امریکا نے شیاؤمی کو بلیک لسٹ فہرست میں شامل کردیا

16 جنوری 2021

ای میل

— فوٹو بشکریہ شیاؤمی
— فوٹو بشکریہ شیاؤمی

اپنے عہدہ صدارت کے آخری ایام میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ ایک بڑی چینی ٹیکنالوجی کمپنی کے خلاف اقدام کیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دنیا کی بڑی اسمارٹ فونز کمپنیوں میں شامل شیاؤمی سمیت 8 چینی کمپنیوں کو 'کمیونسٹ چائنیز ملٹری کمپنیوں' کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔

ہواوے، زی ٹی ای، ٹک ٹاک اور وی چیٹ کے بعد اب ٹرمپ انتظامیہ نے شیاؤمی کو ہدف بنایا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کی اس فہرست میں شامل کمپنیوں کو بلیک لسٹ کردیا جاتا ہے، جس کے بعد امریکی شہریوں یا اداروں کو ان میں سرمایہ کاری سے روک دیا جاتا ہے۔

شیاؤمی اس وقت دنیا کی بڑی موبائل کمپنیوں میں سے ایک ہے، صرف سام سنگ اور ہواوے ہی اس سے زیادہ فونز فروخت کرتی ہیں۔

عالمی سطح پر شیاؤمی کا مارکیٹ شیئر 13.1 فیصد ہے اور وہ ایپل سے بھی زیادہ فونز فروخت کررہی ہے۔

دوسری جانب سے شیاؤمی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کی جانب سے تمام امریکی قوانین و ضوابط کی پابندی کی جارہی ہے اور اس کا چینی فوج سے کوئی تعلق نہیں۔

بیان میں کہا گیا 'کمپنی اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ اپنی مصنوعات اور سروسز شہریوں اور کمرشل استعمال کے لیے فراہم کرتی رہے گی۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ چینی فوج کی ملکیت، زیرتحت یا منسلک نہیں اور نہ ہی کمیونسٹ چائنیز ملٹری کمپنی ہے۔

ہواوے کو جس فہرست میں بلیک لسٹ کیا گیا ہے وہ ہواوے سے مختلف ہے۔

ہواوے امریکی محکمہ تجارت کی فہرست میں شامل ہے، جس کے تحت امریکی کمپنیوں کو اس کے ساتھ کاروبار سے روکا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ حالیہ ہواوے فونز میں گوگل پلے اسٹور یا امریکی پراسیسرز موجود نہیں۔

اس فہرست میں ہی زی ٹی ای بھی ہواوے کے ساتھ شامل ہے، ہواوے پر پابندیوں کی وجہ یہ ہے کہ اس کے کاروبار کا بڑا حصہ ٹیلی کمیونیکشن آلات جیسے 4 جی اور 5 جی نیٹ ورکس کی تشکیل میں مدد دینے والے آلات ہیں۔

ان ٹیلی کمیونیکشنز آلات کو ٹرمپ انتظامیہ نے قومی سلامتی کے لیے خطرہ رار دیا ہے، جبکہ شیاؤمی کی جانب سے کنزیومر الیکٹرونکس مصنوعات فروخت کی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے ممکنہ طور پر اسے زیادہ سخت پابندیوں والی فہرست کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

امریکی محکمہ دفاع کی اس فہرست کو 1999 میں تشکیل دیا گیا تھا جسس کا مصد چینی فوج سے منسلک یا زیرتحت کمپینوں کو شامل کرنا تھا۔