فوج بطور ادارہ نہیں، کچھ لوگ جمہوریت کو کمزور کر رہے ہیں، اسحٰق ڈار

اپ ڈیٹ 01 دسمبر 2020

ای میل

اسحٰق ڈار نے کہا کہ منی لانڈرنگ سے متعلق دستاویزات میں میرا نام کہیں درج نہیں ہے — فوٹو: بشکریہ بی بی سی
اسحٰق ڈار نے کہا کہ منی لانڈرنگ سے متعلق دستاویزات میں میرا نام کہیں درج نہیں ہے — فوٹو: بشکریہ بی بی سی

سابق وزیر خزانہ اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اسحٰق ڈار کا کہنا ہے کہ وہ فوج پر بطور ادارہ جمہوری عمل کو کمزور بنانے کا الزام عائد نہیں کرتے بلکہ یہ کچھ لوگوں کی خواہش اور منصوبہ ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جو پاکستان میں مارشل لا نافذ کرتے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے پروگرام 'ہارڈ ٹاک' میں بات کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے ملک کی اعلیٰ عسکری قیادت پر سنگین الزامات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ حقیقت ہے، ڈیپ اسٹیٹ کے بارے میں سب کو علم ہے کہ وہ ایسا کرتی ہے جبکہ سینئر امریکی سیاستدان ہیلری کلنٹن بھی ڈیپ اسٹیٹ سے متعلق پاکستان کی مثال دے چکی ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'نواز شریف وزیر اعظم یا عام شہری کی حیثیت سے فوج کے مخالف نہیں، وہ کچھ افراد کو قصوروار ٹھہراتے ہیں، یہ چیز اعلیٰ قیادت میں شروع ہوتی ہے، ڈان لیکس کی تاریخ سے آپ واقف ہوں گے، ہم نے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا تھا'۔

انہوں نے کہا کہ 'نواز شریف جمہوریت اور پارلیمان کی بالادستی کے لیے لڑ رہے ہیں، اس میں کیا برائی ہے؟ برطانیہ بھی تو جمہوریت اور جمہوری اقدار کی حمایت کرتا ہے، ہمیں سوچنا چاہیے کہ آپ تو ہمارا ساتھ دیں گے'۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ 'پاک فوج کا پورا ادارہ نہیں بلکہ ہمیں کچھ افراد کی بات کرنی ہوگی، ملک میں جمہوری عمل کو کمزور بنانا کچھ لوگوں کی خواہش اور منصوبہ ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جو پاکستان میں مارشل لا لگاتے ہیں'۔

نواز شریف کے کئی سالوں تک ضیاالحق کے ساتھ کام کرنے اور اب پاک فوج کی قیادت پر الزامات سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 'یہ ارتقا کا عمل ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: اسحٰق ڈار کا گلبرگ کا گھر پناہ گاہ میں تبدیل

'خود پر الزامات کے خلاف ثبوت پیش کر سکتا ہوں'

پاکستان میں اشتہاری اور مفرور قرار دیے جانے اور قانون سے بچنے کے لیے لندن آنے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ 'ایسا بالکل نہیں ہے، پاکستان میں گزشتہ 73 برسوں کے دوران مختلف آمریت کے ادوار میں کرپشن کے بیانیے کو بار بار استعمال کیا گیا ہے، اس مرتبہ بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہے کیونکہ موجودہ حکومت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک پوشیدہ آمریت ہے، ایک جوڈیشل مارشل لا ہے'۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ 'میرا نام پاناما پیپرز میں نہیں تھا اور میں خود پر الزامات کے خلاف ثبوت پیش کر سکتا ہوں جبکہ منی لانڈرنگ سے متعلق دستاویزات میں میرا نام کہیں درج نہیں ہے'۔

نیب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 'یہ اپنی اہمیت بہت پہلے ہی کھو چکا ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو سیاسی مخالفین کے خلاف انتقام کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، میں حکومت میں رہتے ہوئے بھی اس پر پریس کانفرنس کر چکا ہوں'۔

'اپنے تمام اثاثے گوشواروں میں ظاہر کیے ہوئے ہیں'

اپنے اور اپنے خاندان کے اثاثوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے اپنے تمام اثاثے اپنے گوشواروں میں ظاہر کیے ہوئے ہیں، میرے پاس صرف ایک جائیداد ہے، پاکستان میں میرا گھر ہے جو موجودہ حکومت نے مجھ سے چھین لیا ہے'۔

اسحق ڈار نے دبئی اور لندن میں اثاثوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ الزامات درست نہیں، میرے بچوں کا صرف ایک وِلا ہے جو اُن کی ملکیت ہے کیونکہ وہ 17 سال سے کاروبار کر رہے ہیں، جبکہ میرے بچے آزاد ہیں اور میری سرپرستی میں نہیں'۔

مزید پڑھیں: اسحٰق ڈار کے ضبط شدہ 50 کروڑ روپے قومی خزانے میں جمع

'ہم سے الیکشن چُرایا گیا'

پاکستان واپس آنے سے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ تقریباً 3 سال سے لندن میں ہیں اور ان کے وکلا پاکستان میں مقدمات کو دیکھ رہے ہیں، لیکن پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں؟ نیب کی حراست میں لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ درجنوں لوگوں کو مار دیا گیا ہے'۔

انہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 'دنیا دھاندلی اور چوری شدہ انتخابات دیکھ چکی ہے، سب کو معلوم ہے کہ ہم سے الیکشن چُرایا گیا، فافین نیٹ ورک عالمی سطح پر کام کرتا ہے، اس کے مطابق ان انتخابات کو چُرایا گیا، قبل از وقت دھاندلی ہوئی، نیب کا استعمال کر کے ہماری جماعت سے الیکٹیبلز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں دھکیلے گئے، آر ٹی ایس سسٹم رُک گیا تھا اور اسے کئی گھنٹوں تک بند رکھا گیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان میں اس وقت ایک فاشست حکومت ہے، ہمارا حتمی مقصد جمہوریت کی بالادستی، صاف و شفاف انتخابات اور قانون پر عمل درآمد ہے'۔