پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کی بھاری قیمت چکائی، ترک وزیر خارجہ

اپ ڈیٹ 13 جنوری 2021

ای میل

انہوں نے کہا کہ فیتو جیسی دہشتگرد تنظیموں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے —فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر
انہوں نے کہا کہ فیتو جیسی دہشتگرد تنظیموں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے —فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

ترکی کے وزیر خارجہ نے میولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ پاکستان نے انسداد دہشت گردی کی جنگ میں غیر معمولی کامیابیوں کی بھاری قیمت چکائی ہے۔

اسلام آباد میں ترک سفارتخانے میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے مابین بھائی چارے پر مبنی مضبوط تعلقات قائم ہیں۔

مزیدپڑھیں: پاکستان اور ترکی کے درمیان 2 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط

واضح رہے کہ ترک وزیر خارجہ میولود چاوش اولو 3 روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تھے۔

ترک وزیر خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ہر مشکل میں ترکی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف لازوال قربانیاں دیں جبکہ انسداد دہشتگردی کی جنگ میں غیرمعمولی کامیابیوں کی بھاری قیمت چکائی۔

میولود چاوش اولو نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے دہشت گردی کے ناسور کو مکمل شکست دینا ناگزیر ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے فتح اللہ گولن کی دہشتگرد تنظیم (فیتو) کو انتہائی خطرناک قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاکستان کی ترکی سے سرحد نہیں، دل اور دماغ ملتے ہیں‘

ترک وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے خبردار کیا کہ پاکستان کو فیتو سے انتہائی محتاط رہنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ فیتو جیسی دہشتگرد تنظیموں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ استنبول انسداد دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے پاکستان میں مشہور ہونے والے ارطغرل غازی ڈرامے سے متعلق کہا کہ ارطغرل صرف ڈراما نہیں بلکہ پوری تاریخ ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ہمیں خصوصاً نوجوانوں کو اپنی تاریخ سے شناسائی حاصل کرا کے آگے بڑھنا ہو گا۔

خیال رہے کہ نومبر 2016 میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر امریکا میں خود ساختہ جلا وطنی کاٹنے والے مبلغ فتح اللہ گولن کے حوالے سے کہا تھا کہ ’ترکی کے اندر بغاوت کی کوششوں کےخلاف کارروائی کررہےہیں، گولن 120ملکوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھا ہوا ہے‘۔

مزید پڑھیں: پاکستان، ترکی، آذربائیجان کے درمیان کل سہ فریقی مذاکرات ہوں گے

انہوں نے کہا تھا کہ فیتو کو پاکستان کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، میں اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تعاون پر مشکور ہوں۔

یاد رہے کہ جولائی 2016 میں ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد وہاں کی حکومت نے اس کا ذمہ دار امریکا میں مقیم فتح اللہ گولن کو قرار دیا تھا اور ان کے تمام اداروں پر پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