تفتیش کاروں اور استغاثہ کی تربیت کے لیے نیب کی اکیڈمی قائم

اپ ڈیٹ 27 نومبر 2020

ای میل

چیئرمین نیب جاوید اقبال نے کہا کہ تحقیقات اور کام کے معیار کو بہتر بنانے نیب افسران کو تربیت دی جا رہی ہے— فائل فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
چیئرمین نیب جاوید اقبال نے کہا کہ تحقیقات اور کام کے معیار کو بہتر بنانے نیب افسران کو تربیت دی جا رہی ہے— فائل فوٹو بشکریہ ٹوئٹر

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب نے اپنے استغاثہ اور تفتیشی افسران کو جدید خطوط پر تربیت دینے کے لیے ‘پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی’ قائم کردی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیب کے افسران کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب نے اسلام آباد میں جدید خطوط پر اپنی پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی قائم کی ہے کیونکہ یہ استغاثہ اور تفتیشی افسران کو جدید تربیت دینے میں اہمیت کی حامل ہے۔

مزید پڑھیں: کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا ذمہ دار نیب ہے، سپریم کورٹ

انہوں نے کہا کہ نیب افسران اور پراسیکیوٹرز کو ان کی تحقیقات اور کام کے معیار کو بہتر بنانے میں مستقل طور پر تربیت دی جارہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ نیب کو ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کا کام سونپا گیا ہے اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے فرائض سرانجام دینے کے لیے فعال اور سرشار افسروں کی ضرورت ہے۔

جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے اپنے افسران کی صلاحیت میں اضافے کو اہمیت دی ہے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے 2020 میں ایک جامع منصوبہ پہلے ہی تیار کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ تربیتی پروگرام کے کامیاب نفاذ کے لیے ہنر مند تربیت دہندگان انتہائی ضروری ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ عدالتوں میں مقدمات کی بھر پور کارروائی کے لیے تمام علاقائی بیوروز میں قانونی ماہرین کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن اکیڈمی نئے نیب افسران کو تربیت کی فراہمی کو یقینی بنائے گی، اکیڈمی مالی جرائم کے بارے میں افسران کو تربیت دے گی، انہوں نے مزید کہا کہ یہ صوبائی اور وفاقی اداروں کو فارنزک جانچ اور استغاثہ کی خدمات بھی فراہم کرے گا۔

یہ اکیڈمی موجودہ نظام کی خامیوں اور نقائص کو دور کرنے کے لیے تجاویز بھی پیش کرے گی، یہ گڈ گورننس کو یقینی بنانے اور مالی جرائم کی روک تھام کے لیے اصلاحات تجویز کرے گی، یہ مالی جرائم اور تحقیقات کے حوالے سے بین الاقوامی ایجنسیوں کے ساتھ بھی ہم آہنگی برقرار رکھے گی۔

یہ بھی پڑھیں: نیب کی بڑے سیاستدانوں کے خلاف میگا کرپشن کیسز پر نظرثانی

اکیڈمی طے شدہ قواعد و ضوابط کے تحت نیب کے ریسرچ اینڈ ٹریننگ ڈویژن کے تحت کام کرے گی۔

نیب کے سربراہ نے کہا کہ بیورو نے تفتیشی افسران کی استعداد کار میں اضافے کے لیے جامع ریفریشر کورسز وضع کیے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تربیت میں بہتری لانے کے لیے تربیتی عمل کی نگرانی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تفتیشی افسران اور پراسیکیوٹرز کو ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹس کے تجزیے کی سہولیات مہیا کرنے کے لیے نیب میں ایک جدید فرانزک لیبارٹری بھی قائم کی گئی ہے۔