’عورتوں کو ’عزت‘ راس نہ آئے تو یہی انجام ہوتا ہے‘

اپ ڈیٹ 13 جنوری 2021

گلی کے نکڑ پر کوڑے کے ڈھیر پر صبح سویرے اس پاگل عورت کی لاش ملی تھی جو کئی روز سے گلیوں میں ’میرا بچہ، میرا بچہ’ کا شور مچاتی پھرتی تھی۔ جہاں کوئی کتے بلی کا بچہ، کوئی کوڑے کے ڈھیر پر کسی بچے کا پھٹا جوڑا یا ٹوٹا جوتا، کوئی دودھ کا خالی ڈبہ نظر آتا وہیں گر جاتی اور اسی کوڑے سے لپٹ جاتی۔ یہ پاگل عورت ایک شریف اور عزت دار گھر میں پیدا ہوئی تھی مگر شرافت راس نہ آئے تو یہی حال ہوتا ہے۔

یہ عورت دنیا کے شریف بھلے مانس مردوں پر ایک عذاب بن کر نازل ہوئی تھی۔ نوزائیدہ بچی کی صورت اس نے پہلی چیخ ماری تو ایک دوسری عورت نے ماں کی صورت ماتھے پر کئی بل ڈالے سوچا ‘ایک اور مصیبت’ اور باپ کے جھکے کاندھے پر آس پاس کے تمیز دار مہذب لوگوں نے ہاتھ رکھ کر دلاسہ نما تسلی دی کہ ’غم نہ کر، بیٹیاں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں!’۔

آنے والے دنوں میں یہ وجود کئی کئی خطروں میں ڈھل کر شریف باپ اور تابعدار ماں کو ڈراتا رہا۔ ایک اور ذمہ داری، ایک اور جہیز، ایک اور عزت کو خطرہ، ایک اور کاندھے پر بوجھ! ماں باپ کا ڈر اندر کی آواز ہی تو ہوتا ہے جو ہر وقت کھٹکتا ہے کہ اس راہ پر انجام یہی نکلے گا۔

مزید پڑھیے: افسانہ : پندرہویں سواری

سو انجام سے ڈرتے کئی طرح کے طریقے اپنائے جاتے۔

کتنے سال گھر کے شریف مرد اور تابعدار عورتوں نے اس عورت کو قبر کے کفن تک نیک اور باکردار رکھنے کے لیے کتنے عہد کیے۔ لڑکی کی صورت اسے دنیا کے ہر لڑکے سے پرے، عورت کی صورت اسے ہر مرد سے کئی دیواروں کے فاصلے پر، گھر کے آخری کونے میں، دوسری عورتوں کے جھرمٹ میں رکھنے کی قسمیں کھائی ہوں گی، مگر ساری قسمیں بلآخر الٹی پڑ گئی تھیں۔

اسکول ایسا ڈھونڈا گیا جس میں کوئی لڑکا پَر نہ مار سکے، سوائے چوکیداروں، نوکروں اور ٹھیکیداروں کے۔ ان کو ہم مرد نہیں سمجھتے۔ مرد وہ ہوتے ہیں جو آپ کی شریف بیٹی کو شادی کے لیے پسند کرسکتے ہیں، اس کی بھولی صورت پر دل ہار کر آپ کے سامنے ہاتھ دراز کرسکتے ہیں۔ یہ دو ٹکے کے نوکر لوگ تو صرف غلیظ نظروں سے گھور سکتے ہیں یا ریپ کرسکتے ہیں۔

بڑھتی عمر میں لڑکی نے قد آور بھرے جسم کے ساتھ آنکھوں میں خواب بھر کر شریف النفس باپ اور بھائی کی شرافت کو کیسے کیسے کچوکے لگائے۔ کبھی اچھی تعلیم کا سوچا، کبھی محبت کرتے شہزادے کا خواب دیکھا۔ لڑکیاں پالنا ایک عذاب ہے۔ باپوں اور بھائیوں کو ذلیل کرنے کا طریقہ ہے۔ باپ اور بھائی نکیل نہ ڈالیں تو کیا کریں، ڈنڈے کے زور پر پاؤں کے نیچے روند کر نہ رکھیں تو گزارا نہیں۔ اسے بھی محفوظ رکھنے کا، پاکباز اور باکردار رکھنے کا تمام تر ٹھیکہ والد صاحب کا تھا ورنہ لڑکی ذات کا کیا بھروسہ کب عزت کو باٹ لگا کر نکل لے۔

پھر بھی باپ اور بھائی بڑے بہادر اور ظرف والے نکلے۔ حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر دنیا کے تمام تر احسانوں کی مٹی پلید کرتے باپ نے کالج بھیجا تھا تاکہ پڑھی لکھی بیٹی کا اور سمجھدار والدین کا تاج سر پر سجا سکیں۔ ہاں مگر یہ نہیں جانتے تھے کہ بیٹیاں پڑھانا ہی سارا امتحان نہیں ہوتا، امتحان تو پڑھی لکھی بیٹی کو سہنا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے: افسانہ: نیند، خوف اور سابقہ بازی گر

جب حق میں اور فرض میں فرق دکھنے لگے، سچ اور جھوٹ دور ہوجائیں تو بیٹیاں پڑھانے کا ظرف تب ہی کھلتا ہے۔ بیٹی کی کاپیوں میں لکھے شعر پڑھنے کا حوصلہ نہ ہو، آنکھوں کے ستارے سہے نہ جا سکیں، جب ان کے دل کی دھڑکنیں اعصاب سے بھاری ہوجائیں تو سمجھ آتی ہے کہ زمانہ قدیم کے اعلی شان لوگ بیٹیوں کو زندہ دفن کیوں کردیتے تھے۔ دو بیٹیاں پال کر جنت سب کو چاہیے مگر ان کو پالنے کا حوصلہ اتنا ہی آسان ہوتا تو جنت کا وعدہ کیوں ہوتا؟

پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ اسکول کالج جاتے، پڑھتے پڑھاتے اس کے بھی دل کو کوئی بھا گیا۔ ہزار مردوں سے چھپاتے رہو عزت پر نظر ڈالنے والا کسی نہ کسی پردے کی اوڑھ سے نکل ہی آتا ہے۔ بددماغ لوگوں میں کوئی احترام سے بات کرتا ہوگا، گندی نظروں سے گھورنے والوں میں کوئی اس کے لیے کھڑا ہوکر کرسی خالی کرتا ہوگا، گھر میں باپ بھائی جیسے ہر وقت چیختے چنگھاڑتے، مارتے لوگوں کے برعکس کوئی دنیا کی خوبصورت باتیں خوبصورت لہجوں میں کہتا ہوگا جو اس کا دل بھی بھٹک گیا۔ کیوں نہیں بھٹکتا؟ کیا خوبصورت نظروں پر، لفظوں اور الفاظوں پر بیٹی کا کوئی حق نہیں تھا؟ ماں کے جوتے کھاتے، باپ اور بھائی کے تھپڑ سہتے، کوئی میٹھا چہرہ اسے بھی چاہیے تھا جس کے کندھے پر سر رکھ کر رو سکتی، تو آس پاس کے بازار سے اک ایسا چہرہ ڈھونڈ لیا تھا۔ ایسا وجود جو ہر نفرت سہتے اسے کہے کہ ‘میں تمہیں اس دنیا سے، ایسی نفرتوں سے اور آگ جیسے رشتوں سے دُور لے جاؤں گا’۔

بیٹیوں کی عزت کی نگہبانی کرنے والے اکثر ان سے پیار کرنا اور انہیں احترام دینا بھول جاتے ہیں۔ پھر وہ عزت اور محبت ان کو باہر نکل کر بازار میں سجے جھوٹے سچے چہروں میں ڈھونڈنی پڑتی ہے۔ ایسے ہی محبت کی طلب میں وہ بھی خوشبو بیچنے والے کے ہاتھوں بک گئی تھی۔ مگر بات یہاں ختم کب ہوئی تھی۔

بیچ میں برادری اور مسلک معلق تھے، خاندان اور باہر کے جھگڑے تھے۔ بیٹی کے خوابوں سے بھی ڈرنے والے باپ اور بھائی اس کی رضا کا بوجھ اٹھانے سے قاصر تھے۔ دل ایک آرزو پر اڑا تھا جس کے مقابل سارا زمانہ کھڑا ہوگیا۔ جب کچھ نہ بن پایا تو ایک روز ایک مسجد جاکر مولوی کے سامنے دونوں نے قول و قرار کرلیا۔ اس کا بھی تو خدا تھا اور یہ فیصلہ اس کی زندگی کا تھا اور پگلی کو لگتا تھا کہ اسے ہی کرنا تھا۔

