15 سے 20 دن بند رہنے کے بعد ٹاپ ٹیم کو شکست نہیں دی جاسکتی، مصباح الحق

اپ ڈیٹ 12 جنوری 2021

ای میل

مصباح الحق نے کہا کہ ٹیم میں مثبت چیزیں ہیں—فوٹو: پی سی بی
مصباح الحق نے کہا کہ ٹیم میں مثبت چیزیں ہیں—فوٹو: پی سی بی

قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے دورہ نیوزی لینڈ میں ٹیم کی شکست پر دباؤ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ببل اور آئسولیشن سے کھلاڑیوں کی کارکردگی میں اثر پڑ رہا ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے دورہ نیوزی لینڈ سے واپسی کے بعد لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دورہ نیوزی لینڈ کے حوالے سے پہلے بھی بات کی ہے اور ابھی یہاں بہانے تراشنے نہیں کیونکہ ہم سیریز ہار چکے ہیں، جو کارکردگی ہوئی اس پر ساری ٹیم اور مجھے افسردگی ہے۔

مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ سے شکست کی ذمہ داری تسلیم کرتا ہوں، محمد رضوان

ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان کے لیے اتنا سب حاصل کرتے ہیں اور ٹیسٹ میں کھیلتے ہوئے پہلی پوزیشن پر پہنچ جاتے ہیں اور پھر اس طرح کی کارکردگی ہوتی ہے تو ہمارے لیے یہ کوئی خوشی کی بات نہیں ہے بلکہ مایوسی کی بات ہے لیکن کرکٹ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کوچنگ ٹیم اور کھلاڑیوں نے تربیت اور تیاری کے لیے محنت اور 100 فیصد کوشش کی لیکن کرکٹ میں بعض اوقات جتنی بھی کوشش کرتے ہیں اس کے مطابق نہیں ہوتا اور قسمت کا عمل دخل بھی ہوتا ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ کافی ساری چیزیں ہیں جس کی وجہ سے ہمیں شکست ہوئی ہے جبکہ نیوزی لینڈ کی موجودہ ٹیم ایک مضبوط ٹیم ہے اور پھر گزشتہ ڈھائی برسوں سے ہوم گراؤنڈ میں ان کا زبردست ریکارڈ ہے اور انہوں نے اچھی کرکٹ کھیلی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم شاید اس طرح کی کرکٹ نہیں کھیل پائے اور اپنی صلاحیت کے مطابق نہ کھیل سکے اور اس وجہ سے بھی ہمارے رزلٹ میں فرق پڑا۔

انہوں نے کہا کہ ایک ڈیڑھ سال پہلے اور اس وقت کی کرکٹ میں بڑا فرق ہے اور جب ہم نیوزی لینڈ پہنچے تو کووڈ کے حالات تھے اور آئسولیشن میں وقت گزارنا پڑا حالانکہ پہنچنے کے تیسرے دن پریکٹس شروع کرنی تھی لیکن تقریباً 19 دن ہم لوگ کمروں میں رہے اور یہاں تک کہ رننگ بھی نہیں کر سکے۔

'بابر اعظم کی عدم دستیابی سے بڑا نقصان ہوا'

ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کی ٹیموں خصوصاً دورہ کرنے والی ٹیموں کی کارکردگی میں اتار چڑھاؤ آرہا ہے اور انجریز کا مسئلہ چل رہا ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس سے کیسے باہر نکل سکتے ہیں اس پر سوچنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سے میدان میں غلطیاں ہوئیں، کیچز چھوڑے، بیٹنگ اور باؤلنگ اس طرح نہیں ہوئی لیکن ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم یہاں سے روانہ ہوئے تو ایک کھلاڑی کووڈ کی وجہ سے نہیں جا سکا کیونکہ فخر زمان نے ڈومیسٹک اچھی کارکردگی دکھائی تھی اور وہ ہماری فرسٹ چوائس تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو اننگز اور 176رنز سے شکست، نیوزی لینڈ کا سیریز میں کلین سوئپ

ان کا کہنا تھا کہ وہاں جا کر بھی انجریز کی وجہ سے متاثر ہوئے اور سب سے بڑا مسئلہ بابر اعظم کی وجہ سے ہوا، ٹی ٹوئنٹی کے نمبر ون کھلاڑی کی غیر موجودگی ہمارے لیے بڑی کمی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی سب سے مستند کھلاڑی ہیں، جس طرح گزشتہ برس انہوں نے آسٹریلیا، انگلینڈ اور یہاں پر جو کرکٹ کھیلی اور رنز بنائے تھے، ان کا نہ ہونا ہمارے لیے بڑا نقصان تھا۔

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے ایسا ہی تھا کہ جیسے نیوزی لینڈ کی ٹیم کین ولیم سن کے بغیر کھیل رہی ہوتی کیونکہ دونوں ٹیسٹ میں جس طرح انہوں نے کارکردگی دکھائی وہی کردار ہماری ٹیم میں بابر اعظم کا تھا تو ہمیں میدان اور ذہنی طور پر اس کا دباؤ تھا۔

'ٹیم نے اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی'

ان کا کہنا تھا کہ ان ساری چیزوں کے باوجود میں ضرور کہوں گا کہ پاکستانی ٹیم نے اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ مخالف ٹیم تینوں شعبوں میں ہم سے بہتر تھی اور پچھلے دو، ڈھائی سال سے انہوں نے اس کو ثابت کردیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اپنی ٹیم کی کوششوں کے حوالے سے مجھے کوئی شک نہیں ہے کہ ہم نے کہیں کوشش میں کوئی کمی چھوڑی لیکن ہمیں ایک اچھی ٹیم سے بہتر کرکٹ کھیل کر شکست ہوئی ہے۔

ٹیم کی بہتری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کئی چیزیں ہیں جس کو ہمیں بہتر کرنا اور اس کا حل نکالنا ہے، کووڈ کسی نہ کسی طرح کھلاڑیوں کی کارکردگی پر اثر انداز ہو رہا ہے اور فٹنس اور انجریز کے مسائل سامنے آرہے ہیں۔

کھلاڑیوں کی مشکلات بیان کرتے ہوئے کوچ کا کہنا تھا کہ ببل گیم کھلاڑیوں کو دماغی اور جسمانی طور پر بہت متاثر کر رہی ہے لیکن یہ حقیقت ہے جس کا سامنا پوری دنیا کو ہے۔

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ یہ ساری باتیں کرنے کا مقصد بہانے تلاش کرنا نہیں ہے بلکہ ہمیں اس کا حل نکالنا ہے کیونکہ ایک ببل سے نکل کر دوسرے ببل اور پھر آئسولیشن سے ہم بھی بہت پریشان ہیں اور پھر ہمیں کرکٹ کا معیار بھی برقرار رکھنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ساری چیزیں ایک پیکیج کے طور پر اثر انداز ہوتی ہیں اور ہماری کارکردگی بھی متاثر ہوئی۔

مزید پڑھیں: جنوبی افریقہ سے ہوم سیریز کی کارکردگی پر مصباح کے مستقبل کا انحصار

عہدے سے ہٹانے کی افواہوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کمیٹی کا اجلاس معمول کی بات ہے اور پہلے گورننگ بورڈ کے سامنے بھی اپنی کارکردگی کے حوالے سے پریزنٹیشن دی ہے اور کرکٹ کمیٹی میں ساری چیزیں رکھیں گے اور کرکٹ کو سمجھنے والے ان باتوں کو سمجھ پائیں گے۔

مصباح الحق نے کہا کہ کمیٹی، بورڈ کو جو بھی تجاویز دے گی وہ ان پر ہے کیونکہ مسائل یہی کچھ ہیں۔

'ہمیں غیر یقینی نہیں بلکہ تسلسل کی ضرورت ہے'

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ایک اسکروٹنی ہے اور دوسرا جائزہ ہے اور ہر دورے کا بورڈ کو جائزہ لینا چاہیے اور اس پر برا نہیں منانا چاہیے اور واقعی جو مسائل ہیں ان سے بہتر انداز میں نمٹنے کی ضرورت ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ ہمیں غیر یقینی نہیں بلکہ تسلسل کی ضرورت ہے کیونکہ چیزیں وقت لیتی ہیں اور کسی چیز کو ثابت کرنے کے لیے زیادہ متشدد نہیں ہوسکتے ہیں، ٹیم اور کھلاڑیوں کو وقت دینا ہے اور جو نتائج ہم چاہتے ہیں اس کے ملنے میں وقت لگے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ہمارے حق میں نتائج بھی آئیں گے، زیادہ زور دیں گے تو اس سے پاکستان کی کرکٹ کو فائدہ نہیں ہوگا۔

