کورونا کی دوسری لہر میں احتیاط کا دامن ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے، وزیر اعظم

23 نومبر 2020

ای میل

عمران خان نے وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور عام لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی — فوٹو: پی آئی ڈی
عمران خان نے وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور عام لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی — فوٹو: پی آئی ڈی

وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور عام لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں وبا کی دوسری لہر میں بھی سنجیدگی، توازن اور احتیاط کا دامن ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے۔

ملکی سطح پر کورونا کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے وزیر اعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں وفاقی وزرا مخدوم خسرو بختیار، شفقت محمود، حماد اظہر، سینیٹر شبلی فراز، اعجاذ شاہ، اسد عمر کے علاوہ معاونینِ خصوصی ثانیہ نشتر، ڈاکٹر فیصل سلطان، مشیرِ وزیر اعظم عبدالرزاق داؤد اور وزیرِ مملکت علی محمد خان نے شرکت کی۔

وزیراعظم دفتر سے جاری بیان کے مطابق عمران خان کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی طرف سے کیے گئے فیصلوں کے حوالے سے بتایا گیا اور ملک میں کورونا کے پھیلاؤ، وبا سے قیمتی جانوں کے ضیاع اور ہسپتالوں کی استعداد کار سمیت مختلف پہلوؤں کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: ہسپتالوں میں مریضوں کے داخلے کی شرح دگنی ہوگئی

اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے کورونا کی پہلی لہر میں قابلِ تقلید حکمت عملی اور بروقت فیصلوں سے وبا پر قابو پایا جس کی دنیا معترف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ہمیں دوسری لہر میں بھی سنجیدگی، توازن اور احتیاط کا دامن ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے۔

عمران خان نے وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور عام لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے اس ضمن میں مختلف امور پر فیصلہ سازی اور مشاورت کے لیے قومی رابطہ کمیٹی برائے کووڈ 19 کا اجلاس طلب کرنے کی بھی ہدایت کی۔

واضح رہے کہ این سی او سی کے اجلاس کو آگاہ کیا گیا تھا کہ گزشتہ 2 ہفتے کے دوران ملک میں کووِڈ 19 کے باعث ہسپتالوں میں مریضوں کے داخلے کی شرح دگنی ہوگئی ہے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کیسز کے مثبت آنے کی شرح 7.46 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 22 نومبر کو ملک میں 2 ہزار 756 کیسز ریکارڈ کیے گئے جس کے نتیجے میں مثبت کیسز کی شرح 7.46 فیصد ہوگئی۔

مزید پڑھیں: ملک کے تمام تعلیمی ادارے 26 نومبر سے بند کرنے کا فیصلہ

این سے او سی کو بتایا گیا کہ آزاد کشمیر میں کووِڈ 19 کی مثبت شرح سب سے بلند 11.45 فیصد ہے جس کے بعد خیبر پختونخوا میں 9.8 فیصد، سندھ میں 9.63 فیصد، بلوچستان میں 7.73 فیصد اور گلگت بلتستان میں یہ شرح 5.23 فیصد ہے۔

پورے ملک میں کیسز کے مثبت آنے کی کم ترین شرح 3.95 فیصد پنجاب میں ہے۔

دوسری جانب ملک بھر میں کورونا وائرس خاص طور پر تعلیمی اداروں میں کیسز کی شرح میں اضافے کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کو 26 نومبر سے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا، تاہم اس دوران گھروں سے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