جسٹن ٹروڈو کا ایک بار پھر بھارتی کسانوں کے احتجاج کے حق میں بیان

05 دسمبر 2020

ای میل

انہوں نے کہا کہ ہمیں طاقت کا استعمال چھوڑ کر مذاکرات کی راہ اپنانے کے اقدام پر خوشی ہے — فائل فوٹو / اے ایف پی
انہوں نے کہا کہ ہمیں طاقت کا استعمال چھوڑ کر مذاکرات کی راہ اپنانے کے اقدام پر خوشی ہے — فائل فوٹو / اے ایف پی

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارت میں اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کرنے والے کسانوں کی ایک بار پھر حمایت کردی۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اوٹاوا میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کسانوں کی حمایت پر بھارت کی تنبیہ کے حوالے سے سوال پر جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ 'کینیڈا دنیا کے کسی بھی حصے میں پرامن احتجاج کے حق کے لیے ہمیشہ کھڑا ہوگا، جبکہ ہمیں طاقت کا استعمال چھوڑ کر مذاکرات کی راہ اپنانے کے اقدام پر خوشی ہے'۔

بھارتی کسانوں کی حمایت پر بھارت سے تعلقات کو نقصان پہنچنے سے متعلق پوچھے جانے پر انہوں نے اپنی اس بات کو دہرایا کہ 'کینیڈا دنیا کے کسی بھی حصے میں پرامن احتجاج کے حق کے لیے ہمیشہ کھڑا ہوگا۔'

واضح رہے کہ جسٹن ٹروڈو کے کسانوں کی حمایت کے حوالے سے پہلے بیان پر گزشتہ روز بھارت نے کینیڈا کے سفیر کو طلب کرکے اس کے خلاف باضاطہ احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کسانوں کے احتجاج پر جسٹن ٹروڈو کا بیان: بھارت کا کینیڈا سے باضابطہ احتجاج

بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ 'بھارتی کسانوں سے متعلق معاملات پر تبصرے سے ہمارے اندرونی معاملات میں ناقابل قبول مداخلت ہوئی ہے'۔

بیان میں کہا گیا کہ 'ہم کینیڈا کی حکومت سے امید رکھتے ہیں کہ وہ بھارتی سفارتکاروں کی مکمل سیکیورٹی کو یقینی بنائے گی اور اس کے سیاسی رہنما ایسے بیانات سے گریز کریں گے جو انتہا پسندانہ سرگرمی کو قانونی حیثیت دیتے ہیں'۔

بھارت اور کینیڈا کے درمیان قریبی تعلقات ہیں لیکن گزشتہ سالوں سے بھارت میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ کینیڈا میں مقیم چند سکھ رہنماؤں کے بھارت سے دشمنی رکھنے والے علیحدگی پسند گروپوں سے تعلقات ہیں۔

کینیڈا بااثر سکھ برادری کا گڑھ ہے اور بھارتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہاں کچھ گروپس ایسے ہیں جو اب بھی بھارت سے الگ آزاد سکھ ریاست 'خالصتان' تحریک کے ہمدرد ہیں۔

مزید پڑھیں: کسانوں کا احتجاج: کینیڈا کے وزیراعظم کی حمایت پر بھارت کا سخت جواب

خیال رہے کہ جسٹن ٹروڈو نے رواں ہفتے کے اوائل میں کینیڈا میں بھارتی کمیونٹی سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ انہیں نئی دہلی کے نواح میں کسانوں، جن میں سے بیشتر سکھ اکثریتی ریاست پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں، کے زرعی اصلاحات کے خلاف احتجاج پر تشویش ہے۔

یکم دسمبر کو بھارتی حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کینیڈا کے وزیر اعظم کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ کینیڈا کے رہنما کا بیان ناقص معلومات پر مبنی اور غیر ضروری ہے۔

بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شری واستوا کا کہنا تھا کہ 'ہم نے بھارت میں کسانوں سے متعلق کینیڈا کے رہنما کی ناقص معلومات پر مبنی بیان دیکھا ہے، اس طرح کے بیانات غیر ضروری ہیں اور خاص کر جب یہ کسی جمہوری ملک کے اندرونی معاملات سے متعلق ہوں’۔

انہوں نے کہا کہ 'سفارتی گفتگو کو سیاسی مقاصد کے لیے سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان نہ کرنا بہتر ہوگا'۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: زرعی اصلاحات پر کسانوں اور پولیس کے درمیان تصادم

واضح رہے کہ بھارت میں نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے زرعی اصلاحات متعارف کروائی تھی جس کے خلاف ہزاروں کسانوں نے دارالحکومت نئی دہلی کی طرف مارچ شروع کر دیا تھا۔

پولیس نے کسانوں کے مارچ کو روکنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بُری طرح استعمال کیا تھا اور پولیس نے پنجاب کے کسانوں کو دہلی سے 200 کلومیٹر دور روکنے کی کوشش کی تھی۔

ڈنڈوں اور پتھروں سے مسلح کچھ کسانوں نے پولیس کی رکھی گئی رکاوٹوں کو نیچے ندی میں پھینک دیا جس پر پولیس کی جانب سے ان پر واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا جس سے مظاہرین مزید مشتعل ہوگئے۔