لڑکیوں سے غلطی یہیں پر ہوتی ہے، تھوڑا سا پڑھ لکھ کیا جائیں کاغذ پر لکھے حرفوں کو جادو سمجھ بیٹھتی ہیں۔ مذہب کے دیے حق کو مقدر ماننے لگتی ہیں یہ سمجھے بغیر کہ زمین پر ان کا آخری مذہب اور مقدر صرف گھر کے مردوں کے ہاتھ میں ہے۔ اسکول اور کالج کی کتابیں انہیں بھلا دیتی ہیں کہ وہ گھر کی چار دیواری میں بندھی مردوں کی بکریاں ہیں۔

خبر کھلی تو گھر والے عزت کے جنازے کی چاندنیوں پر بیٹھ گئے، ماں بین کرنے لگی، باپ سینہ پیٹنے لگا ’کاش اسے پیدا ہوتے ہی دفن کر دیتا’۔ سب کو سستی جنت چاہیے تھی لیکن کسی کو خبر نہ تھی کہ اتنی مہنگی قیمت نکلے گی۔ بھائی کلہاڑی اٹھائے لپکے، بھابیاں رسیاں سیدھی کرنے لگیں۔

مگر جاہل نہیں تھے، یہ عزت دار لوگ تھے، بیٹی کو قتل نہیں کرسکتے تھے، ہاں مگر گردن پر کلہاڑی رکھ کر طلاق کے کاغذ پر نام لکھوا کر اپنی ڈوبی عزت کو سنبھال سکتے تھے۔ وہ عزت جو ہمیشہ بیٹی کا لہو مانگتی یے۔ اگرچہ یہاں تو جاں بخشی بھی حاضر تھی، بس محض ایک کاغذ پر دستخط تھے، ایک تعلق تھا جسے کسی ورق کی طرح پھاڑ دینا تھا اور بس! ایک رضا تھی جو بدل دینی تھی اور تماشا ختم۔

مزید پڑھیے: افسانہ: اختتام

بدنصیبی چوکھٹ میں گھس چکی تھی جو اب بیٹی کے لہو سے بھی ٹلتی نہ تھی۔ اس سے پہلے کہ ایک ڈولی سے کھینچ کر باپ کی مرضی کی دوسری ڈولی میں دھکیلا جاتا، اس کے اندر ایک ٹوٹے رشتے کی زندہ جان پنپنے لگی تھی۔

یہ کیا ہوا؟ یہ تو وہ ہوا جس کا شمار کسی حساب کتاب میں نہ تھا۔ سارا ٹبر سر جوڑے بیٹھا۔ بات بگڑ چکی تھی۔ قریب و جوار کے لوگ ناپے گئے اور دُور کا رستہ پکڑا گیا۔ کسی دُور کے شہر، کسی دُور کی تحصیل میں جاکر ذچہ بچہ سینٹر کی دائی کے سامنے معاملہ رکھا گیا اور اس کے آدھ بنے، ادھ جیے بچے کی سانسیں نوچ کر کوڑے کے ڈھیر پر پھنکوا دی گئیں۔

لال کپڑے پہنا کر دنیا کے سامنے ڈولی میں بٹھا کر اپنی عزت کی پگڑ پھر سے بلند کرنے کی کوشش کرنے والوں کی پگڑ پر آہ لگ چکی تھی۔ گھر لوٹتے لوٹتے، کپڑے پھاڑتی، چیخیں مارتی وہ میرا بچہ، میرا بچہ چلاتے گھر سے بھاگنے لگی۔ رسیوں سے باندھ باندھ عزت کو سنبھالنا پڑا۔ گلی کے کوڑے سے رنگ برنگی پٹیاں اٹھاتی اور کپڑے بناتی وہ ایک دن گھر سے بھاگی تو کوئی ڈھونڈنے نہ نکلا بلکہ راتوں رات عزت دار گھر چھوڑ کر کہیں دُور دیس نکل گئے۔

کچھ ہی روز میں پاگل عورت کی لاش سڑک کنارے کوڑے کے ڈھیر پر پڑی تھی۔ عورتوں کو عزت راس نہ آئے تو یہی انجام ہوتا ہے۔

تبصرے (3) بند ہیں

Zahra Yousaf Jan 13, 2021 08:57pm
مجھے آ پ کی تحریر یں بیت پسند ہیں۔
Tahira Feb 01, 2021 03:22pm
i am speechless on your views about women....
Wajahat Khan Mar 12, 2021 09:19pm
Reality and words are impressive :) i am amazed you have written is what everybody needs to understand !! Men needs to look after their women and they needs to realized them that they are for them every time meanwhile women have to understand that he is her guardian and everything !! Islam has given respect to women that no one can give till judgement day !!