کو ’لو جہاد‘ کا نام دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلمان لڑکے ہندو لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسا کر ان سے شادی کرنے کے بعد ان کا مذہب تبدیل کردیتے ہیں۔

علاوہ ازیں مذکورہ ویب سیریز میں ہندو لڑکی کو مسلمان لڑکے کے ساتھ مندر کے احاطے میں رومانوی مناظر میں دکھائے جانے پر نیٹ فلیکس کے خلاف پولیس میں شکایت بھی درج کروادی گئی۔

ویب سیریز میں اشان کھاٹر اور تبو کو بھی رومانس کرتے دکھایا گیا ہے—اسکرین شاٹ
ویب سیریز میں اشان کھاٹر اور تبو کو بھی رومانس کرتے دکھایا گیا ہے—اسکرین شاٹ

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ویب سیریز 'اے سوٹیبل بوائے' کے خلاف حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے یوتھ ونگ کے رہنما گوروو تواری نے ریاست مدھیا پردیش میں مقدمہ بھی دائر کروادیا ہے۔

گوروو تواری کی جانب سے نیٹ فلیکس کے خلاف مقدمہ دائر کروائے جانے کے بعد مدھیا پردیش کے وزیر داخلہ نے پولیس کو اسٹریمنگ ویب سائٹ اور سیریز کی ہدایت کارہ میرا نائر کے خلاف بھی کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔

مدھیا پردیش کے وزیر داخلہ نروتام مشرا نے بھی ویب سیریز میں مندر کے احاطے میں ہندو لڑکی اور مسلمان لڑکے کے رومانوی مناظر کو انتہائی نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ہندوؤں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

ریاستی وزیر داخلہ نے پولیس کو نیٹ فلیکس اور سیریز کی ہدایت کارہ کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایات بھی کی ہیں۔

مذکورہ ویب سیریز کے خلاف بی جے پی کے یوتھ ونگ کے رہنما گوروو تواری کی جانب سے ٹوئٹ کیے جانے کے بعد متعدد سیاسی و سماجی رہنماؤں سمیت صحافیوں نے بھی نیٹ فلیکس کی سیریز کے خلاف ٹوئٹس کرتے ہوئے اسٹریمنگ ویب سائٹ کے بائیکاٹ کی مہم چلائی۔

ویب سیریز میں انگریزی ادب کی یونیورسٹی کی طالبہ کو مرکزی کردار میں دکھایا گیا ہے—اسکرین شاٹ
ویب سیریز میں انگریزی ادب کی یونیورسٹی کی طالبہ کو مرکزی کردار میں دکھایا گیا ہے—اسکرین شاٹ

زیادہ تر افراد نے ویب سیریز میں ہندو لڑکی کی جانب سے مسلمان لڑکے کے ساتھ مندر کے احاطے میں رومانوی مناظر کو ہندوؤں کے مذہبی جذبات کے خلاف قرار دیا۔

تاہم اب تک نیٹ فلیکس نے اپنی ویب سیریز کے خلاف بائیکاٹ کی مہم پر کوئی جواب نہیں دیا ہے جب کہ فوری طور پر پولیس نے بھی کوئی ایکشن نہیں لیا مگر سوشل میڈیا پر نیٹ فلیکس کے خلاف بائیکاٹ کی مہم جاری ہے۔

نیٹ فلیکس کی مذکورہ ویب سیریز 'اے سوٹیبل بوائے' کو گزشتہ ماہ 23 اکتوبر کو ریلیز کیا گیا تھا، سیریز کی کہانی تقسیم ہند کے وقت کی ہے اور اس میں نئے آزاد ملک بننے والے بھارت کے خاندانی مسائل کو دکھایا گیا ہے۔

ویب سیریز کی کہانی اسی نام سے شائع ہونے والے انگریزی نام سے لی گئی ہے، سیریز میں ایک ایسی یونیورسٹی کی خوبرو ہندو طالبہ کو دکھایا گیا ہے جس کے والدین ان کی شادی کروانا چاہتے ہیں۔

ویب سیریز میں اسی خاندان کی دوسری شادیوں کو بھی دکھایا گیا ہے۔

ویب سیریز میں مرکزی اداکارہ انگریزی ادب کی طالبہ ہوتی ہیں جو اپنی شادی کے لیے پسند کا لڑکا تلاش کرنے کے چکر میں مختلف لڑکوں سے پیار کرتی ہیں اور اسی چکر میں انہیں ایک مسلمان لڑکے سے عشق ہوجاتا ہے۔

ویب سیریز کی ہدایات ایوارڈ یافتہ فلم ساز میرا نائر نے دی ہیں جب کہ سیریز میں تبو سمیت ایشان کھاٹر نے کردار ادا کیے ہیں۔