سی سی پی او لاہور سے ’اختلافات‘ پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے تبادلے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 03 دسمبر 2020
سی سی پی او لاہور عمر شیخ —فائل فوٹو: ای او ایس
سی سی پی او لاہور عمر شیخ —فائل فوٹو: ای او ایس

لاہور: حکومت پنجاب نے مختلف انتظامی معاملات پر کیپٹیل سٹی پولیس افسر عمر شیخ کے ساتھ مبینہ اختلافات پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان کا تبادلہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق شہزادہ سلطان صوبائی دارالحکومت کے چوتھے پولیس افسر ہیں جن کا عمر شیخ کے بطور سی سی پی او لاہور کا چارج سنبھالنے کے بعد تبادلہ کیا جارہا ہے۔

اس سے قبل سابق انسپکٹر جنرل پولیس شعیب دستگیر کو عمر شیخ سے اختلافات پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور یہ معاملہ شہ سرخیوں کی زینت بنا تھا۔

مزید پڑھیں: سی سی پی او کے 'نامناسب رویے' پر لاہور پولیس عدم اطمینان کا شکار

حالیہ معاملے میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اور سی سی پی او کے درمیان اختلافات اس وقت شروع ہوئے جب سی سی پی او نے ڈی آئی جی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

ایک سینئر پولیس افسر کا کہنا تھا کہ سی سی پی او، شہزادہ سلطان کے ’تفتیشی ونگ میں دلچسپی نہ لینے پر‘ خود سے بے چینی محسوس کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی اپنے ڈپارٹمنٹ کو مکمل وقت نہیں دے رہے اور یہ خاص مسئلے نے دونوں کے درمیان اختلافات کو بڑھا دیا۔

افسر کا کہنا تھا کہ شہزادہ سلطان ان 50 پولیس افسران میں شامل تھے، جنہیں عمر شیخ نے بطور سی سی پی او تعیناتی کے خلاف ستمبر میں سینٹرل پولیس آفس میں اجلاس منعقد کیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جب مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے گئے تھے تو ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سی سی پی او کے سخت ناقدین میں سے ایک تھے۔

چونکہ ان دونوں کے درمیان بہتر تعلقات نہیں تھے تو پولیس افسر کے مطابق سی سی پی او لاہور نے حال ہی میں اعلیٰ حکام سے اپنے سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا اور ان کے تبادلے کا مطالبہ کرتے ہوئے متبادل کے طور پر ان کے بقول ایک پیشہ ور پولیس افسر تعینات کرنے کا کہا تھا۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ سی سی پی او کی جانب سے انویسٹی گیشن کے کچھ پولیس عہدیداروں کے خلاف مقدمات درج کرکے انہیں سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کے اقدام نے بھی شہزادہ سلطان کو مشتعل کیا تھا اور انہوں نے ان اقدامات کو غیرضروری قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آئی جی انعام غنی کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ایک سمری بھیجی تھی جس میں 20 ویں گریڈ کے افسر شارق جمال کو نیا ڈی آئی جی انویسٹی گیشن تعینات کرنے کا کہا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سی سی پی او نے ’لفظی تکرار‘ کے بعد ایس پی کی گرفتاری کے احکامات جاری کردیے

شارق جمال جو اس وقت ڈی آئی جی ٹیلی کمیونکیشن پنجاب تعینات ہیں وہ پنجاب میں بظاہر اپنی پہلی فیلڈ پوسٹنگ سنبھالیں گے۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ آئی جی پی کی جانب سے ایک اور تجویز بھی بھیجی گئی ہے جس میں حکام سے شہزادہ سلطان کا تبادلہ کرنے اور انہیں کمانڈنٹ پولیس ٹرینگ چونک تعینات کرنے کی سفارش کی گئی۔

علاوہ ازیں یہ آر پی اوز شیخوپورہ اور گوجرانوالہ اور سی پی او ملتان کے تبادلے سے متعلق بھی افواہیں زیر گردش ہیں۔


یہ خبر 03 دسمبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

تبصرے (0) بند ہیں