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے کہا کہ جس پوسٹ پر میں ہوں اس پر دباؤ تو ہوتا ہے چاہے ٹیم ہو یا پھر وقاریونس ہو دباؤ ہمیشہ رہتا ہے اور ہم اس کارکردگی پر پریشان ہیں اور یہ کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے اور ہمیں کوچنگ ٹیم کی حیثیت سے بہتر کرنے کی ضرورت ہے جس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ دورے میں مثبت چیزیں بہت ہیں، فواد عالم اور فہیم اشرف نے رنز کیے ہیں، محمد رضوان اور اظہر علی نے مشکل وکٹ پر رنز بنائے۔

مصباح الحق نے کہا کہ کوئی بھی کھلاڑی ایسا نہیں ہے جو یہ کہے کہ 15 سے 20 دن مجھے کمرے میں بند کرو اور اس کے بعد ایک ہفتے کی تیاری کے ساتھ ٹاپ ٹیم کو شکست دوں گا۔

'عامر کو ڈراپ کرنے سے وقار کا کوئی لینا دینا نہیں تھا'

محمد عامر کے بیان پر انہوں نے کہا کہ میں نے ٹیم چاہے سینئر ہو یا جونیئر تمام کھلاڑیوں کا ہمیشہ احترام کیا ہے اور محمد عامر کی اپنی رائے ہے، 2016 میں جب میں کپتان تھا تو محمد عامر واپس آئے اور ہر چیز کو ایک طرف کرکے اس کو خوش آمدید کہا اور اس کو سپورٹ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب کوچ کی حیثیت سے آیا تو بھی ان سے تعاون کیا اور انگلینڈ کے دورے سے قبل مجھے یاد ہے ان کا ایک ذاتی مسئلہ تھا اور وہ نہیں آسکتے تھے لیکن انہیں تیار کیا جب وہ اپنے مسئلے سے باہر آئے تو مجھے پیغام بھیجا پھر میں نے اور وقار یونس نے بلایا وہاں جا کر انجری بھی ہوتی ہے اور فارم بھی ایسی تھی۔

انہوں نے کہا کہ انگلینڈ میں عامر کے ساتھ میں نے اور وقار یونس نے بات کی تھی اور بتایا تھا کہ آپ ہمارے اسٹرائیک باؤلر ہیں اور ٹی ٹوئنٹی کے 4 اوورز میں ہمیں توقع ہوتی ہے آپ بہترین دیں، اگر 88 اور 87 کی پیس کے بجائے 81 اور 82 پر باؤلنگ کریں گے تو ہماری ٹیم کی کارکردگی کے لیے بڑا مشکل ہوگا۔

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ جس طرح شاہین آفریدی، حسنین اور حارث رؤف کارکردگی دکھا رہے ہیں اس سے مقابلہ بڑھ گیا ہے اور یہ نہیں ہوسکتا کہ ان کی کارکردگی کے باوجود سینئر کو ترجیح دیں اور ان سے کارکردگی بھی نہ ہو۔

عامر کے حوالے واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ صرف کارکردگی کے حوالے سے تھا جب تک اس ٹیم کا اعلان ہوا تو عامر کی فارم ویسی ہی تھی اور اس میں ذاتیات کی کوئی بات نہیں ہے۔

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ وقار یونس کے بارے میں اتنی باتیں ہوئیں لیکن وقار یونس کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا کیونکہ 6 کوچ، سلیکشن کمیٹی پھر کپتان کے ہوتے ہوئے ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک آدمی کسی پر فیصلہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کو ایسا رنگ دینا اور عامر نے ایسا کیوں کیا میری سمجھ سے باہر ہے، عامر کےساتھ ہمارا رویہ کبھی ایسا نہیں تھا اور وہ فارم بحال کرتے اور ٹیم میں واپس آجاتے۔

ہیڈ کوچ نے کہا کہ مجھے عامر سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ابھی واپس آنا چاہے تو میرے دل میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ عامر نے یہ کچھ کہا کہ بلکہ وہ بہترین فارم ثابت کریں۔