علی ظفر کے خلاف مہم چلانے کا کیس: تحقیقات میں میشا شفیع مجرم قرار

اپ ڈیٹ 16 دسمبر 2020
ماضی میں دونوں ایک ساتھ کام بھی کر چکے ہیں—فائل فوٹو: انسٹاگرام
ماضی میں دونوں ایک ساتھ کام بھی کر چکے ہیں—فائل فوٹو: انسٹاگرام

لاہور: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے گلوکار علی ظفر کو سوشل میڈیا پر بدنام کرنے کے کیس میں گلوکارہ میشا شفیع سمیت دیگر 8 افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ سے تمام افراد کے خلاف کارروائی کی درخواست کردی۔

ڈان خبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے 15 دسمبر کو لاہور سینٹرل کی خصوصی عدالت میں علی ظفر کی جانب سے دائر کردہ کیس میں عبوری چالان پیش کیا۔

عبوری چالان میں بتایا گیا کہ ایف آئی اے کی تفتیش و کیس کے زبانی اور دستاویزی شواہد کے مطابق میرا شفیع المعروف میشا شفیع، اداکارہ عفت عمر، ماہم جاوید، لینا غنی، حسیمس زمان، فریحہ ایوب، سید فیضان رضا، حمنہ رضا اور علی گل پیر مجرم قرار پائے۔

عبوری چالان کہا گیا کہ تاہم شکایت کنندہ نے حمنہ رضا نامی خاتون کی معافی قبول کرلی اور ان کے خلاف مزید کارروائی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ایف آئی اے کی جانب سے عبوری چالان میں کہا گیا کہ میشا شفیع نے 9 اپریل 2018 کو علی ظفر کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات سوشل میڈیا پر لگائے تاہم وہ ان سے متعلق شواہد پیش کرنے میں ناکام رہیں۔

یہ بھی پڑھیں: علی ظفر کو بدنام کرنے والے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب

عبوری چالان میں بتایا گیا کہ دیگر ملزمان بھی اپنے دعوؤں سے متعلق شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے، جس بنیاد پر رواں برس ستمبر میں عدالتی حکم پر تمام افراد کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کے سیکشن (1) 20 کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔

عبوری چالان میں عدالت سے میشا شفیع سمیت دیگر ملزمان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔

علی ظفر نے نومبر 2018 میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کروائی تھی جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان کے خلاف 'توہین آمیز اور دھمکی آمیز مواد' پوسٹ کررہے ہیں۔

میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا ایک کیس بھی زیر سماعت ہے—فائل فوٹو: انسٹاگرام
میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا ایک کیس بھی زیر سماعت ہے—فائل فوٹو: انسٹاگرام

انہوں نے اپنے دعوے کی حمایت میں ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی فراہم کی تھیں۔

اداکار و گلوکار نے ایف آئی اے کو انسٹاگرام پر اپنے منیجر کو فروری 2018 میں ملنے والی دھمکیوں کے ثبوت بھی فراہم کیے تھے۔

علی ظفر نے الزام لگایا تھا کہ اپریل 2018 میں میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزام سے ہفتوں قبل کئی جعلی اکاؤنٹس نے گلوکار کے خلاف مذموم مہم کا آغاز کیا تھا۔

مزید پڑھیں: علی ظفر کی شکایت پر میشا شفیع، عفت عمر سمیت 9 افراد کے خلاف مقدمہ درج

انہوں نے دستاویزی 'شواہد' کے ساتھ ایف آئی اے کو بتایا تھا کہ' نیہا سہگل ([email protected]) کے نام سے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ نے ایک سال میں مجھ سمیت میرے اہل خانہ کے خلاف 3 ہزار توہین آمیز ٹوئٹس کیے جبکہ یہ اکاؤنٹ میشا شفیع کے جنسی ہراسانی کے الزامات سے 50 روز قبل بنایا گیا تھا'۔

ایف آئی اے کے مطابق میشا شفیع اپنے وکلا کے ساتھ دسمبر 2019 میں ایف آئی میں پیش ہوئی تھیں تاہم وہ اپنے دعوؤں کے حوالے سے مکمل شواہد فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی تھیں۔

ایف آئی اے کی جانب سے عدالتی حکم پر رواں برس ستمبر میں مقدمہ دائر کیے جانے کے بعد اداکارہ عفت عمر، فریحہ ایوب، سید فیضان رضا، حزیم الزمان خان اور علی گل پیر نے عبوری ضمانت بھی حاصل کی تھی۔

مذکورہ کیس کے علاوہ علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف دائر کیے گئے ایک ارب روپے کے ہتک عزت کا کیس بھی لاہور کی سیشن کورٹ میں زیر سماعت ہے، جس کی اگلی سماعت 21 دسمبر کو ہونی ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں