دسمبر 2020 میں ٹیکسٹائل برآمدات تاریخی بلندی پر پہنچ گئیں

16 جنوری 2021

ای میل

ٹیکسٹائل کی برآمدات میں پہلی ششماہی میں اضافہ دیکھا گیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
ٹیکسٹائل کی برآمدات میں پہلی ششماہی میں اضافہ دیکھا گیا—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: سال 2020 کے آخری مہینے دسمبر میں ٹیکسٹائل کی برآمدات 22.72 فیصد تک بڑھ کر ایک ارب 40 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی تاریخی بلندی پر پہنچ گئیں جبکہ گزشتہ سال کے اسی مہینے میں یہ ایک ارب 14 کروڑ ڈالر رہی تھیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ادارہ شماریات کے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ماہانہ بنیادوں پر ملک کی برآمدات اس ماہ کے دوران 9.20 فیصد تک بڑھی۔

اعداد و شمار کے مطابق مجموعی بنیاد پر جولائی سے اگست کے دوران ٹیکسٹائل کی برآمدات گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 6 ارب 90 کروڑ40 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 7.79 فیصد بڑھ کر 7 ارب 44 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہی۔

ٹیکسٹائل کا سامان جس نے مثبت تجارتی نمو میں حصہ ڈالا اس میں نائٹ ویئر (بنا ہوا لباس) بھی شامل تھا جس کی برآمدات مالی سال 21 کی پہلی ششماہی میں ایک ارب 84 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں ایک ارب 58 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھی۔

مزید پڑھیں: وفاقی حکومت کا ٹیکسٹائل کے شعبے کیلئے 'جامع منصوبہ'

اسی طرح بیڈویئر برآمدات بھی 16.38 فیصد بڑھ کر ایک ارب 39 کروڑ 40 لاکھ ڈالر، تولیہ کی برآمدات 17.47 فیصد بڑھ کر 44 کروڑ 57 لاکھ 9 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی۔

مزید یہ کہ خیموں، کنوس اور ترپال کی برآمدات 57.77 فیصد بڑھ کر 6 کروڑ 24 لاکھ 77 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی، اس کے علاوہ تیار کپڑوں (ریڈی میڈ گارمنٹ) کی برآمدات 5.54 فیصد اضافے سے ایک ارب 49 کروڑ ڈالر رہی۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ آرٹ، سلک اور سنتھیٹک ٹیکسٹائل میں 0.17 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 16 کروڑ 75 لاکھ 2 ہزار ڈالر رہی جبکہ میڈ اپ آرٹیکل 17.46 فیصد اضافے سے 37 کروڑ 92 لاکھ 29 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی۔

علاوہ ازیں جن اشیا کی برآمدات میں منفی رجحان رہا ان میں خام کپاس بھی شامل ہے جو 96.14 فیصد کم ہوکر 5 لاکھ 92 ہزار ڈالر پر پہنچ گئی جبکہ کاٹن یارن میں 26.36 فیصد کمی ہوئی اور یہ 40 کروڑ 7 لاکھ 30 ہزار ڈالر تک آگئی۔

اس کے علاوہ کاٹن کلاتھ کی برآمدات بھی 7.73 فیصد کم ہوکر 93 کروڑ 50 لاکھ 9 ہزار ڈالر ہوگئی جبکہ یارن (کاٹن یارن کے سوا) میں 7.28 فیصد کمی ہوئی اور یہ ایک کروڑ 34 لالکھ 64 ہزار ڈالر ہوگئی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک کی مرچنڈائز برآمدات رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 4.98 فیصد تک بڑھ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری واقعی ترقی کر رہی ہے؟

ادارہ شماریات کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے دسمبر کے دوران ملک سے مجموعی برآمدات 12 ارب 11 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ 11 ارب 52 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھی۔

تاہم زیر جائزہ اسی عرصے کے دوران ملک میں ہونے والی درآمدات بھی گزشتہ سال کی پہلی ششماہی کی 23 ارب 19 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے 5.72 فیصد بڑھ 24 ارب 52 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔

ان اعداد و شمار کی نیاد پر ملک کا تجارتی خساہ پہلی ششماہی میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کی بنسبت 6.44 فیصد بڑھ گیا۔

رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 12 ارب 42 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 11 ارب 67 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تھا۔


یہ خبر 16 جنوری 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