نیپال: 7 وزرا کے استعفے کے بعد پارلیمنٹ تحلیل، اگلے سال انتخابات کا اعلان

20 دسمبر 2020
وزیراعظم کے پی شرما اولی نے پارٹی کے اندر اختلافات پر استعفیٰ دے دیا—فائل/فوٹو:رائٹرز
وزیراعظم کے پی شرما اولی نے پارٹی کے اندر اختلافات پر استعفیٰ دے دیا—فائل/فوٹو:رائٹرز

نیپال میں کورونا وائرس کے دوران شروع ہونے والی سیاسی کشیدگی شدت اختیار کرگئی جہاں 7 وزرا کے مستعفی ہونے کے بعد وزیراعظم کے پی شرما اولی کی کابینہ کی درخواست پر صدر بھدیا دیوی بھنداری نے پارلیمنٹ تحلیل کر دی۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق 1990 میں کثیرالجماعتی جمہوری نظام کی بحالی کے بعد سیاسی کشیدگی عروج کو پہنچی ہے۔

وزیراعظم کے پی شرما اولی کی کابینہ کے 7 وزرا نے 2017 کے انتخابی منشور کے خلاف فیصلے کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا جبکہ مظاہرین نے دارالحکومت کٹھمنڈو کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا۔

مزید پڑھیں: بھارت مجھے اقتدار سے ہٹانے کی سازش کررہا ہے، نیپالی وزیراعظم

صدر بھدیا دیو بھنداری کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم شرما اولی کی کابینہ نے ہنگامی اجلاس میں اگلے انتخابات کے لیے 30 اپریل سے 10 مئی کے درمیان تاریخ دینے کی تجویز دی ہے۔

نیپال کے 68 سالہ وزیراعظم کو ان کی اپنی جماعت نیپال کمیونسٹ پارٹی (این سی پی) کی جانب سے مختلف فیصلوں اور تعیناتیوں پر مشاورت نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

انہوں نے گزشتہ انتخابات میں سابق ماؤ نواز باغیوں کے ساتھ اتحاد کیا تھا اور ملک گیرکامیابی حاصل کی تھی۔

این سی پی کی سینٹرل کمیٹی کے رکن بشنو رجال کا کہنا تھا کہ 'وزیراعظم پارلیمانی پارٹی، سینٹرل کمیٹی اور پارٹی کے سیکریٹریٹ میں اکثریت کھو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وزیراعظم نے پارٹی کے اندر مشاورت کے بجائے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا راستہ چن لیا'۔

حکمران جماعت کے رکن اسمبلی پمپھا بھوسل کا کہنا تھا کہ شرما اولی کی جانب سے یہ فیصلہ ان کی پارٹی کے متعدد اراکین کی جانب سے عدم اعتماد کا ووٹ رجسٹر کرنے پر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: نیپال کی پارلیمنٹ نے بھارت سے تنازع کے باوجود نئے نقشے کی منظوری دے دی

نیپال کے ایوان زیریں میں اراکین کی تعداد 275 ہے جبکہ چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے اثرات سے سیاسی ماحول میں اختلافات پیدا ہوتے رہے ہیں۔

رواں برس جون میں وزیراعظم کے پی شرما اولی نے بھارت پر الزام عائد کٓیا تھا کہ انہیں ہٹانے کے لیے سیاسی حریف کے ساتھ مل کر سازش کی جارہی ہے۔

کے پی شرما اولی نے ایک سرکاری تقریب کے دوران کہا تھا کہ 'مجھے اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوں گے'۔

وزیراعظم شرما اولی کے ساتھی راجن بھٹارائی نے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے فیصلے پر کہا کہ وزیراعظم نے ان کی پارٹی میں اختلافات کے باعث یہ فیصلہ کیا کیونکہ انہیں پارٹی صدارت سے مستعفی ہونے کے لیے بھی کہا گیا تھا۔

نیپال کے سیاسی رہنماؤں اور سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت کو قبل از وقت انتخابات کے بجائے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ملکی معاملات چلانے چاہیئں کیونکہ ملک کی معیشت وبا کی وجہ سےمتاثر ہوچکی ہے۔

ماہر آئینی امور بپن ادھیکاریکا کہنا تھا کہ نیپال کے 2015 کی میثاق وزیر اعظم کو متبادل تجویزکیے بغیر پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا حق نہیں دیتی۔

مزید پڑھیں: بھارت کالاپانی سے اپنی فوج واپس بلائے، نیپالی وزیراعظم

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ معاملہ غیر آئینی ہے اور اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا تھا جہاں اس کے آئینی ہونے کا فیصلہ ہونےمیں چند ہفتے لگ سکتے ہیں'۔

یاد رہے کہ شرما اولی نے 2017 میں کامیابی کے بعد اعلان کیا تھا کہ ملک میں سیاسی استحکام، کرپشن کے خلاف جنگ اور غربت کے خاتمے کویقینی بنائیں گے لیکن واضح پیش رفت نہیں ہوئی۔

نیپال میں 3 کروڑ کی آبادی ہے اور کورونا وائرس کے باعث اب تک 2 لاکھ 53 ہزار 772 افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ایک ہزار 788 متاثرین ہلاک ہوئے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں