یو اے ای و بحرین، چین کی کورونا ویکسین کو منظور کرنے والے پہلے ممالک

اپ ڈیٹ 15 دسمبر 2020

ای میل

ابوظبی میں 12 دسمبر سے ویکسین کا عام استعمال شروع کردیا گیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
ابوظبی میں 12 دسمبر سے ویکسین کا عام استعمال شروع کردیا گیا—فائل فوٹو: اے ایف پی

یورپی ملک برطانیہ جہاں امریکی میڈیسن کمپنی فائزر و جرمنی کمپنی بائیو این ٹیک کی کورونا ویکسین کی منظوری دینے والا پہلا ملک بنا تھا۔

وہیں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) چین کی کورونا ویکسین کی منظوری دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا۔

ساتھ ہی عرب ملک بحرین نے بھی امریکی و جرمنی کمپنیوں کی کورونا ویکسین کے بجائے چینی کورونا ویکسین کے استعمال کی منظوری دے دی۔

طبی جریدے نیچر کے مطابق یو اے ای فوڈ اینڈ ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی نے 9 دسمبر کو چین کی کورونا ویکسین کے استعمال کی منظوری دی تھی۔

متحدہ عرب امارات کی منظوری کے بعد اس کے پڑوسی ملک بحرین نے بھی چین کی کورونا ویکسین کے استعمال کی اجازت دی تھی۔

دونوں ممالک نے اسلامی دنیا کے اہم ترین ملک سعودی عرب کے برعکس امریکی و جرمن کمپنیوں کی ویکسین کے بجائے چین کی ویکسین کی منظوری دی۔

بحرین نے بھی چین کی کورونا ویکسین کے استعمال کی منظوری دی—فائل فوٹو: اے پی
بحرین نے بھی چین کی کورونا ویکسین کے استعمال کی منظوری دی—فائل فوٹو: اے پی

جب کہ ایک اور عرب ملک کویت نے سعودی عرب کی طرح چین کے بجائے امریکی و جرمن کمپنیوں کی ویکسین کے استعمال کی اجازت دی۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے چین کی کورونا ویکسین کے استعمال کی اجازت دیے جانے کے بعد 12 دسمبر کو ویکسین کا عام استعمال شروع کیا گیا۔

متحدہ عرب امارات

خلیج ٹائمز کے مطابق یو اے ای میں سب سے پہلے ابو ظبی میں 12 دسمبر کو ویکسین کو عام افراد کو لگانا شروع کیا گیا اور ابتدائی طور پر نجی ہسپتال نے ویکسینیشن کے عمل کا آغاز کیا۔

ابوظبی کے حکام نے شہر کے 18 مختلف مقامات پر موجود سرکاری و نجی ہسپتالوں و طبی مراکز میں ویکسین لگانے کی سہولت فراہم کردی۔

ساتھ ہی حکام نے ویکسین لگانے کے لیے خصوصی ٹیم بھی بنائی ہے جو یومیہ 5 ہزار افراد کو ویکسین کے ٹیکے لگانے کے اہل ہے۔

ابو ظبی کی انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مذکورہ طبی مراکز، ہسپتالوں اور کورونا قرنطینہ سینٹرز کے باہر بنائے گئے اسٹیشنز پر ویکسین لگوانے جائیں یا پھر ویکسین لگوانے کے لیے آن لائن یا فون کے ذریعے رجسٹریشن کروائیں۔

یو اے ای کی طرح بحرین نے بھی امریکی و جرمن ویکسین کے بجائے چین کی ویکسین کی منظوری دی اور بتایا کہ جلد ان کے ہاں عام افراد کو ویکسین لگانے کا آغاز کردیا جائے گا۔

بحرین

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق بحرین نے چین کی کورونا ویکسین کے عام استعمال کی منظوری دے دی اور جلد ہی اس کا استعمال بھی شروع کردیا جائے گا۔

بحرین اور یو اے ای ان ممالک میں بھی شامل ہیں جہاں چین کی کورونا ویکسین کی آزمائش بھی ہوئی تھی اور دونوں ممالک نے رواں ماہ کے آغاز میں ویکسین کی کامیاب آزمائش کے نتائج بھی جاری کیے تھے۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے چین کی ویکسین کے جاری کیے گئے نتائج میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ویکسین کورونا سے 86 فیصد تک محفوظ رکھتی ہے۔

بحرین اور یو اے ای کی برعکس ان کے پڑوسی ملک کویت نے جرمن و امریکن کمپنیوں کی ویکسین کے استعمال کی منظوری دی۔

