ڈوئل اسکرین والا لیپ ٹاپ خریدنا پسند کریں گے؟

14 جنوری 2021

ای میل

— فوٹو بشکریہ اوسوز
— فوٹو بشکریہ اوسوز

اوسوز نے اپنا نیا ڈوئل اسکرین لیپ ٹاپ زین بک ڈو پیش کردیا ہے۔

لاس ویگاس میں دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی نمائش سی ای ایس کے دوران کمپنیوں نے متعدد لیپ ٹاپس متعارف کرائے، مگر اوسوز کی ڈٰیوائسز ابھی سے صارفین کو دستیاب ہوں گی۔

سیکنڈ جنریشن زین بک ڈو کو ری ڈیزائن کرکے پہلے سے مختصر، ہلکا اور بہتر کارکردگی کا حامل بنایا گیا ہے۔

اس میں انویڈیا (nvidia) جی پی سی اور اینٹیل 11 جنریشن پراسیسر دیا گیا ہے۔

یہ لیپ ٹاپ 2 ورژنز میں دستیاب ہوگا، ایک پرو ڈو 15 او ایل ایل ڈٰ جبکہ دوسرا ڈو 14۔

پرو ڈو 15 او ایل ای ڈی میں 10 جنریشن انٹیل کور آئی 9 پراسیسر دیا گیا ہے جبکہ انویڈیا جی فورس آرٹی ایکس 3070 گرافکس اور 32 جی بی ریم دی گئی ہے۔

پرو ڈو 15 — فوٹو بشکریہ اوسوز
پرو ڈو 15 — فوٹو بشکریہ اوسوز

ڈو 14 میں انٹیل کا 11 جنریشن کور آئی 5 یا آئی 7 پراسیسر موجود ہوگا جبکہ آپشنل انویڈیا ایم ایکس 450 گرافکس اور 32 جی بی ریم دی جائے گی۔

مگر ان لیپ ٹاپس کی خاص بات ان کا ڈوئل ڈسپلے ہے۔

پرو ڈو میں 15.6 انچ کا او ایل ای ڈی ٹچ اسکرین ڈسپلے دیا گیا ہے، جس کے ساتھ 14 انچ کی یو ایچ ڈی ٹچ اسکرین نیچے موجود ہے۔

ڈو 14 میں مرکزی ٹچ اسکرین ڈسپلے 14 انچ کا ہے جس کے ساتھ 12.6 انچ کی ٹچ اسکرین دی گئی ہے۔

ڈو — فوٹو بشکریہ اوسوز
ڈو — فوٹو بشکریہ اوسوز

کمپنی کی جانب سے سیکنڈری ڈسپلے کے لیے نئی hinge ڈیزائن استعمال کیا گیا ہے جسے اسکرین پیڈ پلس کا نام دیا گیا، جس کو ڈو پرو 15 میں 9.5 اور ڈو 14 میں 7 ڈگری تک اٹھایا جاسکتا ہے۔

اس سے دونوں ڈسپلے مل کر زیادہ بڑے محسوس ہونے لگتے ہیں۔

ونڈوز آپریٹنگ سسٹم اسکرین پیڈ پلس کو سیکنڈ ڈسپلے کے طور پر شناخت کرتا ہے، تو صارف اس دوسری اسکرین کو کسی مختلف کام کے لیے آساننی سے استعمال کرسکتا ہے۔

تاہم کمپنی کی جانب سے بھی اسکرین پیڈ کے لیے متعدد فنکشنز دیئے گئے ہیں جو آن اسکرین ٹچ بار میں دستیاب ہوں گے۔

لیپ ٹاپ میں ایک نئی کنٹرول پینل ایپ کا اضافہ بھی کیا گیا ہے، جس میں ایک کسٹمائز ڈائل، ایک سلائیڈرز اور اڈوب کریٹیو کلاؤڈ ایپس کے بٹن موجود ہیں۔

پرو ڈو 15 او ایل ای ڈی اپریل میں مختلف ممالک میں دستیاب ہوگا جس کی قیمت کا فی الحال اعلان نہیں کیا گیا۔

ڈو 14 اس وقت پری آرڈر میں دستیاب ہے جس کی قیمت ایک ہزار ڈالرز (ایک لاکھ 60 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی ہے۔