اردن

اردن نے بھی فائزر۔بائیو این ٹیک کورونا ویکسین کے ایمرجنسی استعمال کی منظوری دی ہے۔

اردن فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (جے ایف ڈی اے) نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ ویکسین کب تک ملک میں متعارف کرائی جائے گی۔

وزیر صحت نذیر عبیدت نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ یہ ویکسین مقامی شہریوں کے ساتھ غیر ملکی رہائشیوں کو مفت فراہم کی جائے گی۔

جے ایف ڈی اے کے حکام نے سرکاری خبررساں ادارے کو بتایا کہ ویکسین کی منظوری اورر تقسیم کے لیے تمام مراحل پر کام کرلیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک تحقیق پر بھی کام کیا جارہا ہے جس کے تحت 2 دیگر ویکسینز کے استعمال کی منظوری دی جائے گی۔

اردن میں اب تک 2 لاکھ 62 یزار سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ 3 ہزار 4 سو سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

کویت

کویت نے سعودی عرب کی طرح فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین کی منظوری دی—فائل فوٹو: اے ایف پی
کویت نے سعودی عرب کی طرح فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین کی منظوری دی—فائل فوٹو: اے ایف پی

عرب اخبار خلیج ٹائمز کے مطابق کویت کی حکومت نے 13 دسمبر کو فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین کی منظوری دی۔

کویت نے اس وقت کورونا ویکسین کی منظوری دی جب تین دن قبل ہی سعودی عرب نے فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین کی منظوری دی تھی۔

گلف نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کویت حکومت کے مطابق دسمبر کے آخر تک انہیں فائزر و بائیو این ٹیک ویکسین کے ڈوز مل جائیں گے اور حکومت نے یومیہ 10 ہزار افراد کو ویکسین لگانے کے انتظامات مکمل کر رکھے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ دسمبر کے اختتام سے قبل سعودی عرب کو بھی فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین کے ڈوز مل جائیں گے اور وہاں بھی جلد عام افراد کو ویکسین لگائے جانے کا آغاز ہوگا۔

عرب ممالک سے قبل برطانیہ میں رواں ماہ 8 دسمبر کو فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین عام افراد کو لگانے کا آغاز ہوا تھا۔

برطانیہ میں ویکسین کے عام استعمال کے ایک دن بعد ہی کینیڈا نے مذکورہ ویکسین کے استعمال کی منظوری دی تھی۔

جس کے بعد سعودی عرب اور پھر امریکا نے بھی فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین کے استعمال کی منظوری دی تھی۔

علاوہ ازیں سنگاپور نے بھی 14 دسمبر کو فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین کے استعمال کی منظوری دی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جن دو ویکسینز کے استعمال کی منظوری دنیا کے مختلف ممالک میں دی گئی ہے، ان ویکسینز کی تیاری کرنے والی کمپنیوں کے ممالک یعنی جرمنی اور چین نے تاحال ویکسینز کے استعمال کی منظوری نہیں دی۔

چین کی کمپنی کی جانب سے بنائی گئی ویکسین کے استعمال کی منظوری متحدہ عرب امارات اور بحرین نے تو دے دی ہے مگر تاحال چین نے اس کے استعمال کی منظوری نہیں دی۔

اسی طرح امریکا و جرمن کمپنیوں کی جانب سے تیار کردہ ویکسین کی منظوری اگرچہ امریکا نے دے دی ہے، تاہم تاحال جرمنی نے ویکسین کے استعمال کی منظوری نہیں دی۔

دنیا بھر میں 15 دسمبر کی صبح تک امریکا، برطانیہ، کینیڈا و سنگاپور سمیت 10 ممالک نے دو طرح کی کورونا ویکسین کے استعمال کی منظوری دی تھی۔

باقی ممالک میں عرب ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، کویت و بحرین شامل ہیں اور صرف دو ہی ممالک یو اے ای و بحرین نے چین کی کورونا ویکسین جب کہ باقی تمام ممالک نے امریکن و جرمنی کمپنی کی کورونا ویکسین کے استعمال کی منظوری دے رکھی ہے۔

اب تک 9 ممالک کی جانب سے 2 طرح کی ویکسین کے استعمال کی منظوری دی جا چکی ہے—فائل فوٹو: رائٹرز
اب تک 9 ممالک کی جانب سے 2 طرح کی ویکسین کے استعمال کی منظوری دی جا چکی ہے—فائل فوٹو: رائٹرز